مشیر میاں کی باتیں

سجاد میرsajjad mir

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر نے غالباً ایک محدود نشست میں کچھ تندو تیز باتیں کی ہیں جن کو یا تو ہمارے ادارے لے اڑے یا ان کے اپنے اداروں نے ہم تک پہنچانے کا بندوبست کیا۔ اس طرح یہ ویڈیو ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر چھا گئی۔ جس میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک تو اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں بھارت سب سے گویا مقبول ملک ہے اور وہاں اس نے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں‘ پاکستان کا جہاں تک معاملہ ہے‘ وہ اگر ریاستی دہشت گردی کرتا رہا تو اس کو ہم وہی جواب دیں گے جو دے رہے ہیں۔ اب ہم جارحانہ دفاع کا راستہ اختیار کریں گے۔ یہ بھی فرمایا کہ اگر ممبئی جیسا ایک واقعہ اور ہوگیا تو بلوچستان پاکستان کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔
ایسی ہی بہت سی لچر باتیں ہیں۔ مجھے یقین نہیں آیاکہ یہ بھارت کے سکیورٹی کے مشیر کا فرمان ہے۔ تاہم مجھے ایک دن پہلے کی وہ گفتگو یاد آگئی جو ڈی جی رینجرز کے آفس میں ہوئی تھی جہاں یہ تجزیہ سننے کو ملا تھا کہ یہ جو ورکنگ بائونڈری پر بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس گڑ بڑ کر رہی ہے اور حالات  کو خراب کر رہی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان کی سرحد پر حالات خراب کرنے کی ایک ایسی حکمت عملی پر گامزن ہے جسے وزیراعظم مودی  کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ بارڈر سکیورٹی فورس وزارت دفاع کے ماتحت نہیں‘ نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزرکی نگرانی میں کام کرتی ہے جو مودی کا خاص آدمی ہے اور ہندوتا کے ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔ یہ اسی سکیورٹی ایڈوائزر کا فرمان ہے۔
اسے ایک تجزیہ میں تو بھارتی حکومت کا پاکستان اور خطے کے بارے میں تازہ ترین موقف سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہونا چاہئے بھارت کیا کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ وہ ڈراوا ہے جو بھارت ہم تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے پائوں اکھڑتے دیکھ رہا ہے۔ وہ کیسے؟ اس کا بھی ذکر کرتے۔ اور اس لئے وہ پاکستان کو ایک طرح سے خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہی تو وہ ہندوتا کا ایجنڈا ہے جس کے تحت یہ ضروری ہے کہ پاکستان کو بھی دبائو میں رکھا جائے۔ یہاں سوال دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ آیا افغانستان میں سچ مچ بھارت کے قدم بہت مضبوط ہیں اور وہ کچھ بھی کر دینے کی سکت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہندوتا کا یہ ایجنڈا ہمارے لئے تو خطرناک ہوگا ہی‘ کیا یہ بھارت کے لئے فائدے کا سودا ہے۔
ویسے تیسری بات یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جس ردعمل کی دھمکی دے رہے ہیں اور اس حد تک دے رہے ہیں کہ پاکستان نے کچھ کیا تو بلوچستان ساتھ  نہیں رہے گا‘ تو کیا وہ تسلیم کر رہے ہیں کہ بلوچستان کے حالات ہماری مٹھی میں ہیں۔ کیا یہ اس الزام کی تصدیق نہیں ہے جو ہم بھارت پر عائد کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں گڑ بڑ کر رہا ہے۔ اب گویا ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر پاکستان نے ریاستی دہشت گردی بقول ان کے جاری رکھی اور ممبئی جیسے کسی واقعے کی کوشش کی تو ہم ایسا سخت جواب بلوچستان میں دیں گے کہ وہ صوبہ ہی ملک سے علیحدہ ہو جائے گا۔
اگر ایسا ہے تو پھر اس کے لئے افغانستان سے آنے والے دراندازوں کو  روکنا بہت ضروری ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟ بھارت افغانستان کی سرزمین اسی خاطر ہی تو استعمال کرتا ہے۔ طالبان کے بارے میں خوشگوار رویہ بھی ان کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ خوش ہیں کہ یہ پاکستان سے نپٹ رہے ہیں۔ انہیں تسلی ہے کہ اگر انہوں نے بھارت کا رخ کیا تو ان کے دیوبند والے ان سے سٹیٹ رہیں گے۔ اس آخری بات پر میں خاص طور پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ دیوبند کے رویے کے بارے میں پاکستان میں بھی بہت سی باتیں ہوتی ہیں۔ وہ جو دیوبند جواب پاکستان میں ہے۔
رہی افغانستان میں ان کی پاپولرٹی کی بات تو میرے خیال میں بھارت کے سلامتی کے مشیر کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ بھارت کا جو کردار افغانستان میں ہونا تھا‘ وہ اسی کے بھروسے پر یہ سب ہانک رہے تھے‘ اب یہ کردار بھارت کے ہاتھ سے چھن گیا‘ ایک تو امریکہ نے اپنی پالیسی اس خطے کے بارے میں اس طرح بدلی ہے کہ وہ پاکستان‘ چین اور افغانستان کے اتحاد کو مسائل کے حل کے لئے مفید سمجھنے لگا ہے۔ اگر وہ روس نواز شمالی  اتحاد کی مدد سے کابل پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ داعش کے خلاف ایران سے تعاون پر آمادہ ہو سکتے ہیں‘ تو یہ ناممکن نہیں کہ وہ اس خطے میں چین کے اثرات کو تسلیم کریں جن کی پشت پر اب روس کا تعاون بھی ہے۔ بھارت کے اندر اس مسئلے پر بہت بات ہو رہی ہے۔ بھارت نے افغانستان میں جو سرمایہ کاری کی تھی‘ وہ پاکستان کے مقابلے  کے لئے تھی۔ دو سال پہلے بھی بھارتیوں نے کہنا شروع کر دیا تھاکہ ہم یہاں چینی سرمایہ کاری کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چینی سرمایہ کاری کو امریکہ بار آور نہیں ہونے دے رہا تھا۔ اب قرائن بتا رہے ہیں کہ چین نے وہاں تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔ افغانستان کے نئے صدر بھی ہے چین‘ پاکستان اور سعودی عرب گئے ہیں بھارت اس پر تلملایا بیٹھا ہے۔ اسے اندازہ ہے کہ صورت حال بدل گئی ہے۔ اب افغان فوج کی تربیت  کا ٹھیکہ بھی اس کے پاس نہیں رہے گا۔ یہ خطے میں عالمی صورت حال کی تبدیلی کا اعلان ہے۔ مشیر  ایسے لگتا ہے‘ بلف کر رہے ہیں یا احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ پھر بھی پاکستان کو ان کی باتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور حالات پر گہری نظر رکھنا چاہئے۔
اوپر میں نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا یہ پالیسی بھارت کے لئے سودمند ہے۔ آج بھی اہل علم کی ایک محفل میں تھا جہاں اہل فکر و دانش کا کہنا ہے‘ بس چھ ماہ انتظار کیجئے۔ مودی کا ہندوتا کا ایجنڈا اسے لے ڈوبے گا۔ زیادہ دن نہیں جائیں گے کہ  بھارت کا کارپوریٹ سیکٹر اس کے خلاف بغاوت کردے گا۔ بھارت میں تسلسل کے ساتھ بس ہندو انتہا پسندی کے واقعات ہو رہے ہیں‘ اس نے وہاں کے اہل دانش کے دلوں میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ وہ سوچ رہے ہیں‘ گاڑی یوں ہی چلتی رہی تو گاڑی ضروری پٹڑی سے اترے گی ۔معاشی ترقی کا خواب بکھر کر رہ جائے گا۔ خود بھارت کے اندر حالات ایسے ہو سکتے ہیں کہ جمہوریت کے خواب ڈراؤنے خواب بن سکتے ہیں۔ مودی کے دونوں ایجنڈے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس حد تک ہندوتا کہ بھارت جس سے کانپ کانپ اٹھے اور معاشی ترقی کا وہ خواب جو اسے آسمانوں تک پہنچا دے دونوں کا جوڑ نہیں ہے۔ مودی  دو کشتیوں میں سوار ہے جو متوازی سفر نہیں کر سکتیں۔
مشیر میاں‘ حماقتیں نہ کرو‘ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *