پاناما کیس ،، نمود سحر کی منزل دور نہیں

syed arif mustafa

بات کا آغاز یہاں سے کروں تو بہتر ہے کہ غیرت اور تدبر کی ایک فیصد رمق بھی اگر نواز شریف میں باقی ہے تو انہیں فی الفور اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیئے کیونکہ 5 میں سے دو ججوں کی جانب انہیں مسترد کریئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے دو سییئر ججوں کی جانب سے وہ سیدھے سبھاؤ حسابی فارمولے سے 40 فیصد تو اعلانیہ نااہل اور مجرم ٹہرائے جاچکے ہیں ،،، باقی تین جونیئرججوں‌نے بھی انہیں صاف جانے نہیں دیا ہے اور انکو معصوم نہیں مشکوک قرار دییا ہے اور اسی سبب جےآئی ٹی تشکیل دینے پہ اتفاق کیا ہے ورنہ وہ بالکل دو ٹوک انداز میں لکھ سکتے تھے کہ انکے نزدیک نواز شریف بالکل درست ہیں اور پھر کسی جےآئی ٹی کی ضرورت ہی نہ پڑتی ،،، یہ کریڈٹ تو بہرطور عمران خان کو دینا ہی پڑےگا کہ انہوں نے سلطنت رائے ونڈ کے خودسروں کی بےلگامی کو کسی حد تک نکیل تو ڈالی اور انہیں کورٹ روم تک لاکے بری طرح کھدیڑ ڈالا ، یہ الگ بات کہ اس مقدمے سے بنی گالہ کے مکین کا اپنا ذاتی مفاد بھی جڑا تھا اور اگر یہ وجہ درمیان میں نہ ہوتی تو شاید اس مقدمے کی نوبت بھی کبھی نہ آتی کیونکہ قومی مفاد کے اور بھی بہتیرے معاملے ہیں کہ عدالتوں میں لیجائے جانے کے قابل ہیں لیکن انکی طرف کسی کی یا خان صاحب کی کوئی توجہ نہیں ہے

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی طرف آتا ہوں اور یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ( گو غیرمتفقہ فیصلہ ہی سہی ) لیکن اس طرح کی 'شرمناک اور ادھوری بریت ' کے بعد نواز شریف کے پاس اسکے بعد اقتدار میں رہنے کا کیا اخلاقی جواز باقی رہ گیا ہے کیونکہ ہم تو اپنی عام زندگی میں کسی ایسی مشین ، کیلولیٹر یا کمپیوٹر کو بھی مسترد کردیتے ہیں کہ جو ذرا بھی غلطی کرتا ہو یا مطلوب سے کمتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے ،،، لیکن پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کے اہم ترین منصب پہ فائز شخص اگر 40 فیصد کی شرمناک حد تک بھی چور یا جھوٹا ثابت ہوتا ہو تو اسے ملک کے حساس و ذمہ دار فیصلوں کے لیئے یوں کھلی چھوٹ دیدی جائے ،،، کوئی ذرا بتائے کہ اگر پانچ عاقل و بالغ لوگوں میں سے کوئی کسی مشروب کے بھرے گلاس کو چالیس فیصد تک ناپاک یا ناقابل نوش قراردیتے ہوں اور باقی تین بھی اسے ناپاک نہ سہی لیکن مشکوک تو ٹہراتے ہی ہوں تو کیا کوئی صحیح الدماغ شخص ویسے متنازع مشروب کا ایک گھونٹ بھی لینا پسند کرے گا ۔۔۔؟؟

جہاں تک عدالتی فیصلے کا تعلق ہے تو یقینناً ایک نئی تاریخ رقم ہوئی اور بلاشبہ پاناما کیس کا یہ فیصلہ برسوں تک یاد رکھا جائیگا ،،، یہی ہر لحاظ سے ایک بہترین دستیاب آپشن تھا ،،، کیونکہ کورٹ دوران سماعت، اپنی کئی آبزرویشن میں بار بار یہ کہ چکی تھی کہ دونوں جانب سے قابل قبول شواہد پیش نہیں کیئے گئے ییں اور اسکی اس بات کو کسی بھی فریق کی جانب سے چیلنج تک نہیں کیا گیا تھا کہ 'نہیں جناب ،،یہ کیا کہ رہے ہیں آپ ، ہم نے تو یہاں نہایت قابل قبول شواہد کا ڈھیر لگا دیا ہے" بلکہ اسکے بجائے ہوتا یہ رہا کہ ایسے ہر موقع پہ دونوں طرف کے وکلاء محض مسکراکے یا کھسیاکے دائیں بائیں‌ دیکھنے لگتے تھے اور انہیں یہ بات وہاں پہ برملا ء چیلنج کرنے کا یارا ہی نہ ہوتا تھا ، اور وہ چیلنج کرتے بھی تو کیسے ،، کیونکہ حقائق تھے بھی تو یہی ۔۔۔۔ محض اخباری مضامین اور بیانات کے پلندوں اور تھدوں کو ( خواہ وہ ہزاروں کی تعداد میں بھی کیوں نہ ہوں) دنیا بھر کی کسی عدالت میں بطور شہادت قبول نہیں کیا جاتا جبکہ عدالتوں کے فیصلوں کا زیادہ تر بلکہ تمامتر انحصارہی شواہد پہ ہوتا ہے تو ایسے میں اگر یہ بولڈ فیصلہ بھی آگیا تو بہت ہی غیرمعمولی بات سمجھیئے اور پھر اب دو مہینے کی تو بات ہے سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہورہے گا-

ایک اچھی بات اس فیصلے میں یہ ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں پرانی روایت کے برعکس وقت ضائع کرنے والی نہیں بلکہ ایک بامعنی تحقیقات کو یقینی بنانے کا اہتمام کیا گیا ہے اور جو جےٹی تجویز کی گئی ہے اس میں دو انتہائی پروفیشنل عسکری ایجینسیوں یعنی ایم آئی اور آئی ایس آئی جیسے متحرک و سرگرم اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے اور تحقیقات کی ضمن میں انہیں ایک واضح ٹائم فریم ہی نہیں دیا گیا بلکہ ہردو ہفتے بعد اس عدالت کے سامنے اپنی کارکردگی کی جانچ کرانے کا بھی پابند کیا گیا ہے ،،، گو کہنے کو تو اس جےآئی ٹی کی سربراہی ایک سول ایجینسی یعنی ایف آئی اے کے کو سونپی گئی ہے لیکن اگر خدانخواستہ وہ چاہیں بھی تب بھی عملاً وہ ان دو عسکری اداروں کے سامنے کسی بھی طرح کی بدعملی کی ہمت ہی نہیں کرپائیں گے کیونکہ تاریخی طور پہ سول اور عسکری اداروں کے آمیزے میں یا سول افراد کا کردار محض برخوردارانہ ہی رہتا دیکھا گیا ہے - اور پھر ایک بات یہ بھی تو ہے جو بڑی خوش آئند ہے ججوں کی جانب سے متقہ طور پہ تشکیل دی گئی اس جےآئی ٹی کی نسبت سے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی و ذہانت سے اس معاملے میں بالواسطہ طور پہ فوج کو ایک واضح کرداردیدیا ہے اور یوں اس قضیئے کے حل کو کو پوری طرح فوج کی اہلیت اور ساکھ سے جوڑدیا گیا ہے

ایک اہم بات یہ بھی عرض کردوں کہ کئی ماہ پہ محیط اور 35 سماعتوں پہ مشتمل اس طویل عدالتی کارروائی کی پیچیدگیوں کے مقابل دونوں طرف سے پیش ہونے والے وکلاء اپنے بھاری بھرکم ناموں اور قانونی پہاڑ جیسی شہرت کے برعکس یکدم بونے ثابت ہوئے ،، اور نوبت یہ آئی کہ دونوں جانب سے بار بار وکلاء تبدیل کیئے گئے ،،، پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے تو ایک موقعہ پہ ججوں کے سوالات کی پیچیدگیوں سے عاجز آکر یہ کہ کر ہتھیار ڈالدیئے اور جان چھڑانے کی کوشش کی کہ ' میں تو اسٹپنی ہوں" اصل وکیل تو حامد خان ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے تو انہیں جلد ہی فارغ کردیا تھا اور وہ بھی نکلنے ہی میں عافیت پاکے بگٹٹ بھاگ نکلے- چونکہ میں صحافی ہونے کے علاوہ خود بھی ایک قانون دان ہوں لہٰذا مجھے یہ جان کے بڑی حیرت اور ندامت ہوئی کہ پاکستانی قانون میں بھی قانون شہادت کی مکمل اور واضح تشریح اور وضاحت موجود ہونے کے باوجود ان 'عظیم' وکلاء کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ قابل قبول شہادت کیا ہوتی ہے اور اس سلسلے میں کس نوع کا مواد عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیئے ،،، مجھے تو یوں لگا کہ جیسے یہ حضرات قانون شہادت کی کلاسوں سے غیر حاضر رہتے رہے ہوں ،،،

ماضی میں یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ ہمارے کئی جج حضرات بھی ماضی میں کئی مقدموں کی سماعت کے دوران ایسی بےتکی اور فضول آبزرویشن اور ریمارکس دیتے رہے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ یہ کسی لائق و فاضل منصف کی جانب سے دیئے گئے ہیں ،،،لیکن نہایت شکرو اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس مقدمے میں ججوں کی پرفارمنس بہت معیاری رہی اور انکی آبزرویشنز بھی ٹودی پوئنٹ ہی رہیں اور وہ خودنمائی اور زود گوئی کا شکار نہیں ہوئے - جہانتک وکلاء کا معاملہ ہے تو یہ لازم ہے کہ اب پاکستان بار کونسل قانونی مہارت کے اس زوال کا بھی نوٹس لے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ شہادت جیسے بنیادی قانونی معاملے پہ بھی اس قسم کی طفلانہ حیرت کا مظاہرہ پھر کبھی نہ ہوپائے ،،، آخر میں اپنے قارئین سے یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سیاسی میدان میں دونوں‌ خیموں سے سنائی دینے والی بڑھکوں‌ پہ مطلق دھیان نہ دیں ، اب صرف 2 ماہ کی بات اور ہے اور پھر یہ تاریخی مقدمہ اپنے اس حتمی نتیجے تک بالضرور پہنچے گا کہ جہاں سے نمود سحر کی منزل دور نہیں کہ مالک الملک کی مشیت مستور تو ہے لیکن مجبور نہیں ...

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *