زمردخان کا گناہ

Ayaz Amirنا قابل ِ یقین، ایک منتخب حکومت، ایک اسلحہ بردار شخص، جو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ قومی منظرنامے پر چھا گیا اور تمام حیرت زدہ قوم اُس کی حماقتوں کو دیکھ رہی تھی، کے سامنے احمقوں کی طرح بے بس دکھائی دی جبکہ اس کے گفتار کے غازی نثار علی خان جو عام طور پر خارجہ پالیسی سے لے کر عام قومی معاملات پر خاموش رہنا اپنے لئے باعث ِ عار سمجھتے ہیں، اس دن منظر ِعام سے ایسے غائب ہوجائیں کہ نہ دیکھنے میں آئیں اور نہ سننے میں۔
جناح ایونیو پر ہونے والا یہ ڈرامہ… اور اسے کیا کہا جائے… پانچ گھنٹے سے بھی طوالت اختیار کرگیا اور اس کے ناظرین، تمام قوم کی آنکھوں کے سامنے حکومت سنجیدگی کا تمام بھرم چاک کرتے ہوئے مسخرہ پن دکھاتی رہی۔جیسا کہ یہ ”پُرفارمنس“ کم نہ ہو، ٹی وی کیمروں کے سامنے زمرد خان نمودار ہوئے، سکندر کے بچوں کو پیار سے تھپکی دینے کے بہانے جھکے اور گن مین سکندر پر جھپٹ پڑے۔ اس کے بعد کچھ گولیاں چلیں اور سارا کھیل ختم ہو گیا۔ حکومت کے نقطہ نظر سے یہ اس ڈرامے کا غلط اختتام تھا کیونکہ زمردخان کا تعلق مخالف پارٹی سے تھا اور یہی اس میں سب سے اذیت ناک بات تھی۔ زمردخان کی اک جست، جس نے ”طے کر دیاقصہ تمام“ نے حکومت کو سکتے میں مبتلا کر دیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے لئے بہتر تھا کہ اگر اُن میں زمرد خان کی تعریف کا اخلاقی حوصلہ نہیں تھا تو وہ خاموشی اختیار کرتے لیکن اُن کے ہمہ وقت حاضر ِ خدمت غائب دماغ قوالوں، جن کا کام ہی پارٹی قیادت کی مدح سرائی ہے، نے زمردخان اور پی پی پی کو ہدف ِ تنقید بنانا شروع کردیا… زمرد واقعتاً حریف ِ دم افعی ہو چکا تھا۔
پھر کیا تھا، زمرد کے خلاف ایک مہم کا آغاز ہوگیا۔ اُس کے اقدام کو حماقت قرار دیا گیا کیونکہ اس کا نتیجہ خوفناک بھی نکل سکتا تھا۔ کہا گیا کہ گن مین ، جس کے پاس دو آٹو میٹک گنیں تھیں،اگر فائر کھول دیتا تو ہونے والی خونریز ی کا ذمہ دار کون ہوتا؟یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ زیادہ مضحکہ خیزکیا ہے…سرکاری محکموں کی بے عملی اور نااہلی یا اس کے بعد آنے والا احمقانہ رد ِعمل؟ یقینا زمرد کا اقدام خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا تھا لیکن پھر تو بہادری اور شجاعت کے ہر قدم میں خطرے کا پہلو لاحق ہوتا ہے۔ میدان ِ جنگ اور ہنگامی حالات میں ایسی ”حماقتیں “ کرنا پڑتی ہیں لیکن کیا کوئی ان گویّوں کو بتائے گا کہ خطرات مول لینے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟اس کا مطلب چانس لینا ہے اور ایسا کرتے ہوئے آپ جانتے ہیں کہ آپ کی جان جاسکتی ہے۔ بہت سے مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں خطرات بہت مہیب ہوتے ہیں اور کامیابی کا امکان بہت کم ہوتا ہے لیکن جرأت مند انسان رسک لیتے ہیں۔ بہادر انسان چکراتے ہوئے بھنور اور جلتی ہوئی آگ میں بے خطر کودتے رہے ہیں۔ کیا ان قوالوں نے ڈانٹن (Danton) کانام سنا ہے؟ اس نے انقلاب ِ فرانس کے دوران جبکہ ملک اندورنی آگ میں جل رہا تھا اور بیرونی محاذ پر اسٹریا کی فوج حملہ آور ہورہی تھی، نے قوم کی ہمت بڑھانے کے لئے نعرہ لگایا کہ ہمیں صرف اور صرف بہادری اور شجاعت کی ضرورت ہے۔
پہلی جنگ ِ عظیم کے دوران فرانسیسی کمانڈر مارشل فوچ ، جبکہ جرمن افواج پیش قدمی کررہی تھیں،نے نعرہ ِ مستانہ لگایا تھا…”میرے مرکزی فوجی دستے پیچھے ہٹ رہے ہیں، یہ بہترین صورتحال ہے، اب میں حملہ کروں گا“۔ ان گفتار کے غازیوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ قسمت کی دیوی بہادروں پر ہی مہربان ہوتی ہے۔ وہ خوف سے لرزتے ہوئے بزدل افراد کا پہلو گرم نہیں کرتی اور باتوں کو چھوڑیں، آپ جرأت ِ رندانہ کے بغیر تورقص کی پارٹی میں بھی کسی حسینہ کا دل نہیں لبھا سکتے۔ گھوڑے تو کمزور دل افراد کو اپنی پیٹھ پر ہاتھ بھی نہیں رکھنے دیتے۔ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے والے ہاتھ کسی دلربا کی زلفوں کے خم نہیں سلجھا سکتے ہیں (اس میدان میں میری قدرے ناکامیوں کی وجہ بھی یہی رہی ہے)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمرد کی جرأت سے ہلاکتیں ہوسکتی تھیں لیکن پھر طارق بن زیاد کا کشتیاں جلانے کا اقدام ، جبکہ…”دریم از سواد ِ وطن ، باز چوں رسیم “… والا معاملہ درپیش تھا، بھی اس کی فوج کی مکمل تباہی کا سبب بن سکتا تھا ، مشہور فاتح ہنی بال کوہ ِ الپس کو عبور کرتے ہوئے اپنے لشکر کی جان سے کھیل سکتا تھا، بابر کا چند ہزار کے لشکر کے ساتھ ہندوستان آنا ایک مہیب جوکھم تھا، منگول جنگجو اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور جا کر لڑتے تھے اور ان بہادروں کی جرأت آزمائیاں کسی وقت بھی غلط ثابت ہوسکتی تھیں…․پھر نتائج کا ذمہ دار کون ہوتا؟
اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ پرہونے والے طربیہ ڈرامے کو جاری رہنے دیا جاتا اور یہ زمردخان کو زیبا نہ تھا کہ اس میں کود پڑتا، لیکن اُس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور اس کو انجام تک پہنچا دیا۔ وہاں موجود افراد کے لئے یہ کارنامہ اسی نے تنہا سرانجام دیا تھا چنانچہ باقی باتیں بے معنی ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ خوش قسمت ہے۔ نپولین نے کہا تھا دیگر صفات کے علاوہ فوجی جنرلوں کو خوش قسمت بھی ہونا چاہئے۔ بے شک اب زمردخان کے کارنامے کو بے وقعت ثابت کرنے کے لئے کوشش جاری رہے گی کیونکہ پی ایم ایل (ن) اس فن میں مہارت رکھتی ہے جبکہ اس کے وزیر ِ داخلہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ اس معاملے کو مبہم بنانے کی پوری کوشش کریں گے لیکن وہ اس کی جتنی کوشش کریں گے، جتنا زیادہ اُن پولیس افسران ، جنہوں نے زمرد کو آگے جانے دیا، کودھمکیاں دی جائیں گی اتنا ہی وہ اپنے محکمے کی حماقت اور نااہلی کو طشت ازبام کریں گے تاہم وہ مرضی کے مالک ہیں اور اپنا اچھا برا جانتے ہیں۔ جب وہ1998 میں نواز شریف کے مشیر تھے تو ان کے مشورے پر ہی قوم کو مشرف جیسے آرمی چیف کا تحفہ ملا تاحال چوہدری نثار کی طرف سے اس مشورے پر معذرت نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح وہ موجودہ ناکامی پر بھی قوم سے معافی نہیں مانگیں گے۔ اس پر گوئبلز کی یاد آتی ہے”کوئی بات چاہے کتنی ہی ناقابل ِ یقین کیوں نہ ہو، اسے دہراتے رہیں، لوگ اس پر آخرکار یقین کرلیں گے“۔
اس وقت حکومت کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ قوم نے یہ حماقت براہ راست دیکھی ہے، چنانچہ اس میں مبالغہ آرائی یا پردہ داری کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔وسیع تر سیاسی منظرنامے کو دیکھیں تو پی پی پی اتنی پستی کا شکار ہو چکی ہے کہ کوئی بھی اس کو اچھے نام سے یاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جبکہ پی ایم ایل (ن) کے سامنے ایسے معاملات ہیں جن کی انجام دہی کے لئے معجزانہ طاقت کی ضرورت ہے۔ اب اس واقعے نے جہاں پی پی پی کی کچھ سانسیں بحال کی ہیں، وہیں نواز لیگ کی پیشانی عرق آلود کردی ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کو الگ معنوں میں ہلا دینے والا حافظ آباد کا ایک گمنام شخص سکندر ہے… واہ میرے مولا تیرے کام۔اس وقت ارباب ِ حکومت اور اس کے مدح سراؤں کے سامنے کچھ سوالات ہیں۔ اس وقت پاکستان بھی ویسے ہی مسائل کا شکار ہے جن کا فرانس کوانقلابی دور میں سامنا تھا…داخلی شورش اور دشمن دروازے پر، بلکہ گھر کے اندر۔ اس عالم میں کیا ملک کو عمران خان اور چوہدری نثار جیسے افراد کی مزید ضرورت ہے؟ان افراد کی بے جا احتیاط پسندی اور معذرت طلبی نے ملک کو گومگوں کی کیفیت میں مبتلا کر کے ایک حمام ِ گرد باد میں بند کررکھا ہے۔ اس وقت ہمیں نعرہ ِ مستانہ لگانے والے ایک جرأت مند شخص کی ضرورت ہے جو خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتا ہو۔ جیسا کہ نوخیز ملالہ یوسف زئی یابھاری بھرکم زمردخان۔
اس وقت دھیان نواز شریف کی طرف جاتا ہے،ان کے چہرے پر لوگ کنفیوژن دیکھتے ہیں اور کئی لوگ تو اسے گہرائی سے عاری قرار دیتے ہیں۔ اس پر قہر کہ ان کے گرد ایسے مشیر جمع ہیں جو اچھی صائب رائے دینے کے بجائے صرف لاف زنی کر سکتے ہیں۔ وہ معمول کے حالات میں کام دینے والے وزیر ِاعظم ہیں لیکن یہ معمول کے حالات نہیں ہیں تاہم ہمیں دل چھوٹا کرنے کے بجائے ڈانٹن کی کسی دھندلی سی جھلک کے ہویدا ہونے کیلئے دعا کرنی چاہئے۔ ہمیں حقیقی ڈانٹن چاہئے بھی نہیں کیونکہ ہماری قوم کو فی الحال اس طرح کی دلیری کی ضرورت نہیں چنانچہ ایک طرف ملالہ ہے اور دوسری طرف زمرد خان۔ ان کے درمیان میں ہماری قوم گویا ایک طرح کے صحرا میں اسیر ہے لیکن شاید اُڑتے بگولے کسی کی آمد کی خبر دے دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *