2014ء میں فلسطین میں آنے والی اہم تبدیلیاں

palistine انسانی زندگیوں کے نقصان کے حوالے سے 2014ء فلسطینیوں کیلئے ایک بھیانک سال ثابت ہوا۔2008ء اور2009ء سے بھی بڑھ کریہ برس اہل فلسطین کیلئے بھیانک ثابت ہوا، جب غزہ کی پٹی پراسرائیل سے جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینی مارے گئے تھے۔
جیسا کہ اس تنازعے کے کچھ پہلو ایک بدعنوان اور غیرمؤثر فلسطینی انتظامیہ اوراسرائیلی جنگوں اور قبضے کی مجرمانہ حرکات سے تعلق رکھتے ہیں، یہ دلیل دینا بھی درست ہو گا کہ 2014ء کسی حد تک بازی پلٹنے والا سال بھی ثابت ہوا، اس لئے فلسطین کیلئے ساری خبریں بری نہیں تھیں اورمندرجہ ذیل حقائق اس دلیل کو ثابت بھی کرتے ہیں:
1۔ فلسطین میں پہلی بار ایک بالکل مختلف قسم کا اتحاد پیدا ہوا۔
2۔ مزاحمت کی ایک نئی مثال اور ایک بالکل منفرد ماڈل دیکھنے کو ملا۔
3۔ بائیکاٹ، احتجاج اور پابندیوں کی ایک نئی تحریک سامنے آئی ہے جس نے اسرائیل کے جرائم پر بحث شروع کروا دی ہے۔
4۔ دنیا بھر کے پارلیمانوں نے مسئلہ فلسطین کی حدت کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔
5۔ اسرائیل کی نام نہاد جمہوریت کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے پھوٹ گیا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ وہ حقیقتاً ایک عسکری ریاست ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *