مدرسے ، تاجر اوردھشت گرد

ikramڈاکٹر اکرام الحق

تاجر وں کو دینی رہنماؤں کی طر ف سے بہت حمایت ملتی ہے کیونکہ وہ ان کی مدد سے زیادہ منافع بھی کما سکتے ہیں اور ٹیکسز بھی بچا لیتے ہیں۔ اس کے عوض وہ ان کے مدرسوں کو دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔ اس چندے سے انتہا پسند گروہوں کی نرسریاں وجود میں آتی ہیں۔ ان نرسریوں میں فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے اور یہیں سے دھشت گردوں کو تربیت اور ہتھیار حاصل کرنے کے لیے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایف بی آر قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ ایسے عطیات کی تحقیقات کرے، لیکن اُس نے مدرسوں کو کبھی ٹیکس فائل جمع کرانے کا نوٹس نہیں بھیجا۔ ان مدرسوں کوپاکستان اور بیرونی ممالک میں موجود ہمدردوں کی طرف سے بھاری رقوم ملتی ہیں۔ یہ رقوم دھشت گردی کی بنیادی جڑ ہیں لیکن حکام نے ان سے مجرمانہ اغماض کی پالیسی روا رکھی ہوئی ہے۔
بہت سے دولت مند کاروباری افراد حج ، عمرے عید الضحیٰ اور دیگر مذہبی رسومات پر بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں۔ علما زور دیتے ہیں کہ دین صرف عبادات، جیسا کہ نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کی ادائیگی کا ہی نام ہے۔ ان کا موقف ہے کہ چونکہ ان کے مدرسے دین کی بہترین خدمت کررہے ہیں، اس لیے وہ زکوۃ کے حق دار ہیں۔ وہ دولت مند افراد کو یہ کہہ کر مساجد اور مدارس کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے قائل کرلیتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے گناہ دھل جائیں گے اور وہ جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کریں گے۔ بہت سے تاجر، جو ٹیکس فائل جمع نہیں کراتے، مدرسوں کو رقوم دے کر اپنی ’’عاقبت‘‘ سنوارتے ہیں کیونکہ اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ ان مدرسوں میں غریب والدین کے بچے دینی علم حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح غریب بچوں کے نام مدرسے چلانے والے بھاری رقوم حاصل کرلیتے ہیں۔ کچھ سیاسی نما مذہبی جماعتیں بہت بڑے بڑے مدرسے چلاتی ہیں۔ ان مدارس کے بہت سے نوجوان اپنی تعلیم ’’مکمل ‘‘ کرلینے کے بعدانتہا پسند گروہوں میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ جس طرح کی اُنھوں نے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے، اس کے بعد اُنہیں اُسی مارکیٹ میں ملازمت مل سکتی ہے۔
مذہب کو تجارت بنانا، جیسا کہ ہمارے ہاں ہورہا ہے، ایک طرف، لیکن جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو قرآنِ پاک دولت جمع کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، لیکن مدرسوں کو رقوم فراہم کرنے کے لیے بعد تاجر قوم کی رگوں سے بھاری منافع نچوڑنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ا س کے باوجود اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں دولت جمع کرنے کا لالچ ہمارے ہاں ایک خبط بن چکاہے۔ اس کے لیے ہر قسم کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داروں کو پامال کیا جاتا ہے اور ضمیر پر خلش تک نہیںآتی کیونکہ خرقہِ سالوس میں چھپے ہوئے مہاجن اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ جنت کے حقدار ہوچکے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ ، ناپ تول میں کمی بیشی، ناقص اور غیر معیاری اشیا کی فروخت ، مشہور برانڈز کی نقول،جعلی دستاویزات کی تیاری اور سرکاری واجبات بچانے کی لامتناہی سرگرمیاں معاشرے میں بلاروک ٹوک جاری ہیں.... پھر بھی زعم کہ ہمارے ہاں کوئی حکومت بھی پائی جاتی ہے!
پاکستان میں قائم ہزاروں مدرسے یقیناًریاست کی ناکامی کی دلالت کرتے ہیں کیونکہ وہ آئین کے آرٹیکل 25A کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔مذہبی جماعتیں سیاسی لبادہ اُڑھ کر بھی بھاری بزنس کرتی ہیں۔ ان کے مدرسے ہی ان کے ’’انتخابی حلقے‘‘ ہیں جہاں سے وہ بلاشرکتِ غیرے جیت جاتے ہیں۔ مذہبی جماعتیں اسمبلی میں زیادہ نشستیں تو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں لیکن بہت زیادہ سٹریٹ پاور رکھتی ہیں۔ اس کے بل بوتے پر وہ حکومت کو اپنا احتساب کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔
تیسری مدت کے لیے وزارتِ اعظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے نواز شریف نے ٹیکس چوروں کو غیر معمولی فوائد کی ہر آن بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مواقع فراہم کیے۔ اب یہی ٹیکس چور، جو قومی مجرم ہیں، مدرسوں کو کھل کر چندہ فراہم کرتے ہیں۔ کبھی کسی مدرسے نے اس ’’ناجائز دولت ‘‘ کو قبول کرنے سے انکار نہیں کیا حالانکہ حرام مال پر مذہب کے احکامات انتہائی سخت ہیں۔ حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے خون میں ہاتھ رنگنے والے دھشت گردوں سے مذاکرات کرنے کے لیے بے چین تھے۔ یہ دھشت گرد بھتہ خوری کے ذریعے بھی شہریوں کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں۔ ستمبر 2013میں فنانس منسٹر نے بہت فخر سے اعلان کیا ...’’تاجروں کے تمام مطالبے (ٹیکس ادا نہ کرنے کے) تسلیم کرلیے گئے ہیں۔‘‘چنانچہ توقع کے مطابق 2013اور 2014میں دولت مند تاجروں کی اکثریت نے رٹیل سیلز ٹیکس کے لیے رجسٹر کرانے سے انکار کردیا۔ اسی سال مدرسوں کوملنے والے عطیات کا حجم غیر معمولی طور پر زیادہ رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مدرسہ کلچر اور ٹیکس چوری کا رجحان باہم مربوط ہیں۔ ٹیکس چور نہ صرف مدرسوں کو ر قوم فراہم کرتے ہیں بلکہ انتخابات میں سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ یہ دولت مند تاجر اربوں روپوں کے اثاثے بیرونی ممالک میں رکھتے ہیں۔نو جنوری 2915کو چیئرمین ایف بی آر نے سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کے سامنے تسلیم کیا سوئٹزرلینڈ اور یو اے ای ’’معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں.......، اور ٹیکس چوروں نے دوسرے ناموں سے اثاثے چھپائے ہوئے ہیں۔‘‘
انتخابات اور مدرسوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ٹیکس چور علما اور سیاست دانوں کی آشیر باد حاصل کرلیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے لیے statutory regulatory orders کی رعایت کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ طاقت ور حلقے رئیل اسٹیٹ میں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کی پاکستان اور بیرونی دنیا میں بے اندازہ مالیت کی جائیداد ہوتی ہے لیکن یہ برائے نام ٹیکس اداکرتے ہیں۔ ایف بی آر کے اپنے جائزے کے مطابق تاجروں کی طرف سے انکم ٹیکس ادا کرنے کی شرح صرف 0.5 فیصد جبکہ سیلز ٹیکس ادا کرنے کی شرح صرف ایک فیصد ہے۔ طاقت ور جاگیردار اور تاجر بہت کم انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان کی اکثریت اسمبلیوں میں موجود ہے ۔ اس لیے ریونیو حکام کی مجال نہیں کہ ان کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھیں۔ انکم ٹیکس قوانین کی تاریخ گواہ ہے کہ تاجروں کی ہڑتالوں کے ڈر سے ان میں ترامیم در ترامیم کی جاتی رہی ہیں۔ تاجر بھی اپنے مارکیٹ میں اتنے ہی طاقتور ہیں جتنے علما اپنے مدرسوں میں ، جہاں کوئی قانون انہیں چیلنج نہیں کرسکتا۔ حکومتیں، چاہے سول ہو یا ملٹری، ان کو خوش کرنے کے لیے رعاتیں دیتے رہے ہیں، چنانچہ یہ دھڑے آج قابو سے باہر ہوچکے ہیں۔
آج پاکستان میں دو اہم ترین مسائل ہیں... دھشت گردی اور ٹیکسز کی عدم ادائیگی۔ ریاست ان دونوں معاملات میں بے بس دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ یہ تعلیم ، ٹرانسپورٹ، صحت اور عوام کو دیگر شہری سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔دراصل سرکاری شعبے میں چلنے والے پرائمری اسکولوں کی ناکامی کی وجہ سے مدرسہ کلچر توانا ہوا۔ یہ صورتِ حال جنرل ضیا کے دور سے بلا روک ٹوک پروان چڑھ رہی ہے۔ آج ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں دھشت گردی اور ٹیکسز کی عدم ادائیگی ہم معانی ہوچکے ہیں۔ کیا کوئی حکومت اس دومنہ والے اژدھے پر ہاتھ ڈالے گی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *