امپائر کی انگلی سے ٹویٹ کی واپسی تک!

naeem-baloch1
’’جمہوریت جیت گئی‘‘۔
’’ پھر بچ گئے !‘‘
’’اونہہ، چاٹنا پڑ گیا ‘‘۔
’’حکومت نے مریم نواز کو بچا لیا‘‘۔اعتزازاحسن ۔
’’ڈان لیکس قومی معاملہ ہے ، تفصیل سے آگاہ کیا جائے ‘‘۔ عمران خان
’’ٹوئٹ کا واپس لینا فوج کی جانب سے ایک نہایت قابل تعریف بات ہے۔ آئین کی سربلندی ہم سب کا فرض ہے۔۔۔۔ اسی جذبہ کے تحت بالکل درست فیصلہ کیا اور اس کے لیے ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ آج ہم نے بحیثیت ایک قوم آئین کی بالادستی کی طرف ایک ٹھوس قدم آگے بڑھایا ہے۔ اس کے بعد حکومت کو بھی اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے آئینی حکمرانی کو یقینی بنانا ہو گا۔ ‘‘
’’ٹویٹ کا معاملہ وزیراعظم کی ذات سے متعلق نہیں تھا۔ یہ وزیراعظم کے عہدے سے متعلق تھا۔ اگر عہدوں کا احترام نہیں رہے گا تو پھر ان پر کیسی ہی بڑی اور ثقہ شخصیت متمکن ہو اسے بھی بے وقعتی کا سامنا رہے گا۔ ہمیں اپنے اپنے پسندیدہ لیڈر کے لیے ان عہدوں کی تکریم برقرار رکھنا ہے تاکہ جب وہ ان پر فائز ہوں تو پورے اعتماد اور اختیار کے ساتھ کام کر سکیں۔ ‘‘
’’سوشل میڈیا کے کچھ حصوں میں جاری مہم سے اندازہ لگا لیجیے کہ کوئی اور "اسٹیبلشمنٹ " بھی کہیں کام کر رہی ہے جو اپنے حسب منشا نتائج نہ نکلنے پر سول حکومت حکومت کو ہی نہیں فوج کو بھی اس ہتک آمیز طریقہ سے مخاطب کر رہی ہے۔ اس کا پتا لگانا اہم ہے کیونکہ یہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں۔ ان کا ایجنڈا صرف انتشار ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ حکومت کے خلاف ہر سوشل میڈیا کیمپین کے پیچھے فوج نہیں ہوتی۔‘‘
یہ ہیں قابل ذکر تبصرے جو ٹویٹ کی واپسی پر خوش اور ناراض ہونے والے دانش وروں نے کیے۔ لیکن تاریخ پاکستان کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب ہماری اولین قیادت نے آزادی کے بعدلارڈ ماوٗنٹ بیٹن کو مشترکہ گورنر جنرل کے طور پر رد کر دیا اور جنرل آرکنلک(Sir Claude Auchinleck)کو مشترکہ فوجی سربراہ کے طور قبول کر لیا ۔اور پھر قائداعظم محمد علی جناح کو جنرل گریسی کا وہ مشہور انکار سننا پڑا جو اس نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کے ساتھ جنگ کرنے سے معذوری کا اظہار کرکے کیا تھا۔ جنرل گریسی کا موقف تھا کہ وہ اپنے آرمی چیف کے ماتحت ہے ،اس لیے اس حکم پر عمل درآمد سے قاصر ہے۔اس کے بعد جب پاکستان کے پہلے پاکستانی آرمی چیف جنرل ایوب خاں بنے تو انھوں نے مارشل لاء کا ’’ افتتاح ‘‘ کیا ۔ آئین کو معطل کیا ۔خود آئین بنایا لیکن وہ اس آئین کے ’’ گھنٹا گھر ‘‘ تھے۔ جاتے ہوئے وہ دوسرے پاکستانی آرمی چیف جنرل یحییٰ کو اقتدار سونپ گئے ۔ انھوں نے بہت ایمان داری سے الیکشن بھی کرائے اور پوری ایمان داری سے ’’صدر پاکستان ‘‘ رہنے کی ایسی کوشش کی جس کا نتیجہ سب کو معلوم ہے ۔ ملک جب آئی سی یو میں چلا گیا تو جمہوریت کا ٹیکا لگایاگیا ۔ آئین کی شکل میں مستقل علاج کیا گیا ۔ لیکن ایسا ردعمل ہوا کہ اس ’’پھوڑے ‘‘ سے جنرل ضیاء الحق برآمد ہوئے ۔انھوں نے اپناآپریشن کرنے کے بجائے آئین کا آپریشن کر ڈالا۔ اس آپریشن کو یار لوگ غصے میں بلاد کار بھی کہتے ہیں ۔ اسی کے نتیجے میں ایسا کلچر پیدا ہوا کہ وزیراعظم کے احکامات کو اسی طرح پامال کیا جاتا رہا جیسے جنرل گریسی نے کیا تھا حالانکہ اب راستے میں بظاہر کوئی جنرل آرکنلک نہیں تھا ۔ یہ سلسلہ آپریشن کارگل تک جاری رہا ۔ یہاں تک کہ جنرل پرویز مشرف نے جب وردی اتار دی تو انھیں معلوم ہوا کہ بغیر ڈھال کے تو وہ زرداری جیسے’’ ایمان دار ‘‘سولین صدر کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد حقائق کے ادراک کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔اور آج ڈان لیکس کا سورج جب غروب ہوا ہے تو لوگوں کو بہت حد تک یقین آگیا ہے اب انگلیوں کا انتظار بے فائدہ ہے ، اس انگلی سے کوئی اور کام لیا جا سکتا ہے ۔ ابھی تو ہم پاکستانیوں کو جنرل گریسی سے شروع ہونے والی’ ٹویٹ‘ کو ’’ ری ٹویٹ ‘‘ ہونے کے عمل کو لطف اندوز ہونے دیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *