ایران کا صدارتی انتخاب اور آزادی نسواں

faheem-akhter-uk

جمعہ 19 ؍مئی کو ایران میں صدارتی الیکشن ہوگا۔ہر بار کی طرح اس بار بھی الیکشن کی کافی سرگرمی پائی جارہی ہے۔ ایران مسلم آبادی والے چند ممالک میں ایسا ملک ہے جو اپنے وقار ، روایت اور پارلیمانی نظام کے لئے اعلیٰ مانا جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو زیادہ تر مسلم آبادی والے ممالک میں پارلیمانی نظام کا قیام ہونے کے باوجود جمہوریت کی اہمیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔زیادہ ترعرب ممالک میں اب بھی شاہی یا خاندانی روایت کی حکومت قائم ہے اور وہاں کے لوگوں میں جمہوریت سے کم دلچسپی ہے۔
چند سال قبل پورے عرب ممالک میں جمہوری نظام کو نافذ کرنے کی تحریک چلی تھی۔ جس میں ہزاروں لوگوں کی جان بھی چلی گئی تھی۔ کئی سیاسی ماہرین اسے امریکہ کی ایک سوچی سمجھی سازش بتاتے ہیں تو کئی اسے اپوزیشن کی ملی بھگت کہتے ہیں۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ وہ لوگ اپنے اپنے ملکوں میں مغربی مخالف سیاستدانوں کوہٹانے میں کامیاب ہوگئے۔ جو شاید امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں کی خواہش تھی۔
اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کی آبادی والے زیادہ تر ممالک میں اگر جمہوری نظام کی حکومت بنائی جاتی ہے تو وہاں آئے دن جھگڑا، الزام در الزام، زیادتی اور دھاندلی کی خبروں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا ہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے پاکستان کی مثال لے لی جائے تو ہمیں اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ پچھلے الیکشن سے اب تک سوائے وہاں کے وزیر اعظم کو ہٹانے کی بات کی جارہی ہے۔ بلکہ پاکستان کے پارلیمنٹ سے لے کر جتنے بھی سرکاری ادارے ہیں سبھوں کا اللہ ہی نگہبان ہے۔اس طرح سے اور بھی ایسے مسلم آبادی والے ممالک ہیں جہاں آئے دن ایسے ہی خبریں سننے کو ملتی ہے۔
تاہم ایران کے حالات ان ملکوں سے الگ ہیں ۔ لیکن کچھ حد تک ایران کے خلاف امریکہ اور مغربی ممالک نے ہمیشہ سوتیلا پن کا برتاؤ کیا ہے ۔ جس کے لئے ہمیں کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی ایک وجہ ایران کا ہمیشہ جارحانہ رویہّ رہا ہے۔ دوسرے ایران کو مسلم ممالک میں سب سے خطرناک ملک مانا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی بھی ایک اہم بات ہے۔
لیکن ان تمام مسلم آبادی والے ممالک میں چند ملکوں کو چھوڑ کر عورتیں نہ ہی تو اب تک صدر بنی ہیں اور نہ وہ کسی اہم عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔اگر آپ مغربی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مسلم آبادی والے ممالک میں عورتوں کو ایک کمرے میں بند رکھا جاتا ہے۔ اور اگر وہ گھر سے باہر نکلتی ہیں تو ان کو ایک خاص لباس یا برقعے میں دکھایا جاتا ہے۔جس سے دنیا والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان مسلم آبادی والے ممالک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے یا انہیں آزادی نہیں ہے۔جس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے۔

iranلیکن ایران کے الیکشن میں اس بار ایسا نہیں ہے۔ ایران کی آدھی آبادی خواتین کی ہے اور اسی لئے ایسا مانا جارہا ہے کہ عورتوں کا ووٹ اس الیکشن میں سبھی صدارتی امیدواروں کے لئے اہم ہے۔جس کی وجہ سے تمام امیدوار اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ عورتیں کے متعلق مثبت پالیسی بیان کریں۔ اس کے علاوہ سبھی امیدوار اپنے اپنے طور پر خواتین کے حق میں سماجی انصاف اور آزادی کی بات پر زور دے رہے ہیں۔تاہم وہیں کٹّر پسند اس بات پربھی اڑے ہوئے ہیں کہ خواتین کا رول ایک بیوی اور ماں کے طور پر قائم رہنا چاہئے جس سے ایران کی خاندانی اور سماجی رواداری برقرا رہے ۔
اس الیکشن میں 137خواتین نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جسے حیران کن کے ساتھ امید افزا بھی مانا جا رہا ہے۔ ان میں 72؍سالہ اعظم طالقانی کا نام اہم ہے جو معروف ایرنی لیڈر آیت اللہ محمود طالقانی کی صاحبزادی ہیں۔1997سے اب تک تمام صدارتی الیکشن میں انہوں نے اپنا نام درج کرایا تھا لیکن گارڈئین کونسل نے ان کی اس درخواست کو ہمیشہ مسترد کیا۔
ان کا کہناہے کہ وہ ایرانی آئین کی اس بات کو غلط ثابت کرنا چاہتی ہیں جس میں روایتی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ایران کے صدر کے لئے صرف مرد ہی کھڑے ہوسکتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین نے ایسا کہیں نہیں کہا ہے کہ ایران کا صدر صرف مرد ہوسکتا ہے بلکہ یہ مرد اور عورتوں دونوں کے لئے ہے۔
طبعیت کی خرابی اور کمزوری کے باوجود اس بار بھی اعظم طالقانی اپنا نام صدارتی امیدوار کے لئے درج کروانے پہنچیں اور پھر ان کا نام مسترد کر دیا گیا ۔ اعظم طالقانی نے امیر کبیر یونیورسٹی میں طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ میں نے عہد کیا ہے کہ مرتے دم تک عورتوں کو صدارتی الیکشن میں امیدواری کی اجازت ملنے کے لئے مہم جاری رکھوں گی‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ ہوسکتا ہے کہ ایران میں کبھی ایک خاتون صدر نہ بن سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خواتین کو امیدواری سے روکا جائے‘۔
صدر حسن روحانی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی تصویر کو چند عورتوں کے ساتھ لگا یا ہے جس میں وہ یہ بتا رہے ہیں کہ وہ عورتوں کی ترقی کی حمایت میں ہیں۔ وہ نوجوان عورتوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ عورتوں کے سخت برقعے کے استعمال کے حق میں نہیں ہیں اور سماجی آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔صدر روحانی کے ویڈیو میں دکھا یا گیا ہے کہ وہ عورتوں کی کامیابی کی ستائش کر رہے ہیں اور وہ ان کی مزید ترقی کے خواہاں ہیں۔
حال ہی میں تہران کے شیرودی اسٹیڈیم میں ہزاروں عورتوں کو الیکشن مہم میں دیکھا گیا۔ زیادہ تر عورتوں نے جامنی رنگ کا حجاب پہن رکھا تھا جو کہ صدر روحانی کی مہم کا رنگ ہے۔ اس کے علاوہ ان عورتوں نے اپنے ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’ہمیں اپنے حقوق اور آزادی مزید ملنی چاہئے‘ ۔معروف ایم پی پروانے سلاشوری ہجوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ اخلاقیات پولیس‘ کو عورتوں کو پریشا ن کرنے کی بجائے بد عنوانی کی طرف دھیان دینا چاہئے جو کہ زیادہ ضروری ہے۔ بھیڑ نے ان کی ان کی اس بات کی خوب حمایت کی۔
اس کے بعد صدر روحانی اپنے خواتین ایم پی کے ہمراہ اسٹیج پر آئے اور اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم عورتوں کو ہر میدان میں اہم رول نبھاتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ بات انہوں نے کٹّر پسند ابراہیم رئیسی کے اس بات کے جواب میں کہی تھی کہ’ عورتوں کے روزگار کی اہمیت ان کے بیوی اور ماں کے رول سے کم ہے‘۔
صدارتی الیکشن کے علاوہ لوگ نئے کونسل کے ممبر کا بھی انتخاب کریں گے اور جس میں خواتین نے پچھلے کئی برسوں سے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا ہے۔ چار سال قبل کافی تعداد میں عورتوں نے مقامی کونسل کے الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کا رحجان سیاست میں کس قدر بڑھا ہے۔اس کے باوجود مجموعی طور پر مقامی کونسل اور پارلیمنٹ میں عورتوں کی نمائندگی کم ہے۔ 2017 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹWomen in Politics شائع ہوئی تھی جس کے مطابق ایران اب بھی 193ملکوں کی فہرست میں 177نمبر پر آتا ہے۔
زیادہ تر عورتوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام صدارتی امیدواروں سے عورتوں کی آزادی اور ترقی کے متعلق باتیں سنی ہیں ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کی بیان بازی پالیسی بن پائے گی۔ تاکہ ان عورتوں کی روز مرّہ کی زندگی میں سدھار آئے جس سے زیادہ تر عورتیں امید لگائے بیٹھی ہیں۔
ایران کے الیکشن اور اس کے نتائج جتنا ایران کے لوگوں کے لئے اہم ہے اتنا ہی ایران کے پڑوسی اور مغربی ممالک کے علاوہ امریکہ کے لئے بھی بہت اہم ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایران نے ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں اہم رول نبھایا ہے اور فلسطین کے معاملے میں ان کی حمایت میں ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔اس کے علاوہ ایرانے نیوکلیئر پروگرام شروع کیاہے جس سے امریکہ سمیت اسرائیل سخت نالاں ہیں۔
ایران کے صدر نے دنیا کی بڑی طاقتوں سے نیو کلئیر معاہد ہ کر کے ایران کو ایک امید دلائی ہے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو بھی اس معاہدے سے راحت ملی ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم کے دوران ایران کے نیو کلئیر معاہدہ کو رد کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر تناؤ بڑھے گا جس کا نتیجہ کافی خراب ہوگا۔
جمعہ کو ایران کے الیکشن میں اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ کیا صدر روحانی دوبارہ ایران کے صدر بنے گے یا ابراہیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی پتہ چل جائے گا کہ اگرموجودہ صدر روحانی کو جیت نصیب ہوئی تو کیا عورتوں کی آزادی
اور سماجی انصاف میں سدھار آئے گا جیسا کہ صدر روحانی اپنی مہم میں اعلان کر رہے ہیں ۔
لیکن اگر ہم مغربی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ایران کی عورتیں اب بھی کافی پسماندہ ہیں اور ان کو وہ آزادی نہیں ملی ہیں جو انہیں ملنی چاہئے۔جس سے میں اتفاق نہیں کرتا ہوں بلکہ مجھے لگتا ہے کہ پچھلے چند برسوں میں ایران میں کافی تبدیلی آئی ہے ۔ مجھے مغربی میڈیا کے اس پروپگنڈے سے حیرانی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ایران کو ایک نیو کلئیر طاقت دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔
مجھے ایران کے نئے صڈر سے کافی امیدیں ہیں کہ وہ ایران کی ترقی کے ساتھ ساتھ عورتوں کی آزادی اور سماجی انصاف کا پورا خیال رکھے گے۔لیکن مجھے اس بات کا بھی خوف ہے کہ ایران پر لمبی مدّت سے چلی آرہی معاشی پابندی اور امریکہ کی جانبدارانہ رویّوں سے شاید ایران کبھی ایک ایسا ملک نہیں بن پائے گا جس کا خواب ایران کے لوگوں نے برسوں سے دیکھاہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *