آزادئ صحافت ؟ یہ منہ اور مسور کی دال !

naeem-baloch1

سب کو معلوم ہے کہ آج آزادئ صحافت کا دن منایا جارہا ہے ۔ 180ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 139ہے۔ انڈیا تین درجے آگے ہے جہاں کشمیر بھی ہے اور مودی بھی!اس لیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے چند سوالوں پر ضرور غور کرنا چاہیے :
* آزادئ صحافت کی تعبیر پر حکومت ، اسٹیبلشمنٹ، میڈیا اور مذہبی طبقات متفق ہیں؟ ڈ ان لیکس ، پانامہ اسکینڈل اور فرقوں کے متنازعہ عقائد کی اشاعت کے حوالے سے غور کریں ۔
*کیا ہمارا میڈیا اتنا با اصول لورطاقت ور ہے کہ وہ حکومت ، اشتہاری کمپنیوں اور کاروباری اداروں کا دباؤ برداشت کرسکتا ہے اور سچ بول کر اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے؟اشتہاروں کی بندش سرکاری ہوں یا غیر سرکاری ، اس کو سامنے رکھیں ۔
*کیاصحافی اتنا آزاد ہے کہ وہ اپنے مالک کی مخالفت کے با وجود سچ بات شائع کر سکے یا نشر کرسکے؟بول کے ڈھول اورکاروباری اداروں کے میڈیا ہاؤس کو سامنے رکھ کر بات کریں ۔
*کیا صحافیوں کی تنخواہ ان کے اخراجات پورا کرتی ہے ؟ کیا ان کو جاب سیکورٹی حاصل ہے ؟ اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ چند اخبارات اور چند میڈیا ہاؤس کے علاوہ ہر جگہ تنخواہیںیا تو لیٹ ہیں یا معاملہ ’’بلیک میلنگ ‘‘ پر چل رہے ہیں ۔اور نوے فیصد صحافیوں کی تنخواہوں شرم ناک حد تک کم ہیں ۔حکومت سمیت کسی کو ادارے کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ۔
*کیا قتل اورزخمی ہونے ہونے والے سینکڑوں صحافیوں میں سے کسی ایک۔۔۔۔کسی ایک کو بھی پورا پورا انصاف تو کجا کوئی ادنیٰ ساعدل بھی ملا اور اس کے ذمہ داروں کا تعین ہو سکا ؟ حامد میر سے لے کر ولی الرحمان اورشہزاد سلیم کی مثالیں سامنے رکھیں ۔
*کیاہمارا مذہبی طبقہ یہ اجازت دیتا ہے کہ ان کے خود ساختہ نظریات پر لکھا جائے ؟
*حمود الرحمان کمیشن سے لے کر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا واقعہ سامنے رکھیں اور بتائیں کہ ملکی سلامتی اور نظریہ ضرورت کا حدود اربعہ کیا ہے؟ اور میں اپنے کو محفوظ سمجھ کر ان میں سے کسی ایک پر کوئی مرضی کی چیز لکھ سکتا ہوں ؟ہو سکتا ہے میں اپنی رائے میں بالکل غلط ہوں لیکن کیا اس کی تصحیح میری طبیعت درست کیے بغیر کی جا سکتی ہے ؟
*ہمارے تعلیمی نصاب میں طالب علموں کو سچ پر مشتمل مواد پڑھنے کے لیے دیا جاتا ہے ؟ کیا صحافت کے طالبعلموں کی کوئی اخلاقی تربیت بھی ہوتی ہے ؟ اور اس کی خلاف ورزی پر کوئی موثر ضابطہ قانون موجود ہے ؟ آئے روز چھوٹے موٹے کاروباری یونٹوں پر کیمرہ بردار صحافیوں کی یلغار سامنے رکھیں اور ’شبیر تو دیکھے گا‘ برانڈ شوز کو سامنے رکھ کر غور کریں ۔
اگر ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے، اور ان تمام سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو مجھے کہنے دیجیے کہ آزادئ صحافت؟ یہ منہ اور مسور کی دال !
لیکن اس قدر بھی مایوس نہ ہوں ایک نیا جہاں اب ہماری دسترس میں ہے ۔پہلا جہان سوشل میڈیا کا ہے ،جہاں پر آپ پوری آزادی کے ساتھ اپنی بات کر سکتے ہیں ۔ پوری نہ سہی لیکن اس حد تک ضرور کہ سچ کسی نہ کسی طرح سامنے آسکتا ہے !
دوسراجہان ایسے نان کمرشل اداروں کا ہے جو مالی مفادات اور نظریاتی وابستگیوں کے بغیر میڈیا ہاؤس بنا سکتے ہیں جس کا پاکستان سے باہر
تو آغاز ہو چکا ہے وطن عزیز میں بھی یہ نئی صبح طلوع ہونے کے قریب دکھائی دیتی ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *