سی ایس ایس کے امتحان کا نتیجہ دو فی صد

download

پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

جن بابوں کی آنکھیں زوال کی اس انتہا کے بعد بھی نہیں کھل رہیں، وہ ہمیں اب اور کیا دیں گے؟
جو یہ تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس ذلالت کی وجہ صرف اور صرف انگریزی کا اس ارض پاک پر مسلط ہونا ہے وہ اور کیا رہنمائی کریں گے.
بہتر ہے ان منجمد ذہنوں والے ناکارہ بڈھوں کو فارغ کر کے ان کی جگہ پاکستانی سوچ اور ذہن کے حامل افراد کو ان اداروں کی ذمہ داری دی جائے.
اسکولوں میں، کالجوں میں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے نام پر جو دھوکہ دہی ہو رہی ہے اس کو فی الفور بند کیا جائے. اس کا واحد راستہ فوری طور پر تمام شعبہ ہائے تعلیم میں ہر سطح پر اردو کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک سے انگریزی کی مکمل بے دخلی ہے.
میں 300 سال سے شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوں اور اس تمام زوال کا عینی شاہد ہوں، اسکولوں میں رٹا، کالجوں میں رٹا، یونیورسٹی میں رٹا، ہر سوال کے ہر جواب کا رٹا، حتی' کہ کثیرالانتخابی سوالات تک کا رٹا لگایا جاتا ہے، کمال یہ کہ ریاضی کے تمام سوالات اور ان کے جوابات کا رٹا لگایا جاتا ہے. رہی سہی کسر نقل اور دیگر ناجائز ذرائع کا استعمال پوری کر دیتا ہے.
اس صورت حال میں فہم، سمجھ، تجزیہ، تحقیق، جستجو، تخلیق کہاں سے آئے گی. سی ایس ایس کو چھوڑیں پچھلے 20 سال میں ان تعلیمی اداروں سے نکلے کسی ایک بین الاقوامی شہرت کے حامل سائنسدان کا نام ہی بتا دیں.
پھر سی ایس ایس کے امتحانی پرچہ جات ہیں. اس قدر پست معیار کے حامل پرچوں کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا. میں نے اس قدر پست معیار کے پرچے آج تک نہیں دیکھے. (جب ان پرچوں کے پست معیار کے بارے میں اخبار ڈان میں مضمون چھپا تو وفاقی پبلک سروس کمیشن کی ویب سائیٹ سے پچھلے سالوں کے پرچوں کا ربط ہٹا دیا گیا).
غضب یہ کہ تمام مضامین کے تمام پرچوں کا مطمح نظر امیدوار کی انگریزی جاننے کی صلاحیت کو جانچنا ہے. ایسی انگریزی جو برطانیه کی کسی یونیورسٹی میں انگریزی کا انگریز پروفیسر بھی جاننے سے قاصر ہو. یعنی سی ایس ایس کے امیدوار کی کل قابلیت اس معیار کی انگریزی جاننا ہے جو منجمد ذہنوں والے بابوں کے ذہن کے مطابق ہو. دنیا چاند پر اور اس سے آگے پہنچ گئی بابے 1947 سے آگے آنے کو تیار نہیں.
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے تمام نظام کو فی الفور اردو میں ڈھالا جائے.
تمام سطحوں پر تعلیم اردو میں دی جائے.
سی ایس ایس سمیت مقابلے کے تمام امتحان اور انٹرویو اردو میں منعقد ہوں.
انگریزی کو پاکستان سے کلی طور پر بے دخل کیا جائے.
آئین پاکستان کی شق 2511 کے مطابق اردو کو پاکستان میں نافذ کر کے انگریزی کو بے دخل کیا جائے.
8 ستمبر 2015 کے عدالت عظمیٰ کے حکم نامے پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے.
14 فروری 2017 کے عدالت عالیہ کے 20188 سے سی ایس ایس کے امتحانات اردو میں لینے کے فیصلے کو معطل کرنے کے جسٹس منصور علی شاہ کے حکم کو کالعدم قرار دے کر 2018 سے سی ایس ایس کے امتحانات اردو میں لینے کے واضح احکامات جاری کے جائیں.
اس کے علاوہ بابے جو مرضی کر لیں ان کا عمل پانی میں مدھانی پھیرنے کے سوا کچھ حیثیت نہیں رکھے گا.
یہ بابے اس ملک کا کافی مال لوٹ چکے ہیں یہ خود ہی ان عہدوں کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے. یہ آخر کس چیز کے منتظر ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *