منڈی

محمد طاہرM tahir

موسم بدل رہا ہے۔ مگر کیا زمین و آسمان بھی بدل جائیں گے؟ کیا اللہ کی سنت بھی بدل جائے گی؟ کیسے ، آخر کیسے لوگوں کے احوال بدلے جاتے ہیں؟ ظلم کی زمین پر وقت کا جبر فیصلوں کی تعبیر ہے۔ لفظ محتاط ہو گئے۔ ہر چیز اب ایمائی ہے۔ والٹیئرکے گرد کیا ایسے ہی حالات رہے ہوں گے جو اُس نے کہا کہ ’’الفاظ کا ایک اہم استعمال اصل خیال کو چھپانے کے لئے بھی ہوتا ہے ‘‘۔اِدھر اُدھر دیکھ کر بولنے کے دن شروع ہوگئے۔ ماتی کے پُتلے اور گھگھو گھوڑے حرکت میں آگئے۔ سیاست کی منڈی میں تو پھر بھی کچھ اُدھار پر چلتا ہے۔ مگر صحافت کی منڈی میں ہر چیز نقد ہوتی ہے۔ جیسا خریدار ویسا مال ۔جیسا منہ ویسی تھپڑ۔
منڈی سجانے والے گرفت بھی اپنی ہی رکھتے ہیں۔ پھر چاہے وہ سیاست کی ہو یا صحافت کی منڈی۔ اتنا ہی نہیں یہاں تو خریداروں پر بھی منڈی سجانے والوں کی گرفت ہے۔ دنیا کا یہ واحد بازار ہے جہاں ایسی منڈی سجائی گئی ہے جس میں قیمت، اشیاء اور دُکاندار ہی نہیں گاہک بھی منڈی سجانے والوں کی گرفت میں ہیں۔ ایسی ’’کنٹرولڈ منڈی ‘‘ کی خرید وفروخت کا جواز پہلے ہی قائم کر دیا گیا تھا۔ رفتہ رفتہ سب سے تسلیم بھی کرا لیا گیا۔ کنٹرولڈ منڈی میں کسی کو سوال کرنے کی اجازت نہیں۔ بس سودا خریدیئے اور اپنی راہ چلئے۔یہاں کسی سودے پر توُتکرار ، دھما چوکڑی اور آپا دھاپی ہو تو سوال نظم ونسق پر نہیں اُٹھایا جاسکتا ، بلکہ منڈی کو مزید وسعت دے دی جاتی ہے۔ پہلے سودے میں کیا ہوا تھا؟ یہاں یہ بات نہیں کی جاسکتی ، بس اگلے سودے کو بیچا جاتا ہے۔ یہی اس منڈی کے آداب ہیں۔ جو کوئی اِن آداب اور منڈی کے جواز کو نہیں مانے گا وہ منڈی سے باہرہی نہ ہوگا ۔ منڈی سے باہر کی دنیا میں بھی شاید اپنے قدموں پر نہ ہوگا۔ سو آئیے ، پہلے اس منڈی کی تقدیس کے گیت گائیں۔ آگے خیر ہی خیر ہے!!!!
نئی منڈی میں ہر روز ایک چیز فروخت کے لئے پیش کی جاتی ہے۔آج انصاف کی باری ہے۔ سیاست اور صحافت کے دُکاندار اِسے بیچ رہے ہیں۔ یہ لیجئے! یہ انصاف کا موسم ہے۔ سستا اور چھلکتا انصاف۔ اُچھلتا اور پھیلتا انصاف۔چھوٹا اور بڑا انصاف ،خاصا اور آساں انصاف ۔فوری اور ضروری انصاف۔ہاتھوں اور جوتوں کا انصاف ۔ ڈنڈوں اور پھندوں کا انصاف ۔یہاں تک کہ انصاف کا انصاف۔اہلِ سیاست اور اہلِ صحافت چند دنوں تک اس کی مقدس دُکانداری فرمائیں گے۔اس دوران انصاف کی آبرو مند گڑیاؤں کے نئے نئے ’’ماڈل‘‘ بھی پیش کئے جائیں گے۔ جن کی ’’مارکیٹنگ‘‘ اہلِ سیاست و صحافت کی ذمہ داری ہوگی ، ان میں سے ایسے ایسے اوصافِ حمیدہ دریافت کئے جائیں گے کہ آج تک انسانی ذہن کی ایسی کارگزاری بنی نوع انساں کی تاریخ میں کسی نے بھی دیکھی نہ ہوگی۔مگر اس کی کچھ تفصیلات 1931 میں وفات پانے والے خلیل جبران نے ذرا قبل از وقت ہی افشاء کردی تھی۔ خلیل جبران کے بقول:
’’ایک رات قصرِ شاہی میں دعوت ہوئی۔ اس موقع پر ایک آدمی آیااور اپنے آپ کو شہزادے کے حضور پیش کیا۔ تمام مہمان اُس کی طرف دیکھنے لگے۔ جس کی ایک آنکھ باہر نکلی ہوئی تھی اور وہاں سے خون بہہ رہا تھا۔
شہزادے نے اُس سے پوچھا کہ ’’یہ تم پر کیا بیتی ہے؟‘‘
اُس نے جواب دیا:
’’عالی جاہ میں ایک پیشہ ور چور ہوں اور آج طلوعِ ماہتاب سے ذرا پہلے میں ساہوکار کی دُکان لُوٹنے گیالیکن غلطی سے جُلاہے کے گھر میں داخل ہو گیا۔ جوں ہی میں کھڑکی سے کودا، میرا سر جُلاہے کے کرگھے کے ساتھ ٹکرا یا۔جس سے میری ایک آنکھ پھوٹ گئی۔۔۔سو اے شہزادے میں اس جُلاہے کے معاملے میں انصاف کا طالب ہوں‘‘
یہ سن کر شہزادے نے جُلاہے کو طلب کیا ۔ اور یہ فیصلہ صادر کیا کہ اس کی ایک آنکھ نکال دی جائے۔
جُلاہا بولا۔۔
’’ظلِ سبحانی (لباسِ خاکی میں آسمان کی نشانی) ! آپ کا یہ فیصلہ درست ہے کہ میری ایک آنکھ نکال دی جانی چاہئے۔لیکن میرے کام میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہے تاکہ میں اس کپڑے کے دونوں اطراف دیکھ سکوں جسے میں بُنتا ہوں۔۔۔۔البتہ میرے پڑوس میں ایک موچی ہے جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں اور اس کے پیشے میں دونوں آنکھوں کی ضرورت بھی نہیں۔۔۔۔‘‘
یہ سن کر شہزادے نے موچی کو طلب کیا ۔ جب وہ آیا تو اس کی دو آنکھوں میں سے ایک آنکھ نکال دی گئی۔
خلیل جبران اس واقعے کے بعد صرف ایک فقرہ لکھتا ہے کہ ’’اس طرح انصاف کا تقاضا پورا ہو گیا۔‘‘
جب کہ اس طرح صرف انصاف کا تقاضا ہی نہیں، فوری اور سستے انصاف کا ایک دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہو گیا تھا۔ نئی منڈی زندہ باد ۔ فوری انصاف دائم آباد ۔۔فوری انصاف کے خواہش مند منڈی سے باہر ایک امریکی لکھاری، ہدایت کار اور اداکار’’اورسن ویلز‘‘ کا یہ فقرہ پڑھتے اور تُھو تُھو کرتے گزر جاتے ہیں کہ
’’انصاف کسی کونہیں ملتا، لوگ صرف خوش قسمتی یا بدقسمتی پاتے ہیں۔‘‘
منڈی کی دیواروں پر ایک فقرہ مارٹن لوتھر کنگ کا بھی کندہ ہے مگر فوری انصاف کی دُھن میں کسی کا دھیان اس پر نہیں جاتا:
’’ناانصافی جہاں کہیں سے بھی ہو، ہر جگہ ہی انصاف کے لئے خطرہ ہوتی ہے‘‘
منڈی کے اطراف میں کہیں سے آواز آرہی تھی کہ
’’توریت میں لکھا ہے کہ اہلکار کی ہر وہ بے انصافی اور ظلم جو بادشاہ کی نظر میں
آئے اور بادشاہ خاموش رہے، اسے بادشاہ کی اپنی ہی بے انصافی میں شمار کیا
جائے گا۔‘‘
یہ اجنبی آواز کہاں سے آتی ہے۔کسی آلۂ مکبّر الصّوت کومگر اب یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی آوازوں سے ہمارے بیدار ضمیروں کو کسی نوع کا افیون پلائے۔ فیصلہ یہی ہونا چاہئے کہ لاؤد اسپیکر کا گلا گھو نٹ دیا جائے۔اب یہاں سب جاگ چکے ہیں۔ اب یہ جاگتی آنکھوں ،خواب فروشی کا دور ہے۔ یہاں کے دُکاندار جو اس نگارِ دلستاں کے سوارِ خوش عناں ہیں۔ جو اپنے اختیارات سے صحیفۂ صداقتِ ازل کی مجسم تصویر بن گئے۔ جن کی راست بازی کی فرشتے بلائیں لینے لگے۔جن کی دائمی بصیرت سے نوعِ انسانی کے لئے زریں اصول وضع ہونے لگے۔ جو سقراط کے اُٹھائے گئے سوالات کا سراپا جواب بن گئے۔ جو افلاطون کے فلسفی حکمران ہیں۔ اور افلاطون کی’’ یوٹاپیا ‘‘تخلیق کرنے میں جُت گئے۔جن کی لازوال فنکاری کہر کو مجسم کر رہی ہے۔جن کے بول سے انصاف کا بول بالا ہونے والا ہے۔ جن کے مول تول ہر طرح کے توڑ جوڑ سے پاک ہیں۔اہلِ سیاست اور اہلِ صحافت کو اس نئی دُکان داری پر تاریخ کی دائمی دلاوری اور مکمل سلامتی ملے گی۔اِسی طرح عقل تکمیل پائے گی۔امام غزالی ؒ نے وقت کے سلطان کو جو نصیحت کی تھی اُس کی ضرورت ہمارے دُکان داروں کو ہرگز نہیں کہ ’’عقل کی تکمیل سے انصاف بیدار ہوتا ہے۔‘‘یہاں خود بخود ہی انصاف بیدار ہو گیا اور عقل کی تکمیل بھی خود بخود ہی ہوگئی۔ دونوں کے لئے کوئی خاص محنت کی ضرورت نہیں پڑی۔نقار خانہ خاموش ہو گیا۔بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے سکوتِ حکیمانہ سے آشنا ہوگئے۔نکتہ سنج بندہ پروری کی اُمید میں گونگے بن گئے۔ نئے موسم میں نیا مال ، نئی منڈی اور نیا انصاف مبارک۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *