ہمارے بیچ کی گائیں

محمد حنیف

Image result for Mohammed Hanif

کراچی ، دوسرے لوگوں کی طرح میرے دادا کے پاس بھی اس سوال کا آسان سا جواب تھا کہ بھارت سے پاکستان کو آزادی حاصل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ علیحدگی کی اصل وجہ کیا تھا۔ وہ بتاتے تھے کہ مسلمان اور ہندو اس لیے اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے کہ وہ کچن میں پکائی جانے والی کچھ چیزوں پر متفق نہیں تھے، ہندو گائے کی پوجا کرتے تھے او ر ہم گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ اس طرح کے دو مختلف مذاہب کے لوگ کیسے اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ میرے دادا کو یہ بات یاد نہیں رہتی تھی کہ بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

وہ اس بات کو بھی نظر انداز کرتے تھے کہ بہت سے ہندو بھی گائے کا گوش کھاتے ہیں اور جو اس کی پوجا کرتے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے وہ بھی گائے پال کر ان لوگوں کو بیچنے میں عار محسوس نہیں کرتے جنہیں گائے کا گوشت پسند ہے۔ لیکن ۷۰ سال بعد ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے میرے دادا کی اس تھیوری کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی نے گجرات میں ایک قانون پاس کیا ہے جس کے مطابق گائے زبح کرنےو الے کو پھانسی اور گائے کو مذبح خانے لے جانے والے کو 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف گائے کے رکھوالے اپنے طریقے سے انصاف بانٹتے نظر آتے ہیں۔ اس افواہ پر کہ فلاں نے اپنے فریج میں گائے کا گوشت رکھا ہے لوگ اس شخص کو مکوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ اسی ہفتے راجھستان کے علاقے میں ایک مسلمان شخص کو گائے لے جانے پر تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔ یو پی جو بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے وہاں کئی ہزاروں لوگ مذبح خانوں کے خلاف حکومتی تحریک کے سلسلے میں بیروزگاری کا سامنا کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ کچھ عرصہ تک تو لکھنو کے چڑیا گھر میں شیروں اور چیتوں کو بھی مرغی کھلائی گئی۔

ہم کیا کھاتے ہیں اور کیا نہیں اس چیز سے ہمارے تعصبات اور منافقت واضح ہوتی ہے۔ بہت سے مسلمان شراب نوشی کو حرام سمجھتے ہیں لیکن بہت سے ممالک میں آپ مسلمانوں کو شراب پی کر حلال کھانا ڈھونڈتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ مسلماں خود شریعت کے قوانین کی جو مرضی خلاف ورزی کریں لیکن اگر کوئی انہیں سور کے گوشت والا سینڈوچ پیش کرے تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں۔ گوشت کھانے کا تعلق صرف ہمارے مذہب سے نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں پرانی ایک مِتھ ہے۔

پاکستان میں پچھلے سال بہت سے چینی ورکر آئے تو ملک میں ایک نیا لطیفہ سنایا جانے لگا۔ لوگ کہتے کہ اپنے کتوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دینا کہ چینیوں کو کتوں کا گوشت بہت پسند ہے۔ ملک میں قدیم زمانے اور سوچ کے مطابق قوانین اور عدالتی احکامات کے باوجود ہرسال پاکستانی حکومت غیر ملکی وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو ہوربارا بسٹرڈز کا شکار کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ مارچ کے آخری ہفتے میں ایک ہجوم نے نائیجیریا کے طلبا کو دہلی میں اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ انہیں انسانی گوشت کا ذائقہ پسند ہے۔ پاکستان کے مقبول تصور کے مطابق جو مسلمان ہمیشہ بھارت میں اقلیت میں تھے اور اب بھی ہیں، وہ اس ملک پر ایک عرصہ تک حکومت کر اس لیے کر پائے کہ انہوں نے گوشت کھا کر اپنے آپ کو مضبوط کر رکھا تھا۔ آنتیں کھانے والے لوگ کباب کھانے والوں کا کہاں مقابلہ کر سکتے تھے۔

دوسروں کے لیے یہ ایک انیتھما (قابل نفرت)ہے۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو اس عقیدے کے ساتھ جیتے ہیں کہ گائے ایک مقدس جانور ہے۔ کیا آپ اپنی مقدس ماں کی بوٹی بوٹی اور قیمہ کے ٹکڑے آگ پر رکھے ہوئے تصویر لے سکتے ہو؟ ہم بچپن سے یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک چیز جو دوسروں کے لیے مقدس ہے وہ کسی اور کے لیے سزا بھی بن جاتی ہے۔ پھر اس میں سیاست بھی آ جاتی ہے۔ ایک ہی سیاسی جماعت یعنی بی جے پی جو ایک ریاست میں گاو رکشکوں کی حفاظت میں لگی ہے دوسری ریاست میں ووٹ مانگتے وقت وعدہ کرتی ہے کہ وہاں کے مسلمان آزادی سے گائے کا گوشت کھا سکیں گے۔

بارڈر کے دوسری طرف یعنی پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے عوام نے علیحدہ ملک کا مطالبہ ہی اسی لیے کیا کہ وہ گائے کا گوشت کھا سکیں اور کوئی ان پر گوشت کھانے کے جرم میں حملہ نہ کر سکے۔ لیکن بہت سے پاکستانیوں کے لیے گوشت ایک دعوت سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ انہیں سال میں صرف ایک بار گوشت کھانے کو ملتا ہے یعنی عید الاضحی پر جب تقریبا تمام مسلمان گائے، بکری، اونٹ اور دوسرے جانوروں کی قربانی کرتے اور یہ گوشت غریبوں میں بانٹتے ہیں۔ چکن کے انڈسٹریل پروڈکشن سے قبل لوگ مرغی کا گوشت صرف اسی وقت کھاتے تھے جب کوئی مرغی بیمار ہو جاتی یا جب ڈاکٹر مریض کو مرغی کا گوشت کھانے کی ہدایت کرتا تھا۔

کروڑوں لوگوں کے لیے آج بھی گوشت ایک لگژری کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک کمائی کا ذریعہ ہے۔ بھارت اور پاکستان کے شہری علاقوں میں گائیں ہی عوام کے سب سے اہم اثاثے قرار دی جاتی ہیں۔ لوگ ایک چھوٹی سی بھینس یا گائے پال کر اس کا دودھ بیچ کر اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورا کرتے ہیں اور جب یہ بوڑھی ہو جائے تو اسے ایک قصائی کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ اس طرح یہ جانور انسانوں کے لیے ایک سیونگ اکاوںٹ قرار دیے جاتے ہیں۔

لیکن مذہب کے نام ہر یا پھر مذہب سے ناواقفیت کی بنا پر ہم میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو اس چیز پر راضی کر لیتے ہیں کہ گائے کا ہماری پلیٹوں پر موجود چمچ اور کانٹے سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ میں واٹر بفلوز کے ساتھ رہ کر بڑا ہوا ہوں لیکن پھر بھی جو لوگ ان کا گوشت کھاتے ہیں وہ مجھے درندہ صفت لگتے ہیں۔ لیکن گائے کا گوشت کھاتے وقت مجھے کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی خاص طور پر جب گوشت لذیذ بنایا گیا ہو۔

شاید اگر گائیں انسانوں کو کھاتیں تو دنیا ایک اچھی جگہ کہلاتی۔ کم از کم وہ انسانوں کو کھانے سے قبل آسمانی سزاوں اور ثقافتی معاملات پر تو نہ الجھتیں۔ وہ بس یہی کہتی: مجھے بھوک لگی ہے۔ میں ایک انسان کھانے لگی ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *