انورموراج کراچی کیوں نہیں بھولتا؟

کمال صدیقی

kamal siddiqui

اپنے اخبار کے ممتاز کالم نگار انور موراج سے میری آخری ملاقات تب ہوئی جب مجھے معلوم پڑا کہ معزز کالمسٹ بیماری کی وجہ سے باقاعدگی سے ہفتہ وار کالم نہیں لکھ پا رہے ہیں۔ میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا کہ وہ بہت بہتر ہیں اور بہت جلد معمول کے مطابق لکھنا شروع کر دیں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ان کے صحتیاب ہونے کے بعد چکن تکہ کے لیے اکٹھے ہوں گے ۔ وہ عام طور پر بندو خان ریسٹورنٹ کے علاوہ کسی دوسرے ہوٹل پر جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور پچھلے ہفتے مجھے خبر ملی کہ مشہور صحافی دنیا فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔

ان کو بیان کرنے کےلیے میرے خلاف میں سب سے بہتر طریقہ ان کو ایک جنٹلمین جنرلسٹ قرار دینا ہے۔ صحافیوں کی یہ قسم آج کل نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ناپید ہو رہی ہے۔ وہ بھوپال کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور دہرادن کے ایک مشہور سکول 'دون' سے تعلیم یافتہ تھے۔ ہم دونوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے اکٹھے تعلیم حاصل کی تھی۔ ایل ایس ای میں تعلیم کے بعد موراج نے ایسے شعبہ کا انتخاب کیا جو ان کے خاندان کے کسی فرد کو پسند نہ تھا۔ موراج نے صحافی بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ 60 کی دہائی میں ڈان کے ساتھ کام کرنے کے بعد انور موراج ہیرالڈ میگزین کے بانی ایڈیٹر بن گئے۔ دی ہیرالڈ نے مشہور پاکستانی میگزین 'السٹریٹڈ ویکلی' کی جگہ لے لی۔

anwer.mooraj@tribune.com.pk

اس کے بعد ان کا ترقی کا سفر جاری رہا اور وہ دبئی میں گلف نیوز کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ اس کے بعد وہ واپس پاکستان آئے اور 14 سال تک پاکستان امریکن کلچرل سینٹر (PACC)کے سربراہ رہے۔ پی اے سی سی کا سب سے بڑا قدم ہزاروں مرد و خواتین کو انگریزی زبان سکھانا تھا ۔ موراج نے کچھ قیمتی وقت پی آئی اے کی خدمات میں بھی صرف کیااور 60 کی دہائی میں وہ اس کمپنی کے لیے فیچر رائٹر رہے اور ایک بار پھر 70 کی دہائی میں وہ پی آئی اے کے جنرل مینیجر پی آر بنے رہے۔ پی آئی اے کا وہ دور سب سے بہترین دور سمجھا جاتا ہے۔

مسٹر موراج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےان کے سابقہ پی آئی اے میں کام کرنے والے ساتھی خالد بٹ نے بتایا کہ انور موراج زندگی بھر محرک رہے اور ہمیشہ انہیں پریس کلب پر موجود دیکھا جاتا رہا جہاں وہ مرحوم آئی ایچ برنی، نرگس خانم اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ چیس کھیلتے نظر آتے تھے۔ مسٹر موراج جاز اور یورپین آرکیسٹرل میوزک کے بہت شوقین تھے۔ اپنے آخری دنوں تک وہ اخباروں میں میوزک پر تحریریں لکھتے تھے اور بہت سے فورمز پر موسیقی پر لیکچر بھی دیتے تھے۔ اس اہم چیز پر بہت کم لوگ مضامین تحریر کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔

ان کی تحاریر میں سے میری پسندیدہ وہ تھیں جو پرانے وقتوں کی یاد میں لکھی گئی تھیں۔ اس اخبار کے ایک کالم میں انہوں کے ماضی کے کراچی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھا: ریٹائرمنٹ کے بعد انسان اس دور کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا جب کراچی اپنے بچوں کی تربیت کے لیے سب سے اچھا شہر تھا۔ لڑکیاں سکول سائیکل پر جاتی تھیں اور لوگ ایمپریس مارکیٹ سے کیماڑی تک ٹرام کے ذریعے سفر کرتے تھے اور وہاں سے کشتی کے ذریعے سینڈ پِٹ اور ہاکس بے پر پکنک منانے جاتے تھے۔

مسٹر موراج بتاتے ہیں: مجھے کراچی کی 50 اور 60 کی دہائی کی جو چیز سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس شہر کے لوگوں کا تحمل ، برداشت، سیکولرازم اور کھلے ذہن کا مالک ہونا ہے۔ جیسا کہ مشہور جج مورگن فری مین نے اپنی کتاب 'Bonfire of the Vanities' میں لکھا ہے ، لوگوں کے بیچ وہ خصوصیات بھی موجود ہوتی تھیں جو ایک بد دیانت معاشرے سے دیانت دار معاشرے کو ممتاز کرتی ہیں ۔ یہ خصوصیات شکرگزاری اور شرافت ہیں۔

1966 کے موسم گرما میں لاہور کے دورہ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: شام کو لیمپ جلد روشن ہو گئے تھے اور دھند کی موجودگی میں ان کی روشنی دھندلی ہوتی دکھائی دیتی تھی۔ گورنمنٹ کالج میں میں نے اپنی پہلی کتاب 'Sand, Cacti and People' اپنے آٹو گراف کے ساتھ ہیڈ آف انگلش ڈپارٹمنٹ کے حوالے کی ۔ انہوں نے فوری طور پر مجھے کمزور ڈرامائی سوسائٹی کی پرفارمنس کی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کر لیا۔

پاکستان ٹائمز کے ثقافتی ناقد مسٹر صفدر میر جو اپنے متبادل نام 'زینو ' کے ساتھ تحریر لکھا کرتے تھے نے ایسا ریویو لکھا جو بہت زیادہ مثبت نہیں تھا۔اگلی شام وہاں ایک چائے پارٹی تھی۔ ریویور نے بار بار ڈائریکٹر سے ملنے کی کوشش کی لیکن ڈائریکٹر ان سے بچنے کی کوشش میں لگے رہے۔ آخر کار زینو نے معافی مانگ لی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے الفاظ سخت تھے اور وہ یہ سب نہیں لکھنا چاہتے تھے۔ اعجاز الدین نے جواب دیا: نہیں ایسا نہیں ہے۔ ایک ناقص ڈائریکٹر کو ناقص ریویور ہی مل سکتا تھا۔

ہم مورج اور ان کی تحاریر کو بہت یاد کرتے ہیں۔ آپ کو جاننا اور اپنے ساتھ پانا ہمارے لیے باعث عزت تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *