Site icon DUNYA PAKISTAN

کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہندو نوجوان ہلاک: ’گھر میں لاش پڑی ہو تو شادی کیسے ممکن ہے‘

Share

’جب گھر میں لاش پڑی ہو تو کیسے ممکن ہے کہ یہاں شادی کی رسومات ادا ہوں۔ اب گھر میں مایوں کی جگہ کمل کی آخری رسومات ادا کر رہے ہیں۔‘ چمن لال مہیشوری جب مجھ سے بات کر رہے تھے تو اس وقت اٹھارہ برس کے کمل مہیشوری کی لاش کو آخری رسومات کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

کمل مہیشوری کو منگل کی شب پولیس نے ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد کراچی میں مہیشوری کمیونٹی نے نیو ٹاؤن تھانے کے باہر دھرنا دیا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں متعلقہ حکام کی طرف سے اس مقابلے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا۔

اس سے قبل پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد موبائل فون چھین کر فرار ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تعاقب کے دوران پولیس مقابلے میں ’ایک ڈاکو ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔‘

ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے نوجوان کمل مہیشوری کے والد کشن مہیشوری کی درخواست پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

درج مقدمے میں نوجوان کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا کمل، ان کے دوست کے بیٹے انیل کے ساتھ کمیٹی کے پیسے لینے لیاری گیا تھا، جہاں سے وہ رات کو گیارہ بجے واپس لوٹ رہے تھے۔ نیو ٹاؤن کے قریب پہنچے تو پولیس کی موبائل نے انھیں روکا اور ان کی تلاشی لی۔ ان سے 80 ہزار رپے نقد اور ایک ’پیانو کی بورڈ‘ برآمد ہوا۔

کشن کا دعویٰ ہے کہ انیل کو انھوں نے اندر بلا لیا اور ان کے بیٹے کمل کو کہا کہ بھاگو۔۔۔ ’جب وہ بھاگا تو پیچھے سے ان پر فائرنگ کر دی گئی، جس میں میرا بیٹا ہلاک ہو گیا۔‘

ان کے مطابق پولیس نے ان کے بیٹے کمل اور انیل کے خلاف جھوٹی ایف ائی آر بھی درج کر دی۔

کمل کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس نے انھیں فون پر کال کر کے کہا کہ کمل اور انیل تھانے میں بند ہیں، آپ یہاں پہنچیں لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو پولیس نے کہا کہ آپ کا بیٹا پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔

ایس پی انویسٹیگیشن طارق مستوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد ایک سب انسپیکٹر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

’بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ان کی وہاں موجودگی پائی گئی، جس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا اور مزید تفتیش جاری ہے۔‘

’بدھ کو دو کزنز کی مایوں تھی‘

مہیشوری پنچائت کے رکن اور کشن مہیشوری کے رشتہ دار چمن لال نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں لڑکوں کو ٹک ٹاک بنانے کا بھی شوق تھا۔

’اس روز علاقے میں بجلی بھی نہیں تھی، وہ اپنے ساتھ لائیٹ بھی لے کر گئے تھے۔ ان کے مطابق اس دن گھر میں کمل کی دو کزنز کی مایوں کا پروگرام چل رہا تھا جس میں سب مصروف تھے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے دونوں کے فون بھی بند کر کے کمل کی لاش چھیپا سرد خانے میں رکھ دی تھی۔ ان کے مطابق جب ہم بعد میں تھانے گئے تو وہاں سے پتا چلا کے کمل کی ہلاکت کو پولیس مقابلہ قرار دیا گیا ہے۔

کمل مہیشوری آفس اٹینڈنٹ کا کام کرتے تھے۔ ان کے والد ڈرائیور جبکہ ان کی والدہ گھروں میں کام کرتی ہیں۔

چمن لال کے مطابق کشن کے بھائی کی بیٹیوں کی شادی تھی جن کی بدھ کو مایوں تھی لیکن اب شادی ملتوی کردی گئی ہے۔

’ماورائے عدالت قتل، پولیس کے لیے پرفارمنس دکھانے کا ذریعہ‘

خیال رہے کہ کراچی میں یہ پہلی بار نہیں کہ پولیس کے مبینہ مقابلے میں کسی نوجوان کی ہلاکت ہوئی ہو۔ نقیب اللہ محسود سمیت ایسے کئی مقدمات سامنے آچکے ہیں۔

وروک یونیورسٹی کے شعبے کریمنالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور کراچی پولیس پر محقق ڈاکٹر زوہا وسیم کہتی ہیں کہ پولیس میں ماورائے عدالت قتل اس قدر عام ہو گیا ہے کہ اب اس ریت کو پولیس کے ادارے سے نکالنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

ان کے بقول نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد سنہ 2018 اور 2019 میں کچھ قدر اس ٹرینڈ میں کمی تو آئی تھی لیکن پھر سنہ 2021 اور 2022 کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس رجحان میں اضافہ ہوا۔

ان کے مطابق سنہ 2021 میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تعداد 53 تھی اور 2022 میں ایسی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 100 سے زائد ہو گئی۔

ان کے خیال میں یہ سنہ 2015 اور سنہ 2016 سے کم ضرور ہیں جب کراچی میں آپریشن جاری تھا لیکن اس رجحان میں اضافہ نظر آتا ہے۔

زوہا وسیم کا کہنا ہے کہ جرائم میں اس وجہ سے ہی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ریاست سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور پر اس کا حل نہیں نکال پاتی۔

ان کے مطابق ماورائے عدالت قتل اب پولیس کے لیے بھی پرفارمنس دکھانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔

ان کے مطابق پولیس ہر سال رپورٹ میں یہ بتاتی ہے کہ کتنے مقابلے ہوئے، کتنے لوگ مارے گئے اور کتنے پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ زوہا وسیم کے مطابق پولیس کو پتا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات تو کی نہیں جائیں گی اس وجہ سے وہ یہ سب اور بھی دیدہ دلیری سے کرتی ہے۔

Exit mobile version