دہشت گردوں کی مالی معاونت

ڈاکٹراکرام الحقikram

دھشت گردی کی اصطلاح کی قابلِ قبول تشریح’’ سیاسی مقاصدکے لیے تشدد کا استعمال‘‘ ہے۔ قومی اور عالمی سطح پر اداروں کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسے تقویت دینے کے لیے فراہم کی جانے والی فنڈنگ کو کیسے روکا جائے؟دھشت گردی کے لیے فنڈنگ قانونی مالیاتی نظام سے مربطوط ہے ، اس لیے اس کا باریک بینی سے جائزہ لیے بغیر انتہا پسندی، دھشت گردی اور تشدد پسندی، جن کی وجہ سے سیاسی اورآئینی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں، کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاسکتا۔ اس سیاسی اور آئینی نظام کو انسان نے بہت طویل جدوجہد اور تجربات کے بعد ترقی دی ہے، اس لیے اس کا تباہی سے دوچار ہوناانسانیت کا عظیم سانحہ ہوگا۔
کالے دھن کو سفید کرنے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی غیر قانونی سرگرمی شامل ہوتی ہے، لیکن دھشت گردی کو فراہم کیے جانے والے فنڈز غیر قانونی ذرائع سے نہیںآتے۔ انہیں فلاحی تنظیموں اور جماعتوں کے نام سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کوئی قانونی نظام ایسی تنظیموں کو عطیات دینے سے منع نہیں کرتا۔ اس سے دھشت گردی کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کا کھوج لگانا انتہا ئی مشکل ہوجاتا ہے۔ دھشت گردی کے لیے فراہم کی جانے والی رقم کی انفرادی مقدار اتنی کم رکھی جاتی ہے کہ وہ منی لانڈنگ کے زمرے میں نہیں آتی۔ چونکہ اُن ممالک، جو زیادہ تر دھشت گردی کاشکار ہیں، میں منی لانڈرنگ روکنے کے ذرائع زیادہ طاقت ور اور منظم نہیں، اس لیے دھشت گردی گروہوں کو فراہم کی جانے والی رقوم کا سراغ نہیں لگایا جاسکتا۔ ضروری ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ادارے ایسی فنڈنگ کا سراغ لگانے کے لیے ان ممالک کی مدد کریں۔
دھشت گردی اور منی لانڈرنگ ، دونوں کی وجہ سے عالمی امن اور سکیورٹی کا شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کی وجہ سے سیاسی اور مالیاتی نظام بھی تباہ ہوسکتا ہے۔ یہ دونوں برائیاں دنیا میں شروع سے ہی موجود رہی ہیں لیکن نائن الیون کے بعد ان میں بے انتہا اضافہ اور شدت دیکھنے میں آئی ۔ عالمی برادری بہت کوشش کررہی ہے کہ ان کے آگے بندھ باندھا جاسکے لیکن تاحال کسی بڑی کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ۔ دھشت گردوں کے حامیوں کا دائرہ اس طرح پھیلاہوا ہے کہ ان کی طر ف سے آنے والی رقوم کا کھوج لگانا مشکل ہے ۔ جیسا کہ پہلے کہاہے، انتہا پسند فلاحی اداروں کی آڑھ میں فنڈز حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کاانڈر گراؤنڈ نیٹ ورک بھی ہے۔ وہ جرائم ، جیسا کہ منشیات فروشی اور اغوابرائے تاوان کے ذریعے رقوم حاصل کرتے ہیں۔ اب مسلہ یہ ہے کہ جب تک یہ ذرائع بند نہیں کردیے جاتے، دھشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
امریکہ اور اس کے اتحادی دھشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں۔ اب جبکہ امریکی افواج افغانستان سے انخلا کررہی ہیں، وہ حتمی کامیابی کا دعویٰ نہیں کرسکتیں۔ تیرہ سال جنگ کرنے کے بعد ایسالگتا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دھشت گردی، جنہیں تباہ کرنے آئے تھے، کے سامنے سرجھکا کر واپس جارہے ہیں۔القاعدہ، طالبان اور داعش بہت موثر فنڈنگ سسٹم رکھتے ہیں۔ ان کی فنڈنگ کے مراکز افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور کچھ عرب ممالک میں موجود ہیں۔ جس دوران امریکی اور ایساف فورسز ان کے خلاف فائر پاور کا مظاہرہ کرتی ہیں، انہیں ملنے والی رقوم کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ وہ اس ضمن میں کم از کم کوئی بڑی دعویٰ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ درحقیقت اس مسلے کا عالمی انٹیلی جنس اداروں نے اچھی طرح جائزہ نہیں لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی فائرپاور سے انتہا پسندوں کا خاتمہ کردیں گے اور پھر ان باتوں کی اہمیت باقی نہیں رہے گی کہ انہیں کون فنڈزفراہم کرتا ہے اور کون نہیں۔ تاہم آج تیرہ سال بعد اُنتہا پسندی اور دھشت گردی اپنی جگہ پر پوری تونائی سے موجود ہے لیکن امریکی ہمت ہار چکے ہیں۔ چونکہ دھشت گردوں کو ملنے والی رقوم کا راستہ نہیں روکا جاسکا ، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی صفوں میں شامل کررہے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے طالبان، القاعدہ اور داعش کے اہداف مغربی ممالک نہیں بلکہ پاکستان، افغانستان ، انڈیا ، شام اور عراق ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے کچھ علاقوں کو بھی شدت پسندوں سے خطرات لاحق ہیں۔اب ان ممالک کوسوچنا ہے کہ اگر وہ دھشت گردی کا تدارک چاہتے ہیں تو اُنہیں وہ غلطی نہیں دہرانی چاہیے جس کا ارتکاب امریکہ اور مغربی طاقتوں نے کیا تھا۔ انہیں فائر پاور استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انتہا پسند گروہوں کو کسی بھی طریقے سے ملنے والی رقوم کی روک تھام کرنی ہے۔ اس کے بغیر وہ یہ جنگ نہیں جیت سکیں گے۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ گروہ اور تنظیمیں کہاں سے فنڈنگ حاصل کرتی ہیں۔
کچھ سوال پوچھے جانے کی ضرورت ہے ...حکومتیں غیر قانونی ذرائع سے رقوم کی نقل وحمل کو روکنے میں سنجیدہ کیوں نہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح رقوم انتہا پسندوں کے پاس جاتی ہیں؟اگر دھشت گردمروجہ بنکنگ کا نظام استعمال کرتے ہیں تو حکومت ان رقوم کا کھوج کیوں نہیں لگا سکتی؟اگر ایسے گروہ حوالہ اور ہنڈی کے ذرائع استعمال کرتے ہیں تو ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو کڑی سزا کیوں نہیں دی جاتی؟سب سے ہم سوال، فنڈنگ کرنے والے افراد کا کھوج کیوں نہیں لگایا جاتا؟ فلاحی کام کرنے والی تنظیموں پر نظر کیوں نہیں رکھی جاتی حالانکہ حکومت جانتی ہے کہ بہت سے شدت پسند گروہ بھی ایسی تنظیمیں رکھتے ہیں؟حکومت یہ بھی جاننے کی کوشش کرے دھشت گرد انتہائی جدید اسلحہ کہاں سے خریدتے ہیں اور اُنہیں اس کا استعمال کون سکھاتا ہے؟یہ سب سوال ہمارے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس جنگ کو لڑنے اور جیتنے کے سوا کوئی آپشن نہیں؟
پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جو دھشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں منی لانڈرنگ کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ درحقیقت ہمارے بہت سے سیاسی اورمالیاتی مسائل کی وجہ بھی منی لانڈرنگ ہیں۔ جب حکومت یہ جانتی ہے تو وہ اس جنگ کو شروع کرنے کے دعوے کرنے کے علاوہ اس ضمن کیا کچھ کیا گیا ہے؟اس ضمن میں حکومت کو بہت سی قانون سازی اور دیگر جماعتوں کاتعاون بھی درکار نہیں کیونکہ اس کے پاس منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 موجود ہے، تاہم اس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا ۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ بنک مشکوک رقوم کی منتقلی کی رپورٹ کیوں نہیں کرتے حالانکہ منی لانڈرنگ ایکٹ کا آرٹیکل ۷ اُنہیں اس بات کا پابند کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم بھی وہی غلطی کررہے ہیں جو مغربی طاقتوں نے کی تھی ۔ تاہم ہمارے پاس شکت کا آپشن نہیں ہے، امریکہ کے پاس تھا، اُنہیں نے منہ موڑ لیا اور یہاں سے چلے گئے۔ ہم کہاں جائیں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *