عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹس کی اہمیت

محمد احمد پنسوٹا

پانامہ کیس کا فیصلہ آخر کار 20 اپریل کو سنا دیا گیا ۔ 2 ججز نے وزیر اعظم کی نااہلی کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ 3 ججز نے جے آئی ٹی بنا کر مزید تحقیقات کی تجویز دی۔ سابقہ امریکی چیف جسٹس چالز ایونز ہیوز کے الفاظ میں عدالتی فیصلے میں اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں اس چیز کو مد نظر رکھ کر فیصلہ دیا جائے گا۔ اس فیصلے پر ہر پہلو سے نظر ڈالی گئی اور بحث کی گئی جب کہ جسٹس کھوسہ کے اختلافی نوٹ کو بہت زیادہ توجہ حاصل ہوئی۔ اس فیصلے کے بہت سے پہلو ہیں جن میں ایک مشہور قول بھی شامل ہے جو ماریو پوزو کے ناول دی گاڈ فادر سے لیا گیا ہےجس سے ایک عام آدمی کو گمان ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔ اگرچہ اس فیصلے پر دو اختلافی نوٹ شامل تھے لیکن سب سے زیادہ اہمیت کا حامل جسٹس کھوسہ کا نوٹ تھا ۔

جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار کے فیصلے ایسے نتائج پر مبنی تھے جو پورے دلائل کی روشنی میں کیے گئے تھے۔ کچھ لوگوں نے جسٹس کھوسہ کے نوٹ کو وزیر اعظم کے خلاف تعصب کا اظہار قرار دیا ۔ یہ لوگ اپنی رائے کی بنیاد اس ریفرنس کو قرار دیتے ہیں جو گارڈ فادر ناول میں سے دیا گیا ہے۔ اس طرح کی تنقید لوگوں کی فیصلے اور ناول کو نہ سمجھ پانے کی عکاس ہے۔ صرف اس لیے کہ ناول مافیہ کے بارے میں ہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ناول سے ریفرنس دینا غلط ہے۔ جسٹس کھوسہ نے اپنے ریفرنس کو مزید مضبوط کرنے کےلیے ایک دوسرے جملے کا بھی سہارا لیا ہے جو Honore De Balzac کی کتاب سے لیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: جس کامیابی کا حساب آپ نہیں دے سکتے اس کا راز ایسا جرم ہے جو کبھی ظاہر نہیں ہوکیونکہ یہ جرم پوری پلاننگ کے ساتھ کیا گیا تھا۔

ان کی جگہ کوئی اور بھی جج ہوتا تو وہ بھی یہی فیصلہ کرتا اور انہوں نے جو ریفرنس دیا ہے وہ اس معاملے کا اصل رنگ دکھانے کےلیے کافی ہے۔ اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آیا جسٹس کھوسہ کو اپنے فیصلے پر پورا یقین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ تمام پہلووں کو دیکھتے ہوئے یہ نوٹ لکھا ہے اور ان کا ماضی ان کی قابلیتوں اور اہم فیصلوں میں بہادری کا مظاہرہ کرنے پر کے معاملے میں ان کے کردار کا گواہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اہمیت کے فیصلوں میں کبھی کوتاہی نہیں دکھائی ہے۔

جسٹس کھوسہ کے اختلافی نوٹ کا اہم پہلو کا تعلق ہمارے لیگل سسٹم اور انتظامی خامیوں سے بھر پور زمینی حقائق سے ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز کے متعلق نیب ریفرنس نمبر 5/2000 جو لاہور ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کیا تھا اور نیب نے اس فیصلے کو دوبارہ کھولنے کی اپیل سے انکار کر دیا تھا کو جسٹس کھوسہ نے بہترین طریقے سے حل کیا ہے۔ نیب چئیر مین کے رویہ پر ان کا تبصرہ صرف تنقید پر مبنی نہیں تھا۔ جسٹس کھوسہ نے اس کا متبادل بھی تجویز کیا جس میں انہوں نے رائے دی کہ چیف جسٹس کی طرف سے سپریم کورٹ کے نفاذ بینچ کی تشکیل دی جائے تا کہ نیب چئیر مین حدیبیہ کیس کی پوری آزادی سے تحقیقات کے بعد انصاف حاصل کر سکیں۔

ایک اختلافی نوٹ وزیر اعظم پر قانونی اور اخلاقی اثر رکھتا ہے اور بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ ایک عام قانون کی حدود میں اختلافی نوٹس کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے اور پاکستان سپریم کورٹ کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام متنازعہ معاملات میں اختلافی نوٹس کو ہمیشہ اہمیت ملتی رہی ہے۔

چوہدری اعتزاز احسن نے مولوی تمیز الدین کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹی وی پروگرام زنجیر عدل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: جسٹس منیر صاحب کی اکثریت کا فیصلہ یاد نہیں ، لیکن جسٹس کارنیلئس کا اقلیتی فیصلہ آج تک ہر کسی کو یاد ہے۔

جب ایک سنیئر شخص نے اختلافی نوٹ کو بے معنی اور غیر ضروری قرار دیا تو مجھے بہت حیرانگی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے میں اقلیت کے فیصلے کو پڑھنا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ کسی بھی فیصلے سے اختلاف کرنے کے بہت سے اخلاقی اور قانونی نتائج ہوتے ہیں۔ عدلیہ کے اس فیصلے میں اختلاف سے نواز شریف کے استعفی کی ضرورت واضح ہوتی ہے کیونکہ ان اختلافی نوٹس کی بنا پر معاشرے میں ایک بڑا مباحثہ چھڑ گیا ہے۔ تقریبا تمام حزب مخالف پارٹیوں، پروفیشنل عوام اور عام لوگوں نے وزیر اعظم سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے جس سے اختلافی نوٹ کی اہمیت اپنے آپ واضح ہو جاتی ہے۔ فیصلے میں جو مقاصد اقلیت نے حاصل کیے ہیں وہ اکثریت حاصل نہیں کر پائی جس کی وجہ فیصلے کاواضح نہ ہونا ہے۔ اکثریت کا فیصلہ دلائل سے تھوڑا متضاد نظر آتا ہے اور مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے اور جے آئی ٹی اور کچھ دوسرے امور کو بھی مشکوک بناتا ہے۔

اس سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے کہ ایک اختلافی نوٹ اکثریت کو اپنے فیصلے کی وضاحت پر مجبور کر دے۔ ایک اچھی اختلافی رائے انسان کو عدالت میں مشکلات سے بچا سکتی ہے۔ اس کےذریعے عدالت کی غلطیوں کو درست کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں غلط فیصلوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کا فیصلہ ہے جو پاکستان سپریم کورٹ نے جاری کیا تھا۔موجودہ معاملے کا یہ اختلافی نوٹ اکثریت کے لیے ایک روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر اگر جے آئی ٹی 60 دن کے اندر وزیر اعظم کے خلاف ثبوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اس کی اہمیت بلکل واضح ہو جائے گی۔

اختلافی نوٹ نے ایک طرف ملک بھر سے توجہ حاصل کی ہے تو دوسری طرف اس چیز کا اشارہ بھی دیا ہے کہ قانون سازی کے ذریعے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ جسٹس کھوسہ کے فیصلے نے ایک بہت اہم معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے بہت سے قوانین میں تبدیلی کی راہ دکھائی ہے جن میں منی لانڈرنگ اور پارلیمانی حقوق جیسے معاملات شامل ہیں۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ پارلیمانی حقوق کے مقصد کو جان پائے یا اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کو پوری طرح سمجھ سکے جس کے مطابق منی لانڈرنگ صر ف اس صورت میں غیر قانونی ہے جب یہ کسی اور جرم کے ساتھ کی جائے۔ عام حالت میں لیگل چینل کے استعمال کے بغیر بیرون ملک رقم بھیجنا ایسا جرم نہیں ہے جسے عدالت قابل سزا قرار دے۔ اس چیز نے متعلقہ کوارٹرز میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

اس کے ساتھ حکومت کی بد نیتی بھی اس وقت واضح ہو گئی جب کمپنیز آرڈیننس 2016 کو راتوں رات پاس کروا لیا گیا ۔ انکوائیریز اینڈ کمیشن بل 2016 کا مقصد بھی پانامہ معاملے میں بنائے جانے والے عدالتی کمیشن پر کنٹرول حاصل کرنا تھا ۔ حکومت نے 24ویں ترمیم کی بھی تجویز دی جس کے مطابق آرٹیکل 184 (3) کے خلاف اپیل کا حق حاصل کرنا تھا ۔ یہ بہت بد قسمتی کی بات ہے کہ یہ تمام کوششیں صرف وزیر اعظم اور ان کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کےلیے کی گئیں اور ان کے پیچھے ملک کے لیے کوئی نیک نیتی شامل نہیں تھی۔

اگرچہ میں مشترکہ فیصلے کا حامی ہوں لیکن میں اختلاف کو بھی اہم سمجھتا ہوں خاص طور پر جب فیصلہ کسی نہایت اہم معاملے کا ہو۔ جیسا کہ برٹرینڈ رسل نے کہا ہے: میں ذہانت پر مبنی اختلاف کو مجبوری میں کئے گئے اتفاق سے بہتر سمجھتا ہوں۔جسٹس کھوسہ کا فیصلہ بہت سے لوگوں کے لیے طاقت اور اطمینان کا اظہار ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اپنے سسٹم سے نا امید ہو چکے ہیں۔ میں ججز سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے تمام معاملات پر بہت غور وخوض کریں گے اور پھر عدل و انصاف پرمبنی فیصلہ دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *