دہشت گردی کے خلاف شریف ٹرائیکا

نجم سیٹھیNajam Sethi

 وزیر ِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، جو انسداد ِ دہشت گردی کی پالیسی اور کیے جانے والے تمام آپریشنوں کے انچارج ہیں، نے حال ہی میں وزیر ِ ِ اعظم نواز شریف کو بتایا کہ حکومت کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں کے دوران صرف پنجاب ہی میں دہشت گرد تنظیموں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ کر سو ہوچکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس خوفناک حقیقت نے پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ کو چونکا دیا اور اُنھوں نے پنجاب میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لئے کورکمانڈر ، لاہور اوردیگر اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کی تاکہ آپریشن میں سول ملٹری کوششوںکو مربوط کیا جاسکے۔ اس سے دہشت گردی کو کچلنے کے لئے حکومتی سطح پر ایسی سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے جس کا ، کم از کم پنجاب کی حد تک ،پہلے کبھی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
اسلام آباد کا رویہ بھی ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر ِ اعظم کے بارے میں رپورٹیں ہیں کہ وہ اہم افسران کی روزانہ کی بنیاد پر میٹنگ طلب کریں گے تاکہ نیشنل ایکشن پلان میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے۔ اخبارات بھی تصدیق کرتے ہیں کہ زمینی بنیادوں پر ایکشن دکھائی دے رہا ہے.... پولیس کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے، لائوڈ اسپیکروں کے غیر قانونی استعمال، نفرت اور مسلکی تعصب ابھارنے والے مواد کی اشاعت اور تقسیم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جا رہا ہے۔اُن مذہبی رہنمائوں کو حراست میں لینے کابھی منصوبہ ہے جو نظریاتی مخالفین کے خلاف نفرت کو ابھار کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کا موجب بنیں۔ مذہبی جماعتوں کی طرف سے ہونے والے احتجاج سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب انتظامیہ اب اپنے روئیے میں تبدیلی لارہی ہے۔اس دوران سزا یافتہ دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سزا پانے والوں میں اکرم لاہوری بھی شامل ہے جس نے کئی سال پہلے ملتان میں ایک ایرانی سفارت کار کو ہلاک کردیا تھا۔ اس سے پہلے پنجاب حکومت اسے پھانسی پر لٹکانے سے خائف تھی کیونکہ اسے لشکر ِ جھنگوی کی طرف سے شدید ردِعمل کا خطرہ تھا۔
تاہم آج کے معروضی حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اگر شریف برادران نے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی تحریک ِ طالبان پاکستان کی کمر توڑنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔ فاٹا میں ضرب ِ عضب شروع کرنے کے علاوہ ، اُنھوں نے افغان اورامریکی حکام کو قائل کیا ہے کہ وہ افغان علاقے میں روپوش پاکستانی طالبان کا خاتمہ کریں۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ ماضی میں افغان اور امریکی افسران پاک فوج پر الزام لگاتے تھے کہ وہ امریکہ اور طالبان کے ساتھ دہرا کھیل کھیل رہی ہے.... امریکہ کی کھلے عام جبکہ طالبان کی پوشیدہ حمایت کی پالیسی۔ چنانچہ اُس وقت وہ آئی ایس آئی پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔اپنی ریٹائر منٹ سے پہلے ایڈمرل مائیک مولن نے بہت کھلے الفاظ میں حقانی نیٹ ورک کو ’’آئی ایس آئی کا فعال بازو‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کے الزام کوبہت اہمیت دی گئی کیونکہ اُنہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا پرزور حامی سمجھا جاتا تھا اوراُن کے سابق آرمی چیف، جنرل کیانی ، کے ساتھ بہت دوستانہ تعلقات تھے۔ یہ بیان اُن کی اسپین میں جنرل کیانی سے ملاقات کے اگلے دن آیا تھا حالانکہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جنرل کیانی نے کہا تھا طالبان مخالف پالیسی میں امریکہ اور پاکستان ایک پیج پر ہی ہیں۔
اس سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ جب جنرل راحیل شریف صاحب نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان اور امریکی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں تنائو پایا جاتا تھا۔ تاہم جنرل صاحب کے روئیے نےامریکی شکوک و شبہات کا خاتمہ کردیا اور اب دنیا جانتی ہے کہ پاکستان طالبان کے بارے میں دوٹوک اپروچ رکھتا ہے۔ اسی طرح نئے افغان صدر، اشرف غنی صاحب،کے ساتھ آرمی چیف کے تعلقات کی نوعیت بھی قابل ِ تعریف ہے۔ ان کے کابل دورے کے بہت اچھے نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ جنرل صاحب نے افغان حکام کو مولانا فضل اﷲ، جو افغانستان کے شمال مشرقی علاقے میں کہیں روپوش ہے، کو پکڑنے کے لئے راضی کرلیا ۔ اس ضمن میں افغان فورسز کچھ کارروائی بھی کررہی ہیں۔ اس کے بعد جنرل راحیل شریف کا حالیہ دورہ ٔ لندن بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وہاں ان کی برطانوی وزیر ِ اعظم اور اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات ہوئی۔
یہ تمام شواہد بتاتے ہیںکہ پاکستان اب دہشت گردی کی جسمانی اور نظریاتی شکل برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تاہم اس کے لئے وہ لندن، کابل اور واشنگٹن سے بھی تعاون کی توقع کرتا ہے۔ تاہم منفی سوچ رکھنے والے افراد یہ کہہ سکتے ہیںکہ ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘۔ گویا پاکستان کو ایسا بہت پہلے کرلینا چاہئے تھا ۔ اگر ایساپہلے ہوجاتا تو شاید پشاور میں معصوم بچوں کے خون سے دہشت گردہولی نہ کھیل سکتے، ساٹھ ہزار پاکستانی دہشت گردی کے عفریت کا شکار نہ ہوتے۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر انتہا پسند تنظیموں، جیسا کہ لشکر ِ طیبہ، جیش ِ محمد اور دیگر بھارت مخالف گروہوں کی سرپرستی نہ کریںیا حقانی نیٹ ورک اور دیگر افغان جنگجو گروہوں کو اثاثے نہ سمجھیں.... ان کے خلاف ابھی تک کارروائی ہوتی دکھائی نہیںدی۔ اگر ماضی سے گواہی لی جائے تو یہ اعتراضات وزن رکھتے ہیں، لیکن ہونے والی دو پیش رفتیں باور کراتی ہیں کہ جنرل شریف صاحب ان تمام مسائل کو نمٹنے کے لئے پرعزم ہیں۔ پہلی پیش رفت یہ ہے کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ، جان کیری، کا بیان ہے کہ پاکستان نے اُن سے کہا ہے کہ وہ بھارت کو مشرقی بارڈر پر جارحانہ رویہ اپنانے سے روکنے میں اپناکردار ادا کریں تاکہ پاک بھارت مذاکرات کو پھر سے آگے بڑھایا جاسکے۔ اس سے یہ امکان ہویدا ہے کہ پاکستان جہادی کلچر سے جان چھڑا کر مستقبل میں قدم رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری پیش رفت یہ ہے کہ جان کیری کے مطابق پاک فوج امریکی حکام اور ملاعمر اور حقانی گروپ کے درمیان مذاکرات میں کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ تاہم شریف ٹرائیکا کی صلاحیتوں کا امتحان اگلے چند ہفتوں یا مہنیوں کے درمیان ہوجائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *