کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے، ملک بھر میں سوگ کی کیفیت طاری

aaaaa

کل بروز اتوار مورخہ 30 جون کی رات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے  ہزارہ ٹاؤن میں علی آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں اٹھائیس  افراد ہلاک اور ستر سے زائد افراد زخمی، جبکہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں فرنٹیئر کور کے ایک فوجی قافلے پر کار بم حملے سے 18 شہری ہلاک اور 46 زخمی ہوگئے تھے۔

آج کوئٹہ شہر پر سوگ کی کیفیت طاری ہے، کاروباری مراکز بند اور سڑکیں سنسان پڑی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آج علی الصبح اس سانحے کا مقدمہ بروہی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمے میں دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب بڈھ بیر اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ کل ہونے والے سے دھماکے کا درج کرتے ہوئے اس میں کالعدم تحریک طالبان کے 3 ارکان کو مجرم نامزدکیا گیا ہے۔  پولیس کے حکام کے مطابق جنگریز، اورنگزیب اور غفران نامی ان تین افراد کو جنہیں دھماکے کا مجرم نامزد کیا گیا ہے، ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان درۂ آدم خیل سے ہے۔

کوئٹہ ہزارہ ٹاؤن میں علاقہ مکینوں کے مطابق دھماکے کے بعد علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ عورتوں اور بچوں سمیت سو سے زائد افراد لہو میں ڈوب گئے۔ صدمے اور غم کے اس عالم میں بھی مقامی لوگوں نے ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اور خود ہی لاشوں اور زخیموں کو اسپتال پہنچاتے رہے ۔

خود کش دھماکے کے فوراً بعد فرنٹیئر کور نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا،  سیکیورٹی فورسز کے مطابق حملہ آورکا سر مل گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سید مبین شاہ نے ڈان کو بتایا کہ ”علی ابن ابوطالب امام بارگاہ کے ساتھ نصب بیریئر کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔“

کالعدم لشکرجھنگوی نے اس حملے کی ذمّہ داری قبول کرلی ہے۔ لشکرجھنگوی کے ایک ترجمان جس نے خود کو ابوبکرصدیق کے نام سے متعارف کرایا، ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ ٹاؤن میں ان کے گروپ سے خوکش حملہ کیا گیا تھا۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں نو خواتین بھی شامل ہیں۔

کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کوئٹہ ، میر زبیر محمود نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب امام بارگاہ میں نماز شروع ہورہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا ہدف امام بارگاہ تھی، لیکن وہ وہاں تک نہیں پہنچ سکا، اس لیے کہ امام بارگاہ کی سیکیورٹی کے ذمہ دار افراد نے اس کو بیریئر کے پاس روک لیا تھا۔

کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن کے علاقے علی آباد میں خودکش حملے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین اور جعفریہ الائنس نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ جبکہ تحفظ عزاداری کونسل نے آج  کراچی اور کوئٹہ میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے جنرل سکیرٹری علامہ عبد الخاق اسدی نے کہا ہے کہ اگر پولیس اور انتظامیہ چاہے تو اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں کار میں نصب بم کے دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد میں پھل و سبزی فروخت کرنے والے غریب دکانداروں، راہگیروں اور مسافر شامل تھے۔

دھماکے کے بعد اس علاقے میں انسانی اعضاء کے مختلف ٹکڑوں اور گوشت کے لوتھڑوں کے ساتھ سبزیاں اور پھل چاروں طرف بکھر گئے تھے۔

فرنٹیئر کور کے دو اہلکار بھی اس دھماکے میں زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک و زخمی ہونے والے عام شہریوں کا تعلق زیادہ تر بڈھ بیر اور اس کے قریبی دیہاتوں ماشوخیل، ماشوگاگر اور شیخ محمدی سے تھا۔

رات گئے تک کسی عسکریت پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حکام کے مطابق بڈھ بیر حملے کے ہلاک شدگان میں تین نوعمر بھائیوں کی شناخت ہوگئی ہے، جن کے نام طارق عمر تیرہ برس، ریاست عمر سولہ برس اور صدارت کی عمر اٹھارہ برس بتائی گئی ہے۔ یہ تینوں بڈھ بیر گاؤں کے رہائشی ضارم شاہ کے بیٹے ہیں، جو سعودی عرب میں ڈیلی ویجز پر ملازم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *