دلاری خالہ

madeeha-riaz

اس کی زندگی کو جہنم بنانے والی اس کی دلاری خالہ اس کی کیا بلکہ پورے محلے کی دلاری خالہ تھیں ۔بچوں سے لیکر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتیں بالیوں کی خالہ اور تو اور پورے محلے کی بہوؤں اور ساسوں کی بھی دلاری خالہ تھیں ۔دلاری خالہ کے لہجے میں شیرینی پائی جاتی۔ لہجہ گڑ سے بھی زیادہ میٹھا اور دل کینے اور بغض سے بھرا ہوا۔دلاری خالہ کے پاس نہ جانے ایسا کونسا ہنر تھا کہ اگلے سے سب کچھ اگلوا لیتیں ۔بلکہ اگلا خود ہی سب کچھ بتانے پر مجبور ہوجاتا اپنی داستان حیات ۔جن میں بالیوں کی عشقیہ داستان 'بہوؤں کی زندگی کا درد 'اور ساسوں کا اپنی بہوؤں کے خلاف کینہ ۔دلاری خالہ خود اگلے سب کچھ اگلوا لیتیں۔ اور اپنے راز کو ہوا تک نہ لگنے دیتیں ۔مگر دوسروں کی حرکات و سکنات کو بڑی گہری نگا ہ کی زد میں رکھتیں ۔

Image result for pakistani old karachi women

جیسا کہ محلے میں شادی اور دلاری خالہ ہر کام میں آگے آگے جیسے اپنے ہی گھر کی شادی ہو ۔اور دیکھنے والا سراہے بغیر نہ رہ سکتا ۔اور جیسے ہی شادی کا فنکشن ختم ہوا اور دلاری خالہ محلے کے دورے پر ۔دلاری خالہ کا بغض باہر آنے لگا دوران محلے کے دورے پر ۔کہ عثمان کی تو پسند کی شادی ہے ماں باوا تو مان نہیں رہے تھے اور یہ تو لڑکی بھگانے لگا تھا تبھی ماننا پڑا ماں باپ کو ۔اگرمحلے میں کسی کی میت ہو گئی تو خالہ میت کو غسل دینے میں آگے آگے اور جیسے ہی میت کی رسم قل ہوئے تو میت کے بارے میں دلاریخالہ نے گل افشانیاں شروع کر دیں ۔محلے میں ادھر کی بات ادھر کرنے میں دلاری خالہ کا کوئی ثانی نہیں ۔ دلاری خالہ کے ہاتھوں تو بچے بھی نہیں بچ پاتے ۔محلے کے عاشقوں اور معشوقاؤں کے رقعے پہنچانے کے لئے قاصد کا کام کرتے وقت دلاری خالہ کے ہاتھوں پکڑے جاتے ۔اور پھر خوب ماؤں سے مار کھاتے ۔محلے کے مرد حضرات بھی خالہ کے پاس آکر جی کا بوجھ ہلکا کر لیتے ۔کبھی اپنے ماں جاؤں کی برائیاں کرتے تو کبھی شریقے کی برائیاں کرتے ۔اور خیر اگر شریقہ برادری بھی اسی محلے میں قیام پذیر ہوتی تو پھر دلاری خالہ براہ راست دنگل دیکھ رہیں ہوتیں ۔اور دلاری خالہ سب سے زیادہ خطرے کی علامت محلے کی بالیوں کے لئے تھیں ۔کیونکہ وہ بڑے پیار سے ان نوعمر بالیوں سے ان کی عشقیہ داستانیں سنتیں اور انھیں امید دلاتی کہ وہ ان کے ماں باوا کو ضرور سمجھائیں گی ۔اور ضرور رشتے کی بات چلائیں گی ‘ اس طرح وہ بھی پھنس گئی ۔جب محلے کے بچے پپو سے اس کا خط پکڑا ۔پھر کیا تھا دلاری خالہ نے اپنے شرینی لہجے سے اس سے سب کچھ اگلوا لیا اور پھر اسے تسلی دی کہ وہ اس کے ماں باپ کو ضرور اس رشتے کے بارے میں بتائیں گی اور سمجھائیں گی جہاں وہ چاہتی ہے ۔پھر کیا تھادلاری خالہ نے نمک مرچ لگا کر اسکی اماں کے گوش گزار کر دی اس کی عقیہ داستان ۔اس کے اماں صاحبہ نے اس کی اپنی حیدرآبادی چپل سے اسکی درگت بنائی ۔اسکی ماں نے اسکی شادی اس سے دوگنی عمرکے شخص سے کروا دی ۔ میری پیاری بہنوں سے گزارش ہے کہ اپنے آپ کو دلاری خالہ جیسی فطرت رکھنے والی خاتون سے بچائیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *