اظہار بدمعاشی کی آزادی

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

آزادی اظہار پر لیکچر تھا ‘ شہر تھا واشنگٹن اورملک امریکہ۔امریکی پروفیسرہمیں بتا رہاتھا کہ کس طرح آئین کی پہلی ترمیم عوام کو مذہب اوراظہار رائے کی مکمل آزادی دیتی ہے ۔اس قسم کے لیکچر کے دوران عموماً میں اپنی نیند پوری کرتا ہوں ‘ اس وقت بھی میں نیم غنودگی کے عالم میں تھا مگر جونہی میرے کانوں میں آزادی اظہار کا لفظ گونجا ‘میں نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکنے کی ناکام کوشش کی اور سوال داغ دیا ’’کیا آپ کا آئین لوگوں کے مذاہب اور پیغمبران کے بارے میں توہین آمیز مواد شائع کرنے،ان کے بارے میں بیہودہ فلمیں بنانے یا ان کا تمسخر اڑانے پر پابندی نہیںلگاتا جبکہ یہ تمام باتیں اظہار رائے کی حدود سے باہر نکل کر مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کے زمرے میں آتی ہیں؟‘‘پروفیسر نے جواب دیا ’’میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں مگر اس میں دو مشکلات ہیں ،پہلی‘ اس بات کا تعین کیسے ہوگا کہ کون سا مواد نفرت انگیز ہے اور کون سا آزادی اظہار کے زمرے میں آتا ہے،د وسری‘ ہم اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت کو دے کر اپنی آزادی محدود نہیں کرنا چاہتے ‘ اگر کوئی شخص اپنی رائے کا اظہارکرتا ہے تو دوسرے لوگوں کو اپنے جذبات قابو میں رکھنے کا پورا حق ہے (you have right not to be offended)۔‘‘پروفیسر کے جواب نے مجھے مزید سوال کرنے کا موقع فراہم کر دیا ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ جس طرح آپ لوگ اپنی فلموں کی ریٹنگ کرتے ہیں کہ کون سی فلم بچوں کے لئے مناسب ہے ‘ کس فلم کو صرف اٹھارہ برس یا اس سے بڑی عمر کے افراد دیکھ سکتے ہیں اسی طرح آپ نفرت پر مبنی رائے (hate speech) کا تعین بھی کر سکتے ہیں ‘ ایک شخص اٹھ کر ہمارے پیغمبرﷺ کے بارے میں گستاخانہ فلم بناتا ہے ‘ کرہ ارض پر ڈیڑھ ارب لوگ اسے توہین اور نفرت آمیز سمجھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اس کا تعین ہی نہیں ہو سکتا !اگرباراک اوبامہ اپنی اٹارنی جنرل کے بارے کہے کہ she is best lookingتو ہر کوئی اسے جنسی تعصب سے تعبیر کرکے صدر کو معافی مانگنے پر مجبور کرتا ہے ‘ اس وقت کوئی نہیں کہتا کہ یہ فقط تعریفی جملہ تھا‘ جبکہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے بار ے میں آپ سے طے ہی نہیں ہو پاتا کہ یہ توہین کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں ؟‘‘ پروفیسر کے جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ درست ہے کہ اس قسم کے واقعات سے دنیا میں امریکہ کا تاثر خراب ہوتا ہے مگر شاید یہ آزادی اظہار کی وہ قیمت ہے جو امریکہ اپنے عوام کے لئے چکاتا ہے ۔
مسئلہ آزادی اظہار کا نہیں مسئلہ بدمعاشی کا ہے ‘ امریکہ اور مغربی دنیا یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ زمین پر وہ طے کریں گے کہ آزادی اظہار کیا ہے ‘ تعصب کسے کہتے ہیں ‘ توہین مذہب کی آزادی کیوں ہو‘ اشتعال دلانا کب قابل دست اندازی جرم بنتا ہے ‘ پرائیویسی کی حدود کیا ہیں ‘ کون سا مواد فنون لطیفہ کہلائے گا اور کون سا توہین آمیز‘ جارحیت کیا ہے ‘ دہشت گردی کسے کہتے ہیں اورanti semiticہونا کس بلا کا نام ہے؟بد مست طاقت کا اظہار ہر قسم کے اصول و ضوابط اور اخلاقیات کو گاہے بگاہے پامال کرکے کیا جاتا ہے ‘ امریکہ اور مغربی ممالک اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کے استعمال میں کسی اقوام متحدہ کے چارٹرکے پابند نہیں ‘ ان کا ایک شہری پوری دنیا کے مسلمانوں سے زیادہ اہم ہے اور اسی لئے اسے حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین کرے ‘ آزادی اظہار کی آڑ میں یہ اس بدمعاشی کا اظہار ہے جس کا مقصد ہمیں اپنی اوقات میں رکھنا ہے ۔فرانس کے جریدے چارلی ہیبڈو میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کو آزادی اظہار سے عبارت کرنا مضحکہ خیز بات ہے اور اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ان اخبارات و رسائل کا اقدام ہے جنہوں نے وہ گستاخانہ خاکے دوبارہ یہ کہہ کر شائع کئے کہ وہ آزادی اظہار میں چارلی ہیبڈو کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس کھوکھلی دلیل کے جواب میںGlenn Greenwaldنے اس ضمن میں ایک لا جواب ٹویٹ کی :
"When did it become true that to defend someone's free speech rights, one has to publish & even embrace their ideas?That apply in all cases
پوری دنیا میں نفرت پر مبنی رائے ‘ اشتعال انگیز تقاریر اور مواد کی اشاعت ‘ پرائیویسی ‘ ہتک عزت‘ تعصب اورتشدد پر ابھارنے سے متعلق قوانین موجود ہیں مگر جس وقت بدمعاشی کا اظہار کرنا ہو‘ طاقتور ممالک ان قوانین کی پرواہ نہیں کرتے اور چارلی ہیبڈو کو آزادی اظہار کی آڑ میں کلین چٹ دے ڈالتے ہیں ۔یہ کہاں کی منطق ہے کہ آپ کے پاس لوگوں کی دل آزاری کا بے لگام حق تو ہو مگر ذمہ داری سے آپ کو بری الذمہ کر دیاجائے !کیا کسی کو ایڈورڈ سنوڈن یاد ہے جس نے امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے کرتوت دنیا کے سامنے کھول کر رکھے تو امریکہ کی تمام ایجنسیاں اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئیں ‘ اسے روس نے سیاسی پناہ دی ‘ اس وقت تو دنیا کے سب سے بڑے آزادی اظہار اور پرائیویسی کے ٹھیکیدار کو شرم نہیں آئی !کیا کسی کو نیو یارک ٹائمز کا وہ کارٹون یاد ہے جس میں بھارت کے مریخ مشن پر ہلکا پھلکا سا طنز کیا گیا تھا ؟ اس کارٹون کی اشاعت پر اخبار کو معافی مانگنی پڑی تھی ‘ کیا وہ کارٹون چارلی ہیبڈو کی بدمعاشی سے بھی زیادہ توہین آمیز تھا؟کیا کسی کویاد ہے کہ اسرائیل کتنے فلسطینی صحافیوں کا قتل کر چکا ہے ؟ اسی اسرائیل کا وزیر اعظم پیرس کے یکجہتی مارچ میں دنیاکے لیڈروں کے ساتھ آزادی اظہار کا علمبردار بن کر کھڑا تھا، کیا کوئی خواب میں بھی تصور کر سکتاہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو اس ریلی میں شرکت سے یہ کہہ کر روکا جاتا کہ تم بھی ایک قاتل ہو! آزادی اظہار کے ٹھیکیداروں نے anti semiticکا لیبل لگا کر طوفان کھڑا کر دینا تھا ! دنیا میں کوئی بھی چارلی ہیبڈو کے اسٹاف کے ان بارہ افراد کے قتل کا دفاع نہیں کر رہا‘ حتّیٰ کہ سخت گیر مسلمان بھی نہیں کیونکہ اس قتل سے جتنی بدنامی مسلم دنیا کی ہوئی ہے کسی اور کی نہیں ہوئی ‘ مگر اسی طرح کوئی بھی مسلمان ‘ حتّیٰ کہ غیرمسلم اور آزاد خیال لوگ بھی چارلی ہیبڈو اور اس نوع کے دیگر اخبارات کی آزادی اظہار کی اس تشریح کے قائل نہیں جو مغرب نے اپنی بد معاشی کو قائم رکھنے کے لئے دنیا پر مسلط کر رکھی ہے ۔اسرائیل کا دفاع کرنا ہو تو anti semiticکا الزام لگاکر فارغ کردو ‘ مسلمانوں کو اوقات یاد دلانی ہو تو آزادی اظہار کے نام پر ان کے پیغمبر ﷺ کی توہین کر کے تماشہ دیکھو‘یہ ہے وہ دوغلی پالیسی جس کا دفاع آج کل مغربی صحافی زور شور سے کر رہے ہیں ۔کیا ہی اچھا ہوکسی دن کوئی صحافی وائٹ ہائوس میں امریکی صدر کی پریس کانفرنس کے دوران باراک اوبامہ سے سوال پوچھنے سے پہلے آزادی اظہار کا استعمال کرتے ہوئے (جو امریکی آئین میں پہلی ترمیم کی شکل میں موجود ہے ) اوبامہ کو دو چار ایسی گالیاں دے جن کا پنجابی ترجمہ بھی ممکن نہ ہو ‘ اور پھر کہے
''Mr. President you have every right not to be offended!''
اگر ایسا کرنے والا امریکی گورا ہوگا تو ممکن ہے کچھ بچت ہو جائے مگر کوئی پاکستانی نژاد مسلمان کالا صحافی اس حرکت کے بعد کہاں جائے گا‘ کچھ نہیں کہا جا سکتا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *