تاریخ مسخ کرنے کی دوڑ

یاسر لطیف

yasir-latif-hamdani

کچھ سال پہلے میں یہ اخبار میں پڑھ کے بڑا حیران ہوا کہ نظریہ پاکیستان ٹرسٹ ورکرز لاہور میں ایک مسلمان ماڈل کہ طور پر مریم جناح کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کر رہے تھے۔ میں حیران اس لیے تھا کہ میں نے پہلی بارمریم جناح کے بارے میں سنا تھا۔ مذید تحقیق پرپتہ چلا کہ ان کی شادی قاُداعظم سے ہوُی تھی اور یہ اپنے ہندی نام رتن بائی کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ معما یہ تھا کہ رتن بائی کا نام کبھی بھی مریم نہیں رکھا گیا تھا۔ ان کے نکاح نامہ پر بھی ان کا نام رتن بائی رکھا گیا تھا اور وہ اپنے خطوط میں رتی کے نام سے دستخط کرتی تھیں۔

ان کی اسلام قبولیت محض ایک قانونی ضرورت تھی۔ اس وقت کے قانون کے مطابق 2 مذاہب کے افراد کی آپس میں شادی کے لیے ضروری تھا کہ خاوند یا بیوی میں سے ایک شخص اپنا مذہب بدل دے ۔ جناح اس وقت بمبئی کے مسلمانوں کے نمائندہ تھے اس لیے اپنا مذہب چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ نہ ہی ان کے لیے یہودی مذہب قبول کرنا آسان تھا۔ جناح قومی اسمبلی میں باضابطہ ایک دہائی تک اس قانون کی مخالفت کرتے رہے۔

انہوں نے 1912 میں ہندو مسلمان خاندانوں کے بیچ کسی شرط کے بغیر شادی کی اجازت کی حمایت کی تھی۔ اس کے باوجود قانون نہیں بدلا گیا اور رتی کے لیے لازمی تھا کہ قائد اعظم سے شادی کے لیے اپنا نام تبدیل کر لیں۔ کسی بھی لحاظ سے اسلامی مذہب اختیار نہیں کیا۔ وہ فیشن ایبل ڈریس پہنتی تھیں اور بعض اوقات برطانوی عوام ایسے لباس کو سکینڈلس بھی قرار دیتے رہے۔ ایک موقع پر لیڈی ولنگٹن نے رتی کو مختصر لباس پہننے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو آج بھی ہر کسی کو معلوم ہے۔

جناح نے ویلنگنڈن کے ساتھ ڈنر سے انکار کیا تھا یہ معاملہ بھی واضح طور پر تاریخ میں رقم ہے جس کے بعد لارڈ ویلنگڈن اور جناح کے بیچ قانونی جنگ بھی ہوئی جس میں بمبئی ٹاون ہال میں 1918 میں قائد اعظم کو ایک بڑی جیت حاصل ہوئی۔سٹینلی وولپرٹ جن کے جناح کی عظمت کے بارے میں بیانات اکثر پاکستانی عوام حوالہ کے طور پر پیش کرتے ہیں کے مطابق رتی قائد اعظم کے لیے لاء چیمبر میں سینڈوچ لے کر آیا کرتی تھیں۔ کیا یہ ایک مسلمان شہری کا رویہ ہونا چاہیے؟

شیلا ریڈی کی نئی کتاب 'مسٹر اور مسز جناح' نے انڈین سیاست کے تناظر میں اس جوڑے کی شادی شدہ زندگی کو پوری طرح کھول کر بیان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری سانس تک جناح کے ساتھ کھڑی رہیں اور بہت سی تحاریک میں بہت محرک سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر رتی کی وفات نہ ہوتی تو جناح شاید پاکستان کے قیام کی آواز کبھی نہ اٹھاتے۔

جناح نے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کا عمل 1930 کی دہائی میں شروع کیا اور اس چیز پر مورخین میں سخت مباحثے بھی دیکھنے کو ملے لیکن جو چیز سب سے زیادہ حیران کر دینے والی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے قائد اعظم کی بیوی رتی کو کیوں مسلمان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جن کی موت 1929 میں ہوئی تھی ۔ مشہور لکھاری شاکر لاکھانی جن کا تعلق کراچی سے ہے نے مجھے وکی پیڈیا پر موجود رتی کے بارے میں ویب سائٹ پیج سے آگاہ کیا۔ اب اس پیج کا ٹائٹل مریم جناح رکھا گیا ہے۔ وکی پیڈیا ریفرنس کے طور پر شائع شدہ مواد کے حوالہ جات پر مبنی کام کرتا ہے۔ لیکن اس موقع پر ایک بھی حوالہ پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ رتی بائی کا نام مریم جناح تھا۔ اس کے باوجود وکی پیڈیا کے پاکستانی ایڈیٹر جن کا نام ٹاپ گن ' بتایا گیا ہے نے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیج کا ٹائٹل تک تبدیل کرنے سے گریز کیا۔

یہ دلیل دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر کیسشیس کلے کو محمد علی کہا جاتا تھا تو رتی جناح کو مریم جناح کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ رتی کو مریم قرار دینا غیر عقلی ہے۔ یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ رتی کو مریم بنا کر کیسے پیش کیا گیا اور اس کا کوئی حوالہ شامل نہیں کیا گیا۔ جہالت کی اس دیوار کے خلاف ہمارے پاس کوئی دوسرا نکتہ ہی موجود نہین ہے۔

یہاں تک کہ وکی پیڈیا نے بھی انہیں رتن بائی عرف رتی جناح کے نام سے بیان کیا ہے۔ انہیں شادی کے بعد کے نام مریم جناح کے نام سے بھی جناح کی دوسری بیوی کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے اور انہیں پاکستان کے قیام کا ایک بنیادی کردار قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات سن کر رتی جناح اپنی قبر میں تڑپ اٹھی ہوں گی۔ کیونکہ قبر کے کتبے پر بھی ان کا نام رتن بائی عرف رتی ہی لکھا گیا ہے۔

پاکستان کا تقسیم ہند پر پراپیگنڈہ خاص طور پر جنرل ضیا کی حکومت کے بعد ایک نیا رخ اختیار کر گیا جس میں پاکستان نے یہ بیانیہ اختیار کیا کہ یہ ملک ایک اسلامی نظام کے قیام کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ اس بیانیے میں سیکولر قانون دان جناح کی حیثیت باہر پھیلے ہوئے ایک انگوٹھے کی رہ گئی تھی۔

اس لیے ان کی شخصیت کو بھی ایک نئی شکل دینا ضروری تھا اور یہ نئی شناحت ہماری دیواروں پر موجود نظر آتی ہے۔ 2000ء میں جب جنرل مشرف کی روشن خیال اور ماڈریٹ حکومت موجود تھی اس وقت جناح کی پینٹ کوٹ والی تصویر ہٹا کر شیروانی والی تصویر لگائی گئی جو محمد علی جناح کبھی کبھار پہنتے تھے۔

کسی حد تک جناح خود اس اسلامائزیشن کے ذمہ دار ہیں۔ 1940 کی دہائی میں انہوں نے مسلم کلچر اور شناخت کو اجاگر کر کے مسلمان طبقہ کو علیحدہ ملک کے حق میں ووٹ دینے پر ابھارا اگرچہ ان کا مسلم کلچر اور شناخت کو اجاگر کرنے کا طریقہ آج کے مقابلے میں بہت مختلف اور بہتر تھا۔ لیکن رتی کی کیا غلطی ہے کہ انہیں ہم برقعہ پہننے اور نام تبدیل کرنے پر مجبور کریں ؟

اس طرح بڑی طاقتیں ثقافت کا رنگ بدلتی ہیں۔ وہ وقت گزر گیا پاکستان اور بھارت میں لوگ 'خدا حافظ ' کہہ کر ساتھیوں کو رخصت کرتے تھے۔ آج کے دن لوگ اللہ حافظ کہہ کر رخصتی کی رسم پوری کرتے ہیں۔ رمضان کو رمدان بنا دیا گیا ہے۔اب الباکستان والی لائسنس پلیٹس بڑھکتی آگ کی طرح پھیل چکی ہیں۔ بھارت میں بمبئی کو ممبئی بنا دیا گیا ہے۔ کلکتہ اب کولکتہ بن چکا ہے اور بنارس کو ویراسانی کہا جانے لگا ہے۔ یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ رتی جناح کو اب مریم جناح میں ڈھالا جا رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں اپنی تاریخ کو مسخ کرنے کی ریس میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *