ظرف

madeeha-riaz

جب وہ اٹھارویں سن میں لگی تو اسکی ماں کو اسکے رشتے کی فکر ستانےلگی -اوراسکی ماں جسکا حلقہ احباب نہ ہوے برابر تھا اب اسنے اپنی بیٹی
کے رشتے کی خاطر وسیع کرنا شروع کر دیا -اور اس کی ماں اب اسے ہرآنے جانے والے سے اچھے اخالق سے پیش آنے کی تلقین کرتی رہتی -اب اس
کے گھر کبھی رضیہ خالہ تو کبھی رشیدہ خالہ تشریف الرہی ہیں -اس کی ماںنے تو اب ان رشتے داروں سے بھی ملنا مالنا شروع کر دیا جن کے بارے میں
نہ اس نےپہلے کبھی سنااور نہ کبھی دیکھا-اماں کی ان سب حرکات کے پیچھے جو محرکات تھے. وہ تھی اسکی شادی -کیونکہاس کے ساتھ کی کچھ لڑکیاں ٹکانے لگ گئیں کچھ اس کی طرح ابھی تک اپنیماؤں کے سینے میں مونگ دل رہیں تھیں -اب اماں کو اس کے رشتے کی فکر ستانے لگی اور یوں اماں نے ہر جاننے والی خاتون سے اس کے رشتے کیکہیں بات چالنے کو کہا -اور پھر رضیہ خالہ کے توسط سے اس کا ایک اچھیجگہ رشتہ ہو گیا اور یوں اپنے پیا دی سدھار گئی -شادی کے سال بعد اللہ تعالینے اسے اوالد جیسی نعمت سے نوازا - ایک طرف تو اسے خوشیملی تو دوسری طرف غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا -چڑھتی جوانی میں بیوگی کی چادراوڑھنی پڑ گئی -اور یوں اسے دوبارہ اپنی ماں کے گھر آنا پڑا اپنے ننھے سےبچےکے ساتھ -بیوگی کے سال بعد اس کی ماں نے اس کے لئے دوبارہ رشتے کیتالش شروع کروا دی -اس کے لئے کسی رنڈوے مرد کا رشتہ آیاجسےاپنے چار بچوں کے کی پرورش کے لئے کسی خاتون کی ضرورت تھی -اور پھر اسے اپنے دوسرے شوہر کے بچوں کی پرورش کے لئے اپنے بچےکی قربانی دینا پڑی کیونک اس کے دوسرے شوہر نے اس کے بچے کو باپ کیشفقت محبت مان اور اپنے گھر میں جگہ دینےسے سے انکار کردیا تھا- اور یوں اسے اپنا بچہ اپنیماں کے گھر چھوڑنا پڑا-بحیثیت ایک خاتون میرا اس معاشرے سے سوال ہےکہ اگر مرد اپنے بچوں کی پرورش کے لئے دوسری عورت سے شادی کرسکتا ہے تو عورت کیوں نہیں ?عورتوں کو اگر دوسری شادی کرنا پڑ ے تو انکو اپنے پہلے شوہر کے بچوں کو کیوں چھوڑنا پڑتا ہے ? کیا دوسری عورتکی اولاد کو پالنا عورت کے لئے اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کسی مرد کے دوسرےمرد کے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھنا مشکل ہے کیا صرف عورتوں میںہی ظرف ہے کہ وہ اس مشکل کام کو ہنسی خوشی کر گزریں ?کوئی مرد اتنااعلی ظرفی کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟مگر شائد میں غلط ہوں -مظاہرہکرنے کے لئے ظرف کا ہونا شرط ہے تو پھر مجھے یہ کہنے دیجیئےکہ عورتہر حال میں مرد سے زیادہ ظرف والی ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *