جب بہت دیر ہو جاتی ہے!

rauf tahir
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں، نوجوان نسل کا کردار‘‘ کے موضوع پر سیمینار میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی بہت اہم گفتگو کی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا، ''دشمن مختلف سمتوں اور طریقوں سے ہمارے خلاف سب سے بڑی ہائبرڈ جنگ چھیڑ چکا ہے۔ ہمیں نہ صرف دہشت گردی کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ مختلف ایجنسیاں بھی ہمارے ذہن تبدیل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس کے لئے وہ انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کا استعمال کر رہے ہیں، اور اس میں انہیں کچھ ممالک کی مدد بھی حاصل ہے‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ آرمی چیف نے سوشل میڈیا کے حوالے سے نہایت اہم اور نازک مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ویسے تو افواہیں پھیلانے، بے پر کی اڑانے اور ریاستی اداروں کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے میں الیکٹرانک میڈیا کے ایک حصے کا کردار بھی کچھ کم نہیں‘ لیکن سوشل میڈیا پر یہ مہم تو آخری حد بھی عبور کر رہی ہے۔ حکومت اور فوج میں اختلافات کا تاثر ابھارنا، اس ایجنڈے کا اہم نکتہ رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کی 29 اپریل والی ٹویٹ پر ان کی خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی کہ سول، ملٹری ریلیشن شپ کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کے لیے ایک اور نکتہ ان کے ہاتھ آ گیا تھا‘ لیکن دس روز بعد ایک مختلف منظر تھا، ڈان لیکس کا معاملہ بخیر و خوبی انجام پانے، 29 اپریل کی ٹویٹ واپس لینے، چیف ایگزیکٹو کے طور پر وزیر اعظم کی آئینی اتھارٹی تسلیم کرنے‘ اور ملک میں جمہوری نظام کی حمایت کرنے کا پاک فوج کے ترجمان کا واشگاف اعلان ان عناصر کے لیے شدید مایوسی کا باعث تھا۔ اب فوج اور اس کی قیادت ان کے منفی پروپیگنڈے کا ہدف تھی، جس کا بر وقت نوٹس لینے میں وفاقی وزیر داخلہ نے تاخیر نہ کی۔ اس کے لیے متعلقہ ادارے سرگرم ہوئے۔ معتبر ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر سرگرم ان عناصر میں سے 33 کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ لاہور، کوئٹہ اور وزیرستان سے آسٹریلیا تک پھیلا ہوا ہے۔
لیکن گزشتہ روز کوئٹہ کے جلسۂ عام میں عمران خان کا کہنا تھا، نواز شرف کان کھول کر سن لے، اس نے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ تو کیا میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی خان کا مطلوب و مقصود ہے؟ جس کا ایک مظاہرہ حال ہی میں شیریں مزاری‘ طارق فاطمی کے حوالے سے ایک گمراہ کن ٹویٹ کے ذریعے کر چکیں۔ وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی کی گزشتہ سال کی تصویر کو موصوفہ نے تازہ تصویر کے طور پر جاری کر دیا تھا کہ ڈان لیکس کیس میں اپنے عہدے سے برطرفی کے باوجود، وہ وزیر اعظم کے حالیہ دورہ چین کے وفد میں شامل ہیں۔ ادھر جناب شاہ محمود قریشی نے اس ٹویٹ پر اعتبار کرکے قومی اسمبلی کے معزز و محترم ایوان میں پُرجوش تقریر کر ڈالی۔
چوری پکڑی گئی تو شیریں مزاری نے اسے اپنے اکائونٹ سے ڈیلیٹ کر دیا، نعیم الحق نے معذرت کر لی۔ ہمیں شاہ صاحب سے بھی اظہارِ ندامت کی توقع تھی، لیکن کوئٹہ کے جلسے میں وہ اسی جوش و خروش سے، کل بھوشن کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے کو وزیر اعظم نواز شریف سے سجن جندال کی ملاقات کا نتیجہ قرار دے رہے تھے۔
جی ایچ کیو میں منعقدہ اس سیمینار میں آرمی چیف نے نوجوان نسل کے straightforward ہونے کی بات بھی کی‘ جو مصلحت اور منافقت سے کام نہیں لیتی، بلکہ دل کی بات بے دھڑک زبان پر لے آتی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے خود اپنے صاحبزادے کی مثال دی۔ جنرل صاحب کے بقول، ان کے پہلے فیصلے کو اس نے مقبول‘ لیکن غلط قرار دیا (29 اپریل Rejected والی ٹویٹ) جبکہ دوسرے فیصلے (10 مئی کی ٹویٹ، جس میں پہلی ٹویٹ واپس لینے اور وزیر اعظم کی آئینی اتھارٹی تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا) کو غیر مقبول لیکن درست فیصلہ قرار دیا۔
یہاں یہ سوال اپنی جگہ کہ پہلے فیصلے کو صاحبزادے نے کس بنا پر ''مقبول‘‘ قرار دیا، کیا سوشل میڈیا کے Trend سوسائٹی کے حقیقی جذبات و احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں؟ لیکن ظاہر ہے، ریاستی اداروں کو فیصلے مقبول اور غیر مقبول کی بنیاد پر نہیں‘ درست اور غلط کی بنیاد پر کرنا چاہئیں کہ ملک و ملت کا مفاد، سلامتی اور استحکام، درست فیصلوں ہی میں ہوتا ہے۔ عوام میں مقبولیت کا احساس سیاسی جماعتوں کو تو ہوتا ہے جنہیں برسرِ اقتدار آنے، اور برسرِ اقتدار رہنے کے لیے عوامی تائید و حمایت درکار ہوتی ہے‘ لیکن حقیقی سیاسی قیادت بھی اپنی نکیل عوام کے ہاتھ میں نہیں دیتی۔ وہ حساس معاملات میں عوام کی رہنمائی کرتی اور انہیں اپنے فیصلوں کی افادیت کا قائل کرتی ہے۔
جمعہ کی شام کونسل آف نیشنل افیئرز (سی این اے) کی ہفتہ وار نشست میں شامی صاحب نے بہت اہم بات کہی۔ 1970ء کے عام انتخابات ہو چکے تھے۔ انتقالِ اقتدار سے پہلے اب آئین سازی کا مرحلہ درپیش تھا کہ انڈیا کا ایک مسافر طیارہ اغوا ہو کر لاہور کے ہوائی اڈے اترا۔ اغوا کار (اشرف اور ہاشم قریشی) اسے کشمیریوں کے جذبۂ حریت کا اظہار قرار دے رہے تھے۔ مسافروں کو اتار کر، جہاز کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اہل لاہور اس پر خوشی سے دیوانے ہوئے جا رہے تھے (بھٹو صاحب ایئر پورٹ پہنچے اور اغوا کار ''مجاہدین‘‘ کو ہیرو قرار دے کر ان کے کندھے تھپتھپائے) تحقیقات ہوئیں تو عقدہ کھلا کہ یہ تو ہندوستان کی سازش تھی‘ جس کی آڑ میں اس نے اپنی فضائی حدود میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے مابین فضائی سروس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ پاکستان کے دونوں حصوں کے مابین فاصلے اور بڑھ گئے تھے جس سے ہندوستان نے 1971ء کے بحران اور دسمبر کی جنگ میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ہمیں یاد آیا، اس جذباتی فضا میں صرف شیخ مجیب الرحمن اور سردار عبدالقیوم خاں تھے‘ جنہوں نے بھارتی طیارے کے اغوا اور لاہور ایئر پورٹ پر اس کی آمد کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔
جذباتیت کی ایک اور مثال، مشرقی پاکستان میں 25 مارچ (1971ء) کے فوجی آپریشن کے موقع پر سامنے آئی۔ یہ مشرقی پاکستان کے انتخابی مینڈیٹ کو طاقت کے ذریعے کچل دینے کی احمقانہ حرکت تھی، لیکن بھٹو صاحب کا کہنا تھا، خدا کا شکر ہے، پاکستان بچ گیا۔ اِدھر مغربی پاکستان میں، پنجاب کی خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی۔ فوجی آپریشن کے خلاف یہاں کوئی بات کرنا، عوام کے غیظ و غضب کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ ایک ایئر مارشل اصغر خاں تھے جو عقل کی، حق اور سچ کی بات کر رہے تھے، ملک کے دونوں حصوں کے درمیان مفاہمت کے لیے سیاسی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے وہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کو ملک کی سلامتی کے لیے زہرِ قاتل قرار دے رہے تھے۔ ایئر مارشل نے یہی بات لاہور کے وکلا سے کہی اور ان کے غضب کا نشانہ بنے۔ اُدھر صوبہ سرحد میں خان عبدالولی خان تھے جو بنگالی بھائیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی بجائے بحران کا سیاسی حل ڈھونڈنے پر زور دے رہے تھے‘ جس پر انہیں حوالۂ زنداں کر دیا گیا۔
عقل کی یہ بات ہمیں 16 دسمبر کے بعد سمجھ آئی لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *