پانامہ چاند رات پر ایک کالم!

naeem-baloch1

ہتھنی ڈیڑھ سال بعد بچہ جنتی ہے، فقہ حنفی میں بیوی گم شدہ شوہر کا عمر بھر انتظار کرتی ہے ،ہماری رویت ہلال کو دس بجے رات کے بعد بھی چاند نظر آجاتا ہے جبکہ ہماری عدالت محض ایک سال کے بعد ہی پانامہ کا فیصلہ کرنے والی ہے ، سو دوستو سب پاکستانیوں کو پانامہ رات مبارک ہو !
نون لیگی سوشل میڈیا پر ہوں یا ٹی وی پر ، قسم لے لیں ان کی کسی ادا سے یہ باور ہوتا ہو کہ انھیں فیصلے کی ہلکی سے بھی بھنک ہے !دونوں شریف آج ایک تقریب میں اکٹھے تھے ۔ نواز شریف اپنے روایتی ہشاش بشاش موڈ سے کوسوں دور تھے ،جبکہ شہباز شریف اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے پانامہ کیس کا فیصلہ اگر بیس برسوں تک یاد رکھا جائے گا تو بھکی، حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور سٹیشنز نواز شریف کا وہ تحفہ ہوگا جو قوم چالیس برسوں تک یاد رکھے گی ۔سچی بات ہے دوستو کہ اسی ایک جملے میں ہے ساری داستان خانہ خراب پوشیدہے ۔
یقین کریں کہ اگر وہ نواز شریف کے بجائے مسلم لیگ کا نام لیتے تو آج انھیںیہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ انھوں نے مسلم لیگ کو صرف شریف خاندان ہی سمجھا ، اسی لیے وہ برے وقتوں سے نپٹنے کے لیے اپنے آپ ہی کو مضبوط کرتے رہے ۔اسی لیے کل جو مرضی فیصلہ ہو مسلم لیگ کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں البتہ مائنس شریف فیملی کے چاند کا اعلان ہو سکتا ہے ۔ اور یہ کا رنامہ صرف انھوں نے ہی انجام نہیں دیا آپ مائنس بھٹو ، مائنس عمران ، مائنس الطاف کر کے دیکھ لیں ، سب کا حال برابر ہے ۔ اسی سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے اسٹیبلشمنٹ اصل حکمران کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ مائنس ایوب ، یحییٰ، ضیا، مشرف ، راحیل ہونے بعد بھی اسی قدر توانا ہے جس قدر ان سب کے ہوتے ہوئے بھی! کیونکہ وہ ایک ادارہ ہے ، جاگیر نہیں ، جس دن ہماری کوئی سیاسی جماعت جاگیر سے ادارہ بن گئی پاکستان کی جمہوریت بالغ ہو جائے گی !اور یہ ایک دوسری حقیقت ہے کہ اس کو ادارہ بنانے کے لیے پانامہ کے چاند نظر آئیں یا نہ آئیں ، ان کو برداشت کرنا پڑے گا ۔
جہاں تک پانامہ کیس کے حقائق کا تعلق ہے توفیصلہ جو مرضی ہو،لیکن حقیقت یہی ہے کہ زرداری کے’ پانامہ‘ کا چاند ا تنا بڑا ہے کہ اس کے نظر آنے کے لیے کسی شہادت کی ضرورت ہی نہیں۔ پی ٹی آئی ’جو ہمارے ایک فیس بکی دوست کے الفاظ میں اب ’’ پیٹتی آئی ‘‘ بن چکی ہے ، اس سے یہ پوچھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جمہوری میچ میں’ فوجی ایمپائر ، کو بلانا کس قسم کی کرپشن ہے ؟ آپ کے آس پاس جو چھوٹے موٹے زرداری نما ’’ایمان دار ‘‘ سیاستدان ہیں، ان کی مدد سے آپ جو تبدیلی کا چاند چڑھانا چاہتے ہیں ،ان کی ایمان داری پرکھنے کے لیے آپ کس عدالت پر بھروسا کرنا پسند کریں گے ؟ شیخ رشید سے کوئی پوچھے کہ اس کی کون سی کل سیدھی ہے ؟بوٹ پالش کرنے کے بدلے اگر وہ متعدد دفعہ وزیر بن چکا ہے تو اور اسے مزید کیا چاہیے ؟ اور اس کی کیا گارنٹی ہے کہ انتقام کی آگ ٹھنڈی ہوتے ہی وہ سجدہ سہو ادا کرکے اسی مسلم لیگ کا حصہ نہیں بن جائے گا ؟سراج الحق سے پوچھنا چاہیے کہ ان گنت بے قصور پاکستانیوں کے قاتلوں ، ساری دنیا میں اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے والوں کے سرغنہ اسامہ بن لادن ، بیت اللہ محسود اور دوسرے دہشت گردوں کی کھلم کھلا حمایت کرنا کیا ٹیکس چوری کرنے کے لیے آف شور کمپنیاں بنانے سے کہیں بڑا جرم نہیں ؟
سچ تو یہ ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ معاشی ہے نہ اقتصادی نہ اسلامی ، ہمارا اصل مسئلہ اخلاقی ہے ! اس عدالت میں ہر ایک کا کیس پانامہ ہی کی طرح سنگین ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *