کیا انڈیا جان بوجھ کر خاموش ہے؟

 سلمان انیس سوز

اسلامی معاملات کے ایک امریکی ماہر نے حال ہی میں یہ بیان جاری کیا: میں بھارت میں شروع ہونے والی ایک مضبوط جہادی تحریک کی عدم موجودگی کو دیکھ کر بہت حیران ہوا ہوں۔ آپ کے خیال میں اس کی عدم موجودگی کی وجہ کیا ہے؟ " میرے پاس اس کا کوئی فوری جواب موجود نہیں تھا۔ اگر آپ کچھ بڑے بھارتی مصنفین کی کمنٹری پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد جہادی کاروائی کا واقعہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے پیش کیا گیا رائٹ ونگ کا سیاسی فلسفہ بہت ہی خطرناک ہے۔ الٹرا نیشنلزم اور حب الوطنی کے ٹیسٹ بہت اہمیت کا حامل بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت میں سب سے بڑی پر تشدد تحریک صرف کشمیری مسلمانوں کی طرف سے جاری ہے جس کا اسلامی ریڈیکلائزیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھار ت میں شدت پسندی نہ بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

گلوبل ٹیررازم ڈیٹا بیس کے مطابق جو یونیورسٹی اور میری لینڈ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، بھارت میں مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم تھے۔ یہ تقابل 2000 سے 2014 کے بیچ یکسر بدل کر رہ گیا ہے۔ جہاں ایس آئی ایم آئی اور انڈین مجاہدین خبروں میں آتے رہے وہاں ان کا امپیکٹ بہت محدود تھا۔ ان گروپوں کی طرف سے کیے گئے حملوں میں 150 سے بھی کم افراد کی اموات واقع ہوئیں۔ اس لیے اس تعداد کی بنا پر ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ ان گروپوں کی طرف سے زیادہ خطرہ درپیش نہیں ہے اور رائٹ ونگ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اس چیز سے باخبر ہیں۔

داعش کے بڑھتے ہوئے رسوخ اور اس کی نوجوانوں کوا پنی طرف راغب کرنے کی صلاحیت بھارت کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے لیکن موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ابھی تک زیادہ تر بھارتی مسلمان داعش سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دی ٹیلیگراف میں شائع ہونے والے ایک تجزیہ کے مطابق 27000 کے لگ بھگ غیر ملکی عراق اور شام میں داعش کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ان میں بھارتی مسلمانوں کی تعداد 23 سے 45 کے قریب ہے۔ بھارت کی کل مسلمان آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

Islamis State

2014 میں شائع ہونے والے ایک مضمون جس کا عنوان: بھارت کے مسلمان اتنے زیادہ ماڈریٹ کیوں ہیں' تھا میں دی اکانوسٹ نے وضاحت کی کہ بھارت کے مسلمان پریشان کن حالات کے باوجود ماڈریٹ ثابت ہو ئے ہیں۔ انہیں کم تر تعلیمی مواقع میسر ہیں، ان کی آمدنی محدود ہے اور سیاست اور سرکاری نوکریوں میں بھی ہندوں کے مقابلے میں ان کے لیے مواقع محدود ہیں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ 1000 سالہ تاریخ میں صوفی اسلام اور جمہوری روایات کی وجہ سے بھارتی مسلمان اعتدال پسند ثابت ہوئے ہیں۔

یہ وضاحتیں کافی نہیں ہیں۔ صوفی اسلام کا اثر جو بھی ہو، یہ بھی سچ ہے کہ آج کے مسلمانوں میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اختلاف ایک فطری رسک مینیجمنٹ مکینزم کا نام ہے جو ہر شدت پسند نظریے کے سامنے رکاوٹ کھڑی کرتی ہے۔ فرید ذکریا جیسے لکھاری حضرات کا کہنا ہے کہ یورپی مسلمانوں کی نسل کی شناخت کھو دینے اور امتیازی سلوک کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں نے داعش کا رخ کر لیا ہے۔ سچار کمیٹی رپورٹ کے مطابق بھارتی مسلمانو ں کو سماجی اور معاشی محرومی کا شکار بنا دیا گیا ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نوجوان مسلمانوں کو کنارے لگا دیا گیا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ دوسری کمیونٹی جیسے دلت، کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ چیز شدت پسندی کو بڑھاوا دینےکا باعث بن سکتی ہے۔

دو معاملات میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ کہ ماضی سے ہم مستقبل کی ضمانت حاصل نہیں کر سکتے۔ مسلم خاندانوں، کمیونٹی لیڈرز اور بھارتی حکومت کی نگرانی بہت ضروری ہے۔ دوسری یہ کہ ہندوتوا اور الٹرا نیشنلزم کی وجہ سے مسلمانوں کی ادارتی مارجنلائزیشن کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ اس سے بھارت کا پلورلزم کے کردار کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ یہ ٹرینڈز بہت خطرناک ہیں اور ان سے بھارت کی سکیورٹی اور خوشحالی کو خطرہ ہے۔

بھارت کے مسلمان شدت پسندی کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو غیر قرار دینے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی بھارت کو اس وقت تک مضبوط نہیں کر سکتے جب تک وہ سب کو ساتھ لیکر نہیں چلیں گے جن میں مسلمان بھی شامل ہوں۔ جتنا جلدی وہ اس چیز کو سمجھ لیں بھارت کہ لیے یہ اتنا ہی بہتر ہو گا۔

http://www.hindustantimes.com/analysis/don-t-push-the-indian-muslim-over-the-edge/story-XubTzZXAmFKa7jCxjqmM2N.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *