لال پیلے بابا! آپ ہر کسی کو بیوقوف نہیں بناسکتے

syed arif mustafa

عیار آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے سوا سب دنیا کو بیوقوف سمجھتا ہے اوربےتکان و بےلگام اپنی جعلسازی دروغ گوئی اور مکاری کوجاری رکھتا ہے لیکن یہ عظیم قول وہ بھول جاتا ہے کہ "آپ کبھی کبھی اور کسی کسی کو تو وقتی طورپہ فریب دے سکتے ہیں لیکن سب کو اور ہروقت بیوقوف نہیں بناسکتے "،،،، یوں لگتا ہے کہ یہ بات شاید عامر لیاقت المعروف 'لال پیلے بابا' کو بھی معلوم نہیں ،،، لیکن وہ کم ازکم اس محاورے سے تو واقف ہونگے کہ جس میں سیانے کؤے کے نصیب میں بہرطور ناقابل بیان قسم کی غذا ہی آتی ہے ،،، اب انکی اسی سیان پتی کی آڑ میں کی گئی حماقت تو دیکھیئے کہ ایک طرف تو وہ بول میں اپنے مضحکہ خیز شو میں جنرل راحیل شریف کی تعریفوں کے پل باندتے نہیں تھکتے تو دوسری طرف 8 اپریل کو انہی کو معمولی سا جنرل ٹہرانے والے گورنرسندھ محمد زبیر صاحب کی حمایت میں لمبا چوڑا سا بھاشن دینے سے بھی باز نہیں آئے ،، کوئی پوچھے کہ یہ دوغلا کھیل آخر وہ کیوں کھیل رہے ہیں اور ایک انگریزی محاورے کے بموجب ایک ہی سانس میں گرم اور ٹھنڈی پھونکیں مار کے وہ کس کو بیوقوف بنارہے ہیں ،،،؟؟

بول پہ اپنے بل بتوڑے شو میں انہوں نے بجائے گورنرسندھ سے پوچھنے کے ، کہ محترم آپنے جنرل راحیل شریف کے کراچی آپریشن کا سارا کریڈٹ انکے بجائے نواز شریف کی جھولی میں کیونکر اور کیسے ڈال دیا ۔۔۔؟؟ الٹا وہ جیو کے طلعت حسین کے پیچھے پنجے جھاڑ کے پڑگئے کہ انہوں نے اس متنازع اور سنگین بیان کی بابت گورنر سندھ سے کیوں پوچھا کیونکہ وہ تو کہ چکے ہیں کہ میڈیا نے انکے بیان کو توڑ مروڑ کے پیش کیا ہے ،،،، جبکہ کوئی اس ڈیڑھ ہوشیار سے کوئی یہ پوچھے کہ کیسی توڑ اور کہاں کی مروڑ یہ سارا بیان تو گورنر نے ڈھیرسارے ٹی وی کیمروں کے سامنے خود اپنی تقریر میں دیا تھا کہ جس کا ہر ہر لفظ ریکارڈ پہ موجود ہے تو پھر کوئی بھی شاطر سے شاطر بندہ بھی اب اپنے طور پہ اس میں سے کچھ الفاظ کم یا زیادہ کیسے کرسکتا ہے اور یہاں سوال یہ ہے کہ کون واقف نہیں کہ فوج کی طرف سے جھاڑ پڑنے کے خطرے کی وجہ سے گورنرسندھ اب اپنی خفت مٹانے کیلیئے اپنی ان خود کہی باتوں کے گولے کو خود ہی نگلنے پہ مجبور ہیں اوراگر اس بات پہ جیو نے انکی خبر لی تو یہ کام توعین راحیل شیف کی توقیر کی خاطر کیا گیا تھا اب اس پہ بھی معترض ہونے کا ،مطلب تو یہ ہے کہ ہرکسی کو یہ کھلا لائسنس دیدیا جائے کہ پہلے منہ بھرکے جو ہفوات بکنی ہیں بک لو پھر سوری سوری کر ڈالو یا پھر یہ داؤ لگاؤ کہ میرے بیان کو توڑمروڑ کے پیش کیا گیا ہے،،،

جہانتک دیومالائی داستان والی بات کا بتنگڑ بنانے کا معاملہ ہے تویہ بات تو طلعت حسین نے جواباً اور طنزاً کہی ہے کہ جناب پہلے تو خود آپکی ہی حکومت انکی تعریفوں کے پل باندھتی تھی اور انکے کارناموں کی بابت دیومالائی داستان سناتی تھی ،،، اور اب آپ ہیں کہ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ وہ عا،م سے جنرل تھے دیومالائی نہیں تھے تو یہ تو طلعت نے راحیل شریف کے دفاع میں گورنرسندھ کو ایک طعنہ مارا ہے انکی حکومت کی سابقہ قصیدہ گوئی کے تناظر میں ۔۔۔ اسی طرح بجا طور پہ طلعت نے راحیل شریف کی طرف سے میڈیا کو مینیوور کرنے والی بات بھی اسی تناظر میں کہی ہے کہ ہے کہ انہوں نے آپریشن ضرب عضب کو موثر بنانتے کے لیئے میڈیا کو ایک واضح احتیاطی گائیڈ لائن فراہم کی تھی اور میڈیا والوں سے آئی ایس پی آر کے ذریعے قریبی رابطے رکھ کے انہیں کیمرے اور قلم کو منفی استعمال سے اجتناب کرنے کی طرف بحسن و خوبی مائل کیا اور پھر اسکو یقینی بھی بنایا ،،،، اور اسی احتیط اور توازن پہ مبنی حکمت عملی کی وجہ سے سب اسٹیک ہولڈرز یا اہل معاملہ کو ایک ہی پیج پہ لایا جاسکا

،،، جہاں تک لال پیلے بابا کی جانب سے راحیل شریف کی تعریفوں کا طومار کھڑاکرنے کی حالیہ کوششوں کا تعلق ہے تو یہ مشقت بھی آپکی طرف سے سب ناظرین کو بیوقوف سمجھنے والی ذہنیت کی غماز ہے ،،، لیکن لوگ ایسے پاگل یا غائب دماغ تھوڑی ہیں کہ یہ بھول جائیں کہ اب آپ جس جنرل راحیل کی عظمتوں کے قصائد پڑھ رہے ہیں اور اسکے نہایت عظیم خاندانی پس منظر کو بتا رہے ہیں توگزشتہ برس آپنے جیو پہ اپنے پروگرام میں ہی یہ متکبرانہ دعویٰ کیا تھا کہ راحیل شریف کو راحیل شریف میں نے بنایا ہے ،، یعنی باالفاظ دیگر ان جنرل موصوف میں خود تو کوئی ایسی خاص صفت یاغیرمعمولی بات نہ تھی کہ وہ اپنے طور پہ نمایاں ہوسکتے لیکن یہ عامرلیاقت نامی بقراط ہی تھا کہ جسنے ایک معمولی سے فوجی کو اپنی لفاظی اور بل بتوڑے پن کی بدولت عظیم راحیل شریف بنادیا ،، درحقیقت دیکھاجائے تو اس سے زیادہ راحیل شریف کی توہین اور تذلیل کسی نے کبھی بھی نہیں کی ہوگی کہ جیسی عامر لیاقت نے یہ بات کہ کر کی کہ راحیل شریف کو راحیل شریف میں نے بنایا ہے ،،، ( ویڈیو کلپ منسلک ہے ) -

یہاں انکی اس خاص تکلیف کا ذکر کرنا بھی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ آخر انہیں طلعت حسین سےکیوں چڑ ہے ،،، لیکن ہم کیا بتائیں تکلیف کی اصل وجہ تواسی پروگرام میں خود لال پیلے بابا کی اپنی زبان سے عیاں ہوگئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ماضی میں طلعت حسین نے مختلف چینلوں پہ اپنے پروگرام میں انہیں دو نمبری کہا تھا ،،، انکے اس ریفرنس سے تو ہم پہ طلعت حسین کی مردم شناسی کی چھپی صلاحیتیں ظاہر ہوتی ہیں ،،، لال پیلے بابا کو دوسری تکلیف اس وجہ سے ہے کہ طلعت حسین ہی وہ پہلا شخص ہے کہ جسنے جیو کی ملازمت میں آنے سے بھی قبل ایک چینل پہ یہ کہنے کی جرآت کی تھی کہ ایک پروفیشنل کی حیثیت سے وہ گواہی دیتے ہیں کہ عامرلیاقت کی جو فحش گوئی والی بیہودہ ویڈیو کلپس منظر عام پہ آئی ہیں وہ جعلی نہیں ہیں اور تکنیکی طور پہ اور پروفیشنلی بالکل درست ہیں اور اس پروگرام میں انہوں نے اسکی تکنیکی وجوہات بھی بطوردلیل بیان کی تھیں ،،، مزیدار بات یہ ہوئی کہ اپنے 8 اپریل کے اس پروگرام میں یہ چغد اعظم جوش غضب میں ان ویڈیوکلپس کی سچائی کو بھی تسلیم کربیٹھے اور فرمایا کہ انہیں کیمرہ مین نے دھوکا دیا اور انکی نجی گفتگو چپکے سے ریکارڈ کرلی ،،،

اس موقع پہ اس کو دھوکے بازی کی مثال باور کراتے ہوئے انہوں نے اسے بیت الخلاء میں خفیہ کیمرے سے ریکارڈنگ جیسی بھونڈی تشبیہ بھی دی اور اس بے تکی مثال سے موصوف کی بےعقلی بالکل عیاں ہوگئی کیونکہ عیاری و مکاری میں طاق بننے کی کوشش کرنے والے کبھی ایسے ہی احمق اور عقل سے پیدل ثابت ہوتے ہیں ،، سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک مذہبی پروگرام عالم آن لائن کے سیٹ کو بیت الخلاء سے تشبیہ دے رہے تھے کیونکہ انکی گالیوں اور مغلظات و فواحش سے لبریز کئی ویڈیو کلپس تو اسی مذہبی پروگرام کے سیٹ پہ ریکارڈ کی گئی ہیں کہ جہاں ریکارڈنگ کے وقفے میں نہ تو انہوں نے موضوع کی عظمت کاذرا لحاظ رکھا اور نہ ہی ماحول کے تقدس کا پاس رکھا اور ایک نیچ اور کسی خاص علاقے کے دلال کے سے انداز میں وہ ایک مذہبئی پروگرام کے سیٹ پہ ریکارڈنگ کے وقفوں میں بلاتکان گالی گفتار اور فحش گفتگو کرتے دیکھے اور سنے گئے ،،، جس صآف پتا چل جاتا ہے کہ دین سے رغبت اور محبت تو کیا ، انکے پاس تو اسلامی موضوعات کے لیئے کسی تعظیم کا چلن بھی موجود نہیں اور نہ ہی انکے ضمیر میں اس حوالے سے ادنیٰ سی بھی ندامت کا کوئی احساس ہے ،،، انکی جگہ کوئی اور ہوتا تو ان سنگین غلطیوں کا احساس ہوتے ہی شرم سے ڈوب کے مرجاتا ،،، لیکن عامر لیاقت جیسے منافقین کی خاص صفت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ شرم اور ندامت جیسے 'فضول احساسات سے یکسر عاری ہوتے ہیں ،،، لیکن چونکہ یہ کوئی عام سی سیاسی بات نہیں تھی بلکہ ایک دینی پروگرام کے سیٹ پہ بکی جانے والی مغلظات اور فحش گفتگو کا معاملہ تھا چنانچہ عوام نے نہ صرف اس بات کو نہیں بھلایا ہے بلکہ اب وہ انکی عیارانہ گفتگو سنتے ہی اس چینل سے یہ کہتے ہوئے ہجرت کرجاتے ہیں کہ "ایسے نہیں چلےگا۔۔۔ بالکل نہیں چلےگا"

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *