ترکی کاسلطان... رجب طیب اردگان

faheem-akhter-uk

اتوار 16؍اپریل کو امریکہ سمیت یورپ کے کئی ممالک کی نگاہ ترکی کے ریفرنڈم پر لگی ہوئی تھی۔ دراصل یہ ریفرنڈم ترکی کے آئین میں اٹھارہ مجوزہ ترامیم کے لئے کروایا گیا تھا۔جس کا اعلان ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کیا تھا۔ اس لئے کئی معنوں میں اس ریفرنڈم کو کافی اہم مانا جارہا تھا۔
ترکی کی کل آبادی میں سے 95%فی صد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ لیکن پچھلے کئی برسوں سے ترکی کو سیکولر ملک کہہ کر مغربی ممالک کو خوش کیا جارہا تھا۔ مثلاً ترکی کے یونیورسٹی میں لڑکیوں کو حجاب پہننا منع تھا۔ اس کے علاوہ ترکی کا دیگر مسلم ممالک کے ساتھ رشتے بھی کمزور تھے۔لیکن جب سے رجب طیب اردگان نے ترکی کی سیاست میں قدم رکھا ہے انہوں نے اپنے ملک کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی حمایت میں بھی باتیں کہی ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی ممالک میں اردگان کے خلاف ایک سازش رچی جانی لگی۔ ملک کی فضا کو خراب کیا جانے لگا۔ فوجی بغاوت کا اندیشہ اور پھر پچھلے سال فوجی بغاوت کا ہونا۔ لگاتار بم دھماکوں کا ہونا۔
رجب طیب اردگان جب سے ترکی کے صدر بنے ہیں تب سے ان کے خلاف مغربی میڈیا طرح طرح کی گمراہ کن باتوں سے ترکی سمیت یورپ اور دیگر ممالک میں رجب طیب اردگان کو ایک غلط لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن جوں جوں ان کے خلاف باتیں کہی جارہی ہیں توں توں رجب طیب اردگان کی مقبولیت ترکی کے علاوہ دیگر ممالک میں بڑھتی جارہی ہیں۔
اتوار کی رات کو جب تنائج آنے شروع ہوئے تو رجب طیب اردگان کے مخالفین کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ اب ترکی کے آئین میں ایک تاریخ ساز تبدیلی یقینی ہے۔ وہ تبدیلی جس کے لئے اردگان نے ترکی کے عوام کو خبردار کیا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر وہ ترکی کی بھلائی ،ترقی اور حفاظت چاہتے ہیں تو ان کے لئے یہ سب سے اچھا موقع ہے کہ ریفرینڈم میں لوگ ان کی پالیسی کی حمایت کریں۔
جہاں رجب طیب اردگان اور ان کی پارٹی ریفرنڈم کی جیت کا جشن منا رہے ہیں تو دوسری طرف یورپ کی ایک ایک تنظیم جو ترکی ریفرنڈم کی نگرانی کے لئے بھیجاگیاتھا اس ریفرنڈم پر تنقید کی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کونسل آف یورپ کے معیار کا نہیں تھا۔
Organisation for Security and Co-operationin Europe(OSCE)نے ریفرنڈم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریفرنڈم میں دونوں طرف کے لوگوں میں برابر کاسلوک نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے ریفرنڈم میں جیت کے لئے پیسوں کا بے جا استعمال کیا وغیرہ وغیرہ۔
رجب طیب اردگان نے ریفرنڈم کی جیت کے بعد انقرہ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ریفرنڈم نے اس بات کو ظاہر کر دیا کہ ترکی کہ لوگ آئین کے تبدیلی کے حق میں ہیں اور صدارتی طرز کی حکومت کے حمایتی ہیں۔ رجب طیب اردگان نے یہ بھی کہا کہ ترکی کایورپین یونین میں شامل ہونے کی تاخیر کی وجہ سے وہ اس مسئلے پر ایک اور ریفرنڈم کرا سکتے ہیں۔

Image result for urdganمیں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ترکی کو یورپین یونین میں شامل ہونے میں یوروپین یونین کے کئی ممالک رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ۔ جس سے ترکی اب تک ممبر نہ بن سکا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی مانا جارہا ہے کہ ترکی ایک مسلم آبادی والا ملک ہے اور ترکی کو یوروپین یونین کا ممبر بنانے کا مطلب مسلمانوں کی بڑی آبادی یوروپ میں آکر بس جائے گی۔ تاہم یوروپین یونین اس مسئلے پر نہ کوئی بیان سامنے آتاہے اور نہ ہی ترکی کے ممبر شپ کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوتاہے۔ جس سے اس بات کا صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یوروپین یونین جان بوجھ کر ترکی کو یوروپین یونین کا ممبر بنانے میں جانبداری کر رہی ہے۔
ترکی میں ریفرنڈم کے نتیجے’ نہ‘ کے مقابلے میں’ ہاں ‘کا پلڑا بھاری رہا ۔ لیکن ترکی کے تین اہم شہروں میں لوگوں نے ’ہاں‘ کے مقابلے میں ’نہ‘ کو زیادہ ووٹ دیا ۔ یہ شہر استنبول، انقرہ اور ازمیر ہیں ۔ ازمیر کے لوگوں نے ’ہاں‘ کے مقابلے میں ’نہ‘ کو 68.8% فی صد ووٹ دئے۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں رجب طیب اردگان آئین میں کیا تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ صدر کا معیاد پانچ سال ہوگی اور وہ دو بار سے زیادہ صدر نہیں رہ سکتاہے۔صدر کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ اعلیٰ عہدیداروں کا خود تعین کر ے گا جس میں وزیر اور نائب صدر بھی ہوں گے۔وزیر اعظم کے عہدے کو ختم کردیا جا ئے گا۔صد ر کو عدلیہ میں مداخلت کرنے کا اختیار ہوگا۔ صدر اس بات کا فیصلہ کریگا کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جائے یا نہیں ۔
اگر دیکھا جائے تو یہ تمام باتیں امریکی صدر کے اختیارات سے ملتے جلتے ہیں۔ جو کہ ملک کے نظام کے لئے ایک مفید بات ہو سکتی ہے۔ جب کہ اس سے پہلے یہ تمام باتیں فوجی اختیار میں ہوتی تھیں اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ملک میں فوجی بغاوت کے بعد ایمرجنسی نافذ کردیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ فوج بیرون ممالک یا باغی لیڈر کے دباؤ میں آکر اکثر جمہوری حکومتوں کا تختہ پلٹ دیتی تھی اور ملک کا پارلیمانی نظام کمزور ہوجاتا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رجب طیب اردگان ایک شائستہ زندگی گزارنے کے بعد آج ترکی کے ایک قد آور لیڈر بن چکے ہیں۔مصطفے کمال اتا ترک کے بعد رجب طیب اردگان نے ترکی کو بدلنے میں ایک اہم رول ادا کیاہے۔ رجب طیب اردگان نے اپنے حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ جمہوریت کے تاریخ میں ہم لوگوں نے پہلی بار اس تبدیلی کو ضروری سمجھا۔ ہم پچھلے سال کے فوجی بغاوت کو نہیں بھول سکتے ہیں۔ جب ایک بار پھر ہمارے جمہوری نظام کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی تھی‘۔
رجب طیب اردگان کی پیدائش فروری 1954کو ہوئی تھی۔ تیرہ سال کی عمر میں ان کے والد اچھی زندگی اور روزگار کے لئے استنبول شہر آکر بس گئے۔ رجب طیب اردگان بچپن میں مزید پیسے کے لئے چاکلیٹ اور تل بیچتے تھے۔ ابتدائی تعلیم ایک اسلامی اسکول میں حاصل کرنے کے بعد استنبول کے مرمارا یونیورسٹی سے منیجمنٹ میں ڈگری حاصل کی۔ اس دوران رجب اردگان ایک پیشہ وارانہ فٹبالر بھی تھے۔
1994میں استنبول شہر کے مئیر بنے تھے۔ 1999میں انہیں چار ماہ کے لئے جیل جانا پڑا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایک قومی نظم لوگوں میں پڑھی تھی۔ جس میں لکھا تھا ، مساجد ہماری چھاؤنی ہیں، گنبد ہمارا ہیلمٹ ہے، مینارہمارے خنجرہیں اور فوجیں ہماری دیانتدار ہیں۔
رجب طیب اردگان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ ترکی میں اسلامی قدریں عائد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سیکولر نظام کے حامی ہیں ۔لیکن وہ ترکوں کو آزادی سے مذہب کو ماننے کا اختیار بھی دیتے ہیں۔اسی لئے ترکی کے بہت سارے علاقوں میں رجب طیب اردگان کو’ سلطان‘ بھی کہا جاتا ہے۔
2013میں رجب طیب اردگان کی کوششوں سے عورتوں کو ریاستی اداروں میں حجاب پہننے کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ اردگان نے شراب پر پابندی اور زنا کے خلاف سخت سزا کا بھی مشورہ دیا ہے۔
ترکی کا تاریخی ریفرنڈم جہاں ترکی کے لوگوں کے لئے کافی اہم تھا وہیں ترکی سے باہر بسے ترک باشندوں کے لئے بھی اتنا ہی اہم تھا۔ اگر آئین کی باتوں پر غور کیا جائے تو اس میں کئی باتیں ملک کو محفوظ رکھنے اور اس کی جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جب مغربی ممالک اور خاص کر یورپ کے لیڈروں اور میڈیا کی بات کو سنا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترکی ایک اسلامی ملک بننے والاہے ۔ جس سے مسلم مخالف لوگ اور لیڈروں کو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو نشانہ بنا نے کا اچھا موقع مل گیا ہے۔تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی صدر رجب اردگان کو مبارک باد پیش کی ہے اور ترکی ریفرنڈم نتیجہ کو قبول کیا ہے۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ کسی مسلم ممالک میں اگر امریکی یا برطانوی طرز کی کوئی چیز لاگو یا بنانے کی بات کی جاتی ہے تو ان ممالک میں اس کا مطلب کچھ اور نکالا جاتا ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ یا مغربی ممالک کو ان کے طرز کی حکومت یا امن کو اگر دیگر مسلم ممالک اپنانا چاہے تو شاید سیدھے یا پھر کسی اور ذریعہ سے اس ملک کو بدنام یا پھر اس کے خلاف انسانی حقوق وغیرہ جیسا الزام لگا کر اسے ذلیل یا بدنام کیا جاتا ہے۔
میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور وہاں کی عوام کو ریفرنڈم کی جیت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ترکی سلطنتِ عثمانیہ کا نام ایک بار پھر بلند کرے ۔ تاکہ دنیا کا واحد ترقی یافتہ مسلم ملک اپنے وقار ، اسلامی قدر، اور تاریخ کے لئے ہمیشہ قائم و دائم رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *