عابدہ حسین کونواز شریف کی پیشکش میں اعتراض کی بات…؟

رؤف طاہرrauf

ہمارے پسندیدہ تجزیہ کار/کالم نگار اس بار نوازشریف پر تنقید کے لئے بیگم عابدہ حسین کی خود نوشت ــ"Power Failure" سے حوالہ لائے ہیں۔ بیگم صاحبہ پاکستان کی سیاست کا اہم نام ہیں۔ ان کے والد کرنل عابد حسین (مرحوم) بھی پنجاب کی سیاست کا اہم حوالہ رہے۔ عابدہ ان کی اکلوتی اولاد تھیں جسے انہوں نے لڑکیوں کی طرح نہیں، لڑکوں کی طرح پالا۔ وہ 1967 میں عملی سیاست میں آئیں۔ 1970 کا پنجاب اسمبلی کا الیکشن آزاد حیثیت سے جیتا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو صاحب برسرِ اقتدار آئے تو عابدہ نے پیپلز پارٹی جوائن کر لی لیکن یہاں اِن کا قیام زیادہ طویل نہیں تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی خلافِ قانون اور ولی خاں سمیت اس کی اعلیٰ قیادت حوالۂ زنداں ہوئی تو قومی اسمبلی کے آزاد رکن سردار شیر باز خاں مزاری نے نیب کی باقیات الصالحات کے لئے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) تشکیل دی، بیگم نسیم ولی خاں کے علاوہ بیگم عابدہ حسین بھی ان کے شانہ بشانہ تھیں۔ پی این اے کی تحریک (1977) میں این ڈی پی کا کردار بھی پاکستان کی تاریخ کا اہم باب ہے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں بیگم عابدہ حسین کے علاوہ ان کے شو ہرِ نامدار جناب فخرامام بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اسپیکر کے انتخاب میں فخر امام نے صدر ضیاء الحق کے اُمیدوار خواجہ صفدر(مرحوم) کو شکست دی۔ جونیجو حکومت کے خلاف آزادپارلیمانی گروپ میں بیگم عابدہ حسین پیش پیش تھیں، دیگر سرگرم ارکان میں جناب جاوید ہاشمی بھی تھے۔ آزاد گروپ کی ضرورت سے زیادہ ’’آزاد روی‘‘ کا خمیازہ فخر امام کو قومی اسمبلی کی اسپیکر شپ سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑا(عدم اعتماد)۔
بے نظیر صاحبہ کی پہلی حکومت(1988-90) میں عابدہ حسین قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی سرگرم رکن تھیں۔ غلام مصطفی جتوئی کی نگران حکومت میں وزیراطلاعات بنیں، 1990 کے الیکشن میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ نوازشریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا۔ 1993کے الیکشن میں سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے کم از کم 2سال مکمل ہونے کی شرط حائل ہوگئی۔ 1996میں صدر لغاری اور وزیراعظم بے نظیر میں اختلافات کے دوران، جناب لغاری اور نوازشریف کو قریب لانے میں عابدہ حسین نے بنیادی کردار ادا کیا۔ 1997میں نوازشریف کی دوسری حکومت میں وہ خوراک، زراعت، بہبودِ آبادی اور ماحولیات کی وزیر رہیں۔ پنجاب میں گھوسٹ اسکول اوربجلی چوری کی تلاش کا کام فوج کے سپرد ہوا تو فوجیوں نے جھنگ میں بیگم صاحبہ کے اصطبل میں بجلی کی چوری ڈھونڈ نکالی، جس پر وزیراعظم نے اِن سے استعفیٰ طلب کر لیا۔ 12اکتوبر 1999 کی فوجی کارروائی کے بعد مسلم لیگ میں نوازشریف کے خلاف ’’ہم خیال گروپ‘‘ تشکیل پایا تو وہ اس کا اہم حصہ تھیں۔ 2002 کا الیکشن گریجویشن کی شرط کے باعث نہ لڑسکیں۔ 2006 میں پیپلز پارٹی جوائن کی۔2008کا الیکشن خود تو نہ جیت سکیں لیکن ان کی صاحبزادی سینیٹ میں پہنچ گئیں۔ بیگم عابدہ حسین پاکستان کی سیاست کے کئی ڈھکے چھپے گوشوں کی عینی شاہد ہی نہیں، ان کا اہم کردار بھی رہی ہیں۔ اپنے سیاسی تجربات اور مشاہدات کو انہوں نے ’’Power Failure‘‘ کے نام سے قلمبند کردیا ہے۔ ہم ابھی اس کا مطالعہ نہیں کرپائے۔ جناب ایاز امیر، نوازشریف پر تنقید کے لئے اس سے جو حوالہ لائے ہیں، اس کے مطابق نوازشریف 1990 کے انتخابات میں جلسے سے خطاب کرنے جھنگ آئے۔ وہاں ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھ کر انہوں نے عابدہ حسین سے پوچھا کہ وہ یہاں کوئی شوگر مل کیوں نہیں لگالیتیں۔ جس پربیگم صاحبہ نے دھیمے لہجے میں ’’مفادات کے ٹکراؤ‘‘ (Conflict of interet) کی بات کی لیکن میاں صاحب نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا ، اس صورت میں اگر وہ خود یہاں ایک شوگر مل قائم کر لیں تو انہیں کوئی اعتراض تونہیں ہوگا؟ اس خیال کا نتیجہ آخر ِ کار رمضان شوگر مل کی صورت میں ظاہر ہوا۔
ہم نہیں سمجھ سکے کہ نوازشریف نے بیگم صاحبہ کو یہاں شوگر مل لگانے کی تجویزپیش کی اور ان کے انکار پر خود شوگر مل لگانے کا فیصلہ کیا تو اس میں غیر قانونی ، غیر آئینی بات کیا تھی؟کشکول توڑنا، پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانا نوازشریف کا وہ خواب ہے جسے وہ ہمیشہ سے دیکھتے اور اپنی قوم کو دکھاتے آئے ہیں۔ وہ سیاست میں اینٹی بھٹو(اور اینٹی پیپلزپارٹی) لیڈر کے طور پر اُبھرے۔ انہوں نے اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ میں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ پالیٹکس کے طور پر بھی اپنا امیج بنایالیکن یہ ’’عام آدمی‘‘ کا مسئلہ نہیں تھا۔ عام آدمی کے دل میں انہوں نے اقتصادی مسیحائی کا نقش جمایا۔ کشکول توڑنا، پاکستان کو غیروں کی اقتصادی محتاجی سے نکال کر ، ایشین ٹائیگر بنانے کا خواب صنعتی انقلاب(انڈسٹریلائیزیشن)کے بغیر کیسے شرمندۂ تعبیر ہوسکتا تھا۔ بیگم عابدہ حسین کی بات سے ہمیں جاوید ہاشمی یاد آئے، ’’ہاں میں باغی ہوں‘‘ میں انہوں نے لکھا، 1992 کے آخر میں کابینہ کی میٹنگ سے فارغ ہو کر نکلے تو میاں نوازشریف مجھے کہنے لگے ،آپ کے وسائل محدود ہیں، آپ سیاست میں لمبے عرصے تک جاگیرداروں کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ آپ تھک جائیں گے۔ کاروبار کوئی گناہ نہیں، آپ کے پاس زمین ہے، شوگر مل لگا لیں، اس کے لئے قرض لینا آپ کا حق ہے۔ انہوں نے اپنے سیکریٹری چوہدری عبدالرؤف کو اس کے لئے کاغذات مکمل کرنے اور قرضے کی پراگریس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چوہدری رؤف ( جو دورانِ تعلیم میرے یونیورسٹی فیلورہے تھے) دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ میرا پیچھا کرتے رہے۔ میں نے کہا، آپ مجھے طالبِ علمی کے دور سے جانتے ہیں، کیا میں فیکٹری چلاسکتا ہوں؟ وہ ہنس کر کہنے لگے، وزیراعظم کی خواہش کے علاوہ اب یہ میری نوکری کا سوال بھی ہے۔ میں نے کہا، میں میاں صاحب کی یہ محبت ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ میں گنّے کے جوس کی ریڑھی نہیں چلاسکتا، شوگر مل کیسے چلاؤں گا؟ جہاں تک نوکری کا تعلق ہے، آپ جیسے باصلاحیت اور باکردار افسر کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ‘‘
ہاشمی کا معاملہ دوسرا تھا، وہ کبھی بڑے زمیندار نہیں رہے۔ عابدہ حسین کو آپ جاگیردارنی کہہ سکتے ہیں، شوگر مل لگانے سے انکار میں ہم ان کی نیت (conflict of interest) پر شبہ نہیں کرسکتے لیکن وڈیروں اور جاگیرداروں کے لئے اپنے علاقے میں کسی کارخانے ، کسی مل کا قیام ایک بھیانک خواب رہاہے کہ کارخانہ اپنے ساتھ پورا کلچر لاتا ہے۔ دور دور تک گردوپیش کے ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے نسل درنسل چلے آنے والے ہاریوں پر ان کی آہنی گرفت ٹوٹتی ہے، کارخانہ جنہیں جاگیردار کی ، وڈیرے کی محتاجی سے نجات دلاتا ہے۔ کارخانے کے علاوہ اسکول بھی وڈیرے اور جاگیردار کے لئے سخت ناپسندیدہ چیز رہا ہے۔ اس کے اپنے بچے شہروں میں(اور بیرون ملک بھی)اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اس کے ہاریوں ، کمّیوں کے بچے ٹاٹ اسکولوں میں پرائمری تک تعلیم ہی حاصل کرلیں، اِسے یہ گوارا نہیں ہوتا۔ قدرت اللہ شہاب نے ’’شہاب نامہ‘‘ میں جھنگ میں اپنی ڈپٹی کمشنری کے دنوں کو بھی یادکیا ہے، ایک روز ایک بڑا زمینداران کے پاس آیا، علاقے میں پرائمری اسکول کھولنے کی درخواست کی اور اس کے ساتھ یہ پیشکش بھی کہ وہ اسکول کے لئے زمین، کمروں کی تعمیر کے لئے 20ہزار روپے اور ایک استاد کی سال بھر کی تنخواہ اپنی جیب سے ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایک ہفتے کے بعد ایک اور بڑا زمیندار چلاآیا اور روہانسا ہو کر گلہ کرنے لگا، جناب میں نے کیا قصور کیا ہے جو مجھے اتنی کڑی سزا دی جا رہی ہے۔ پچھلے ہفتے اسکول کے بارے میں جو شخص مجھے ملنے آیاتھا وہ یہ اسکول اپنے گاؤں میں نہیں، میرے گاؤں میں کھلوا رہا ہے۔ شہاب صاحب نے یہ واقعہ بیرسٹر یوسف کو سنایا تو وہ مسکرا کر بولے:حیران ہونے کی کوئی بات نہیں، بڑی زمینداریوں اور جاگیروں میں تعلیم ہی کو سب سے بڑا اور تباہ کن دُشمن سمجھا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *