رسولِ رحمت ﷺکا پیغامِ رحمت!!

azhar majeedڈاکٹراظہر وحید

رحمت رحم سے ہے۔ تخلیق کا آغاز رحم سے ہوتا ہے۔رحم پہلے ہے‘ ربوبیت بعد میں!! رحم اور رحمت کے بغیرربوبیت کاتصور نہیں۔رسولِ رحمت ﷺ کو اُمّی نبی کہا گیا ہے۔ اُمّ کسی چشمے کے نقطہ آغاز کو کہتے ہیں۔ آپ ﷺ اُمّ الموجودات ہیں۔۔۔ سرچشمہ حیات ہیں۔ظاہری حیات ہو یا معنوی ۔۔۔ہر معنی میں سرچشمہ حیات آپ ﷺ ہی کی ذاتِ بابرکات ہے۔ حدیثِ قدسی میں رب تعالیٰ نے فرمایا‘ میں نے رحم کو اپنے اوپر لازم کر لیا۔ قرآنِ کریم میں رسولِ کریم ﷺ کی شان میں فرمایاگیا ‘ بے شک آپؐ کورحمت اللعالمین بنا کر بھیجاگیا۔ گویا جہاں تک خدا کی خدائی ہے‘ وہاں تک رسولِ خدا کی رسائی ہے۔
رسولِ کریمؐ کل مخلوقات کیلئے باعثِ رحمت ہیں اور آپ ؐ کا لایا ہوا پیغام انسانی وجود اور شعور کیلئے ایک سندیسہ رحمت ۔ اِسلام پیغامِ رحمت ہے۔۔۔سلامتی کا دین ہے۔ دینِ اِسلام کے اَوامر و نواہی فرد اور معاشرے دونوں کیلئے سلامتی اور سکون کا موجد و موجب ہیں۔ رسولِ رحمت ؐ کاتعلیم فرمایا ہواعبادت کا طریقہ ہو‘ یا معاشرت و معیشت کا سلیقہ‘ انسان کیلئے سرتاپا سکون اور سلامتی کا باعث ہے۔ نماز ہی کو لیں‘ جسمانی اور روحانی راحت کی دلیل ہے۔ زکٰوۃ معاشرے کی معاشی بہبود کی سبیل ہے۔ رسولِ رحمت ﷺکے پیغامِ رحمت نے سیاسی ، سماجی،معاشی ہر سطح پراستحصالِ انسانی کے دروازے بند کر دیے ۔ بادشاہت کا انکار دینِ حق پر چلنے والوں کا ورثہ ہے۔ ’’کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں‘‘ دینِ برحق کا تتمہ ہے۔ قرضِ حسنہ، صدقہ، مسکین کو کھاناکھلانے کی رغبت کا اہتمام معاشرے کی معیشت پر رحمت کاپیام ہے۔ سود کی ممانعت میں کیا راحتیں ہیں ‘ اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو کسی سودی چنگل میں گرفتار ہونے کے بعد رہائی حاصل کرچکا ہو ۔ اِسلام محض ایک نظامِ معیشت نہیں ‘ اور یہاں مدعا سوشلزم اور کیپیٹلزم سے تقابل او تطابق بھی نہیں۔ اِسلام ایک آسمانی پیغام ہے ، دیگر نظام ہائے معیشت و معاشرت زمینی پیش بندیاں‘ بلکہ تک بندیاں ہیں۔ آسمان اور زمین کا آپس میں موازنہ کرنا بجائے خود ایک غیر متوازن فکرہے اور یہ اندازِ فکر آسمانی پیغام کی ناقدری کا سامان لیے ہوئے ہے ۔انسان کو حریتِ فکر دینے والا دین آج اپنے ہی ماننے والوں کی تنگ نظری کا شکار ہوا پڑا ہے۔
رسولِ رحمتﷺ کا لایا ہوا دین اعتدال پسندی اور میانہ روی سے عبارت ہے۔ اِس میں اِنتہا پسندی کا گزر نہیں۔ اِنتہا پسند یہاں ٹھہرنہیں سکتا ۔۔۔ وہ خارج تونہیں‘ خارجی ضرورہوجاتا ہے۔ مسلمان کی نشانی یہ بتائی گئی کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ فرمایا گیا‘ انسانوں میں سے بہترین وہ ہے ‘ جو انسانوں کیلئے منفعت بخش ہے۔ حریت وحرمتِ ابنِ آدم کاپیغام خاتم النبین پرختم ہے ۔دین اِسلام سے پہلے اَدیان میں عبادت گاہوں کی حرمت پر اِنسان قربان ہوتے رہے۔ اِسلام نے اپنے ماننے والوں کے خون کی حرمت کا درجہ کعبہ کی حرمت سے بھی افضل قرار دے کر انسان کے مذہبی شعور کی کایا پلٹ دی ۔انقلاب ‘شعور کی کایا کلپ ہی کو کہتے ہیں۔
معاشرے کے کمزور طبقات پر رحمتِ عالم ؐکی رحمت کا عالم یہ ہے کہُ ان پر رحمت و شفقت کو اخلاق کا پیمانہ بنا یا گیا۔۔۔اورقیامت کے روز میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق ہی کوسب سے بھاری پیمانہ بتایا گیا۔ دینِ رحمت میں تکریمِ انسانی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی جنت کے عوض انسانوں کے حقوق محفوظ کر دیے گئے ۔ مسکینوں ، یتیموں ، بیواؤں اور غلاموں کے حقوق کی نگہداشت کی اس قدر فضیلت بیان کی گئی کہ فرمایا گیا ‘یتیم کی پرورش کرنے والا میرے ساتھ جنت میں یوں ہوگا جیسے ہتھیلی کی دو انگلیاں۔ عورتوں کو معاشرے کا نازک اور بالعموم محروم طبقہ تصور کیا جاتا ہے ، یہ محرومی آج بھی بدستورموجود ہے ، حقوقِ نسواں کے لاکھ دعوے کرنے کے باوجود مغرب میں آج بھی عورت ایک صنفِ نازک ہی نہیںُ صنفِ کمزور بھی ہے۔حقوقِ نسواں کے قوانین اپنی جگہ درست ‘ لیکن قانون تک پہنچنے سے بہت پہلے بہت سا استحصال ہو چکا ہوتا ہے۔ اِخلاقیات کا قانون ملکی قانون سے پہلے استحصال کا راستہ بند کرتا ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کے حقوق کی نگہداری اس طرح کی گئی کہ بیٹیوں کی بہترین پرورش تعلیم و تربیت اور شادی کا اہتمام کرنے والے کو بھی جنت میں اپنی قربت کی بشارت دی ۔ شادی کے بعد عورتوں کے حقوق کی نگہداشت اس حکم کے ساتھ کی گئی کہ تم میں سے بہتر اخلاق اس کے ہیں ‘ جو اپنی پیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے ۔ عورتوں اور غلاموں کی بابت آخری وصیت کے آخری جملوں تک تاکید موجود ہے۔ اسلام کو معاملاتِ انسانی سے نکال کر صرف عبادات تک محدود کرنے کی کوشش دراصل اس دینِ رحمت سے دُور ہونے کی علامت ہے جو رسولِ رحمت لے کر آئے۔ حفرت واصف علی واصف ؒ کا ایک قول ہے’’رحمت اس فضل کو کہتے ہیں ‘ جو انسان پر اس کی خامیوں کے باوجود کیا جاتاہے‘‘ ۔اس قول کی روشنی میں دیکھیں تورحمت احسان کا ایک انتہائی درجہ معلوم ہوتا ہے۔ ربِ کریم نے قرآنِ کریم میں مومنوں پراحسان جتلایا ہے‘ بے شک مومنوں پر ہمارا بڑا احسان ہے کہ ہم نے ان کے درمیان اپنے رسول کو مبعوث کیا۔ قرآنِ حکیم میں عزیزالحکیم نے رسولِ رحمت ؐ کی بعثت کے مقاصد بھی خود ہی گنوادیے ۔۔۔ اللہ کی آیات کی تلاوت ( یعنی آفاق و انفس میں ظاہری اور باطنی نشانیوں کی ترتیل ) ، تزکیہ ( یعنی حیوانی جبلتوں کی ترفیع اور رحمانی وا انسانی اقدار کا نفوذ)، کتاب کا علم (مراد ہے ‘تمام ظاہری اور باطنی علوم کافروغ) اور پھر حکمت ( دانائی ، یعنی علم کی پہنچ سے بھی آگے تک رسائی )۔ دین کے بہی خواہ اگردین بھیجنے والے کے مقاصدِ بعثتِ رسالت ؐسے غافل ہورہیں یا اِن مقاصد کے علاوہ کچھ اور چاہیں تووہ دین کے نادان دوست کے علاوہ اورکیا کہلائیں گے۔ دانا کہتے ہیں کہ نادان دوست سے بہتر ‘ دانا دشمن ہے۔ اسلام انسانوں کیلئے ہے اور انہیں بہترین انسان بنانے کاطریقہ اور سلیقہ ہے۔ ہم ابھی درجہ آدمیت پر فائز نہیں ہوسکے۔۔۔ اسلام کا نام ابھی تک ہمارے زیرِ استعمال ہے تو یہ ہم پر ایک جدی پشتی احسان ہی تو ہے۔ واصف علی واصفؒ کافرمان ہے ’’کسی کے احسان کو اپنا حق نہ سمجھ لینا‘‘
رحمتِ حق ڈھونڈنے والوں کو بندگانِ خدا کی ربوبیت ڈھونڈ ڈھونڈ کرکرنا ہوگی۔ مخلوقِ خدا کیلئے آسانیاں مہیا کرنا، اُن کی ربوبیت کا سامان کرنا گویا رحمتوں کے راستے پر چلنا ہے۔بھوکے کو کھانا کھلانا ،عتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا ‘ْ مقروض کومہلت دینا ، لین دین میں نرمی اختیارکرنا، سلام کرنا ، اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا، بیمار کی تیمارداری کیلئے جانا، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک ، والدین پر احسان ، بچوں سے شفقت ،یہاں تک کہ راستے سے رکاوٹ دورکر دینا۔۔۔ سب احکامات اور ترغیبات انسانوں کیلئے رحمت ہی رحمت !! رسولِ رحمت ؐ کا پیغام ‘رحمت کے علاوہ اور کیا ہوسکتاہے!!
حصولِ رحمت کیلئے رسولِ رحمت سے تعلق کا ہونا لازم ہے۔بامعنی تعلق افکار اور کردار دونوں کے اِتباع سے تشکیل پذیر ہوتا ہے۔ جہاں ایمان کا تذکرہ ہوا، وہیں عملِ صالح کا ذکر بھی ساتھ ہی موجود ہے۔ فلاح کی راہ میں ایمان اور عملِ صالح ہمراہ ہیں۔رحمتِ عالم کا پیغام دراصل مخلوقِ خدا سے بھلائی کا پیغام ہے۔ محسنِ انسانیت کا عالم انسانیت پر احسان کا نام اسلام ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *