ٹویٹ ریٹرنز

اعجاز حیدر

ejaz haider

پاکستانی سیاست کی ایک مضحکہ خیز چیز یہ ہے کہ پہلی بار ہماری فوج ایک صحیح قدم اٹھانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنے پر مجبور ہے ۔ فوج نے ایک ایسے معاملے سے اپنا ہاتھ نکال لیا ہے جو اگر کچھ عرصہ تک طول پکڑ لیتا تو ملک کے نظام کو عد م استحکام کا شکار کر دیتا اور سویلین حکومت اور ملٹری کے بیچ اختلاف خطرناک حد تک چلے جاتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحیح قدم اٹھانے اور سسٹم کا مطلب کیا ہے۔ زندگی انفرادی اور اجتماعی لحاذ سے صحیح راستے کا انتخاب اور اپنے اعمال کے نتائج پر نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے کا نام ہے۔ پہلی چیز کو دیکھا جائے تو کسی کو بچانے کےلیے جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں ہے کیوں کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے۔ دوسری چیز پر نظر ڈالی جائے تو جھوٹ بولنا اصل مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اگر آپ سچ بولتے ہیں تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ پہلا معاملہ absolute ہے اور دوسرا relative ہے۔ دوسرے الفاظ میں جہاں جھوٹ بولنا اچھی چیز نہیں ہے وہاں یہ بات بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہر بار صحیح قدم اٹھانا بھی غلط ثابت ہو سکتا ہے۔

سسٹم کیاچیز ہے جسے ہم عدم استحکام سے بچانا چاہتے ہیں؟ پولیٹیکل فالٹ لائن کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سپورٹرز جنہیں پٹواری قرار دیا جاتا ہے ان کی یہی خواہش ہو گی کہ وہ اس چیز کو تسلیم کریں کیونکہ یہ ان کے لیے فائد ہ مند ثابت ہو گا۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کو یوتھیاز کہا جاتا ہے اور وہ سسٹم کو لٹکا نا ہلانا، اور ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ہر کوشش کے باوجود حکومت گرانے میں ناکام ہیں۔ یہاں حکمران کو relativity کی ضرورت ہے جب کہ چیلنجر اپنے خاص مفادات کی وجہ سے absolutism چاہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر چیلنجر حکمران کی جگہ ہوتے تو وہ بھی استحکام اور relativity کو ترجیح دیتے۔

آرمی نے بیچ میں کھڑے ہو کر اپنے پرانے آنے اور جانے کے گناہوں کی وجہ سے ایک طرف سے اینٹوں کا سامنا کرتی ہے اور دوسری طرف سے بلوں کا۔

سسٹم اپنی فارم میں ماڈرن اور سبسٹینس میں کمزور ہوتا ہے۔ کسی بھی دن آپ کو یوں محسوس ہو سکتا ہے کہ سسٹم کا کیسے کیسے استحصال کیا جارہا ہے۔ کوئی شخص اس فارم کو چیلنج نہیں کرتا۔ یہ سبسٹینص یا اس کی غیر موجودگی ہے جو عوام کے اشتعال کا باعث بنتی ہے۔

اس لحاظ سے بھی تاریخ نے ہمارے سامنے دو ماڈل پیش کیے ہیں۔ ایک bastille ہے اور دوسرا بہتر پرانا انگلش gradualness ہے۔ ان میں سے پہلے کا تعلق سسٹم پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دینے سے تعلق رکھتا ہے جو ہمیشہ خونریزی پر منتج ہوتا ہے ۔ دوسرے ماڈل کا تعلق غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ پہلا ایک اچانک سیلاب کی طرح ہے جب کہ دوسرا آہستہ آہستہ بارش کے باعث بڑھتا ہوا سیلاب ہے۔

دوسرے الفاظ میں ایک نظام ایک فرد سے ہمیشہ زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے چاہے یہ کبھی کبھار ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں میں کھیل ہی کی اہمیت کیوں نہ اختیار کر جائے۔

استحکام کا مطلب سسٹم کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اقدامات کرنا ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کس طرح کے چھچھورے پن کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ آئین سٹائن نے کہا تھا: میں چھچھورے پن کے ساتھ سادگی کو اختیار کرنے کی بجائے چھچھورے پن کے خلاف جا کر سادگی اپنانے کے لیے ساری زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوں۔

آرمی سے مداخلت کی توقع کرنا، ماضی سے سیکھے اسباق کو بھول جانا، بہادری اور عقلمندی کو کمزوری سمجھنا، اس پر آوازے کسنا صرف اس لیے کہ اس نے پروفیشنل رویہ کا مظاہرہ کیا ہے یہ سب چیزیں اس چھچھورے پن کی علامت ہیں جو کوئی بھی عقلمند شخص اپنانا نہیں چاہے گا۔

یہ خیال چھوڑ دیں کہ جو لوگ اب فوج کو گالیاں دے رہے ہیں انہیں اس چیز کا احساس ہو گیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کو ایک ریاستی ادارے کی عزت پر حرف لانے کی وجہ سے رخصت ہوتا دیکھنا چاہیے تھے اور اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ وہ اب اس سے بھی برا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یہاں دونوں اطراف کو کچھ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو سول حکومت کے تحت رہنا چاہیے لیکن موجودہ حکومت کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ کیبنٹ کمیٹی اور نیشنل سکیورٹی جیسے آئینی مکینزم کا استعمال کریں، ایسے سخت اقدامات کریں جن سے ملک میں انارکی پھیلانے والوں کی کوشش بے اثر ہو جائے، پارلیمنٹ میں آیا کریں اور وزیر اعظم سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرین، اہم معاملات اور پالیسویں پر باقاعدگی سے بریفنگ دیں تا کہ لوگ اندازے نہ لگا سکیں، گورنمنٹ اور میڈیا کے بیچ تعلقات کو مضبوط رکھنے کےلیے معلومات کے حصول کے حق کو تسلیم کریں، آرمی کو اپنا مخالف سمجھنا چھوڑ دیں، گورننگ کا عمل شروع کریں اور شیر شاہ سوری کی طرح ایکٹنگ کرنا بند کریں، ون مین فارین منسٹری کی ایکٹنگ بند کریں، احتسابی اداروں کو کمزور کرنے کی بجائے طاقتور بنائیں اور پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھنا بند کر دیں۔

اس کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں لیکن فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم میں سے جو لوگ سسٹم کی بات کرتے ہیں وہ ن لیگ کی بات نہیں کرتے محض اس لیے کہ اس وقت ن لیگ کی حکومت ہے۔ نہ ہی ہم یہ کہنے سے کتراتے ہیں کہ وزیر اعظم کی اپروچ میں غلط چیز یہ ہے کہ جب تک انہیں پانامہ معاملے میں کلین چٹ نہیں مل جاتی، ان کی اخلاقی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ البتہ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی طرف سے اختیار کیا گیا ضد اور ہٹ دھرمی کا غیر ذمہ دارانہ رویہ درست نہیں ہے۔ یہ رویہ ان پارٹیوں کے سابقہ نظریہ کے بلکل بر عکس ہے۔

سب سے آخر میں آرمی کی بات کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹویٹ واپس لینا فوج کی ہار ہے اصل میں وہی لوگ شکست خوردہ ہیں۔ ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے جو لوگ اس ملک کے دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں ان کو میرا پیغام ہے کہ آپ نے اپنی غلطی کو درست کر کے ایک اچھا کام کیا ہے۔ اس کے لیے بہادری اور ویژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چیز آپ کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹویٹ تیز ترین کمیونیکیشن کا ذریعہ ہے۔ یہ ٹھیک ہے لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ تیز ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ صحیح اور سچ پر مبنی ہو۔

انٹرا سٹیٹ کمیونیکیشن اور کوآرڈی نیشن 5 روزہ ٹیسٹ میچ کی طرح ہوتے ہیں نہ کہ ٹی 20 میچ کی طرح۔ کئی بار آپ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کئی بار آپ بلکل صحیح نشانہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پانچ منٹ میں پانچ راؤنڈ ہوتے ہیں جیسا کہ گیم کا ضابطہ ہے۔ ایسے معاملے میں یہ ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ کب کیا کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حقیقی ناقدین کے خلاف سپانسر کیے گئے اور bot ہینڈل استعمال کرنا صحیح طریقہ نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ظاہر ہے، یہ طریقہ آپ کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب آپ صحیح راستے پر ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *