جبری اور بے جوڑ شادیاں

اسد مفتیasad

گزشتہ ہفتے مقامی چینل پر جنگ فورم لندن کا شادیوں کے بارے میں ایک خصوصی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جسے جنگ اور جیو لندن کے افتخار قیصر نے حسب معمول سلیقے اور قرینے سے پیش کیا ۔ یوکے میں بسنے والی ایشیائی کمیونٹی میں جبری ، بے جوڑ اور سہولت کی شادیوں کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے یا کرگیا ہے اس بات کا اظہار اس خصوصی ٹی وی پروگرام میں بخوبی کیا گیا ہے ، میرے حساب سے یہ ایک ’’ یورپ گیر ‘‘ شو تھا جسے اسکاٹ لینڈ کے شہر ڈنڈی میں ریکارڈ کیا گیا تھا کہ اسکاوٹ لینڈ میں ایسا کرانے والے والدین، عزیزواقارب یا سرپرستوں کودوسال تک کی سزا دی جاسکتی ہے ۔
برطانیہ اسکاٹ لینڈ اورآئرلینڈ کی ایشیائی کمیونٹی میں جبری اور بے جوڑ شادیوں کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ایک اندازے کے مطابق صرف اسکاٹ لینڈ میں ہر سال لگ بھگ ساڑھے تین سو ایشیائی شادیاں ہوتی ہیں جن میں پچاس فیصد شادیاں جبری یا بے جوڑ شادیوں کے زمرے میں آتی ہیں اس قسم کی صورتحال سے جوڑے کے علاوہ نہ صرف ان کے خاندانوں کےبلکہ نسلی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں کونسل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 88فیصد شادیوں میں ایک فریق کا تعلق ’’ غیر ملک ‘‘ سے ہوتا ہے ، 79فیصد شادیاں معاوضہ، بے جوڑ اور مفادات پر مبنی ہوتی ہیں (جنہیں سہولت کی شادی بھی کہا جاتا ہے) جبکہ 21فیصد خالصتاً جبری تھیں، شادی کرنے والی خواتین کا تناسب 62فیصد اور مردوں کا تناسب38فیصد تھا جبکہ 35فیصد کو ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا جبری شادی پر مجبور کی جانے والی خواتین کی عمر16سے20سال کے درمیان تھی ، یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ میں مرضی اور منشا کے خلاف زبردستی شادیوں کے نتیجہ میں بعض لڑکیاں خود کشی تک کر بیٹھتی ہیں اور جس کی شرح ایشیائی لڑکیوں میں دیگر خواتین کی نسبت تین گنا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ایک نیا قانون ملک میں متعارف کرایا ہے جس کے تحت قصور وار افراد پر مقدمہ چلایا جاسکے گا ۔ اس لئے آنے والے وقت میں انگلستان میں مقیم ایشیائی والدین اپنے بچوں کی جبری شادی کروانے پر کڑی سزا کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا ۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے حوالے سے بھی خبر آچکی ہے انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ حکومت جبری اور بوگس شادیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گی ، علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بھی یورپین اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پھر کہا ہے کہ منظم گروہ بوگس شادیاں اور سہولت کی شادیاں کروا کے بھاری رقم بٹور رہا ہے اور ایسی شادی کیلئے کسی بھی ایشیائی ملک سے آنے والے کو برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس لئے قانون کے تحت کسی ایشیائی والدین کے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اپنے بیٹے بیٹی یا بھائی بہن کی شادی اسکی مرضی کے خلاف کراسکیں۔ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سالانہ 12سو شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہیں مگر اب آئندہ ایسا نہیں ہوسکے گا جبری شادی نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہےبلکہ مذہب یا کلچر کے حوالے سے بھی اس کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ، ہمارے مقابلے میں بھارتی کمیونٹی میں اگرچہ اس قسم کی بے جوڑ اور جبری شادیوں کی مثالیں کم ہیں، تاہم پورے برصغیر میں ان کا رواج ہے اسلام کا نقطہ نظر قانون نکاح و طلاق میں بالکل واضح اور بے غبار ہے ۔ جس طرح اسلام کا مطلب امن وسلامتی ہے اسی طرح ’’ شادی ‘‘ کا مطلب خوشی وتسکین وراحت ہے اسلام میں شادی کا مقصد بھی دل کو راحت ہے ، ضمیر کا استقرار ہے تاکہ مردوعورت محبت ، رحم وہمدردی، یکسانیت و ہم آہنگی ، باہمی تعاون آپس کی شفقت ومہربانی اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کے ساتھ زندگی گزاریں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب اس کام میں دونوں فریقوں کی سوفیصد رضا مندی اور محبت شامل ہو جب اسلام میں جبر نہیں ہے تو شادی میں یہ کیسے روا ہوسکتا ہے ؟ اسلام نے عورت کوبہت سے حقوق دئیے ہیں اس میں پہلی چیز شریک حیات کے انتخاب میں اس کی پسند اور معیار کا خیال رکھنا اور نکاح کے وقت سوفیصد اس کی رضا مندی ہونا ضروری ہے ۔ یہاں میں عہد رسالتؐ کا ایک واقعہ بتانا ضروری سمجھتا ہں ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک مالدار شخص سے کردیا ، لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی تھی اس نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ میرے والدین نے میرے شادی اپنے دولت مند بھتیجے سے کردی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ’ تجھ کو یہ عقد پسند نہیں تو تو آزاد ہے ‘‘۔ تواس لڑکی نے جواب دیا۔ میرے والد نے جو اقدام کیا ہے اس کو میں بحال کرتی ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ عورتوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی مرضی کے خلاف والدین کو ان کے نکاح کا حق نہیں ہے ‘‘۔ ( مسند احمد ج2ص136)
آخر میں، میں والدین سے جو جبری شادیوں کے قائل ہیں سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسا کرنے سے اجتناب کریں کہ یہی ان کے اور معاشرے کے حق میں بہتر ہے۔
اس لئے ہیں اندھیرے خفا خفا مجھ سے
کہ ہم چراغ ضیاء بار کرنا چاہتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *