توہین خدا کا جرم بمقابلہ توہین رسالت کا جرم!

naeem-baloch1
اگر پوچھا جائے کہ توہین رسالت کا جرم بڑا ہے یا توہین خدا کا ؟
آپ پوچھیں گے کہ کیا بکواس سوال ہے ! پہلے ہی کیا کم مذہبی اور سیاسی بکھیڑے ہیں جو یہ نیا ’مذہبی کٹا‘ کھول دیا گیا ہے !
یہ ہر گز کوئی تخیلاتی بحث نہیں ، بلکہ خدشہ ہے کہ یہ تحریر شایع ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر اس خبر کا چرچا ہو چکا ہو گا۔
معاملہ یہ ہے کہ معروف فوک اور صوفی سنگر عابدہ پروین نے بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا :’’ اپنے سامعین کو میں خدا سمجھتی ہوں جو وہ حکم دیں گے میں گاؤں گی‘‘۔اور گلوکارہ کے اس بیان کو شہ سرخی کے ساتھ شایع کیا گیاہے ۔
اب ایک خاص فرقے کے مولوی صاحب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کا مقام کیونکہ رسول سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے یہ توہین رسالت سے بھی بڑا جرم ہے ۔ مزید یہ کہ یہ سیدھا سیدھا شرک ہے ۔ عابدہ پروین نے لوگوں کو واضح الفاظ میں اپنا خدا کہا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو خدا کہنا اور ماننا شرک ہے اور شرک کرنے والا کافر ہے اور عابدہ پروین مسلمان ہو کر کافر ہوئی ہے اس لیے اس نے ارتداد کا ارتکاب کیا ہے یعنی وہ مرتد ہو گئی ہے اور مرتد واجب القتل ہے !
دوسرے مولوی صاحب کہیں گے کہ انھوں نے کیونکہ توہین رسالت نہیں کی ، جس کی سزا موت ہے اور خدا کی توہین کرنے پر ہماری فقہ میں کوئی سزا نہیں ۔اس لیے ہم عابدہ پروین کو قتل نہیں کر سکتے ۔
ایک دوسرے مولوی صاحب حلوے میں ڈوبی آواز میں فرمائیں کہ لا حول ولا قوۃ!اس ۔۔۔۔( خالی جگہ اپنے اپنے تخیل اور ذوق سے پوری کر لیں ) نے انتہائی واضح الفاظ میں کفر کیا ہے ۔ کوئی بھی انسان کسی بھی طرح کسی کو اپنا خدا نہیں کہہ سکتا اور اس نے تو نہ صرف کہا ہے بلکہ اپنے اس خدا کا حکم ماننے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے ۔ یہ توہین بھی ہے اللہ کی ، شرک بھی ہے ، ارتداد بھی ہے ، اس کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔
کوئی بھلا مانس یہ بھی کہ سکتا ہے کہ بھئی یہ اس نے مجازی اسلوب میں بات کی ہے ، یہاں خدا کا لفظ معبود اور عبادت کے لائق خدا کے مفہوم میں نہیں ہے ، بالکل ویسا ہی مطلب ہے جیسے کوئی شاعر ، کوئی ادیب اپنے محبوب کو خدا کہہ دے، صنم کہہ دے ! ااور عابدہ پروین ایک مسلم صوفی خاتون ہیں، بھلا وہ لوگوں کو خدا کیسے مان سکتی ہیں ۔ اور کیا کسی کی بے احتیاطی، بغیر بری نیت کے کوئی بظاہر غلط الفاظ کہہ دینے سے کافر ، مرتد ہو جاتا ہے ؟ ہاں ہم انھیں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے ۔ لوگوں میں جاہل، بے علم ، فسادی اور متعصب بھی ہوتے ہیں ، اس لیے انسانوں کی اس جنگل میں، جس میں ہم رہتے ہیں ، احتیاط لازم ہے، کوئی بھی انسان نما جانور کسی وقت بھی باؤلا ہو سکتا ہے !
تب آپ یہ واویلا کرنے پر حق بجانب ہوں گے کہ حضور ، آپ نے مشال سے لے کر سلمان تاثیر تک ،جن جن کو اس جرم کی سزا دی ہے، ان پر یہ تقریر کی تھی ؟ان کی نیت دیکھ لی تھی ؟ ان کا کفر ان سے پوچھ لیا تھا؟ان کے کہے کی تاویل کرنے کی کوشش کی تھی ؟ اور جن لوگوں نے محض الفاظ پر ان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا تھا ، لوگوں کو ر دعمل پر بھڑکایا تھا ، ان کی حیوانیت پر دو حرف بھیجنے کے بجائے ان کو اپنے اپنے مندروں کا بھگوان بنانے کا فیصلہ کیا تھا ، کیا جا رہاہے، کیا جاتا رہے گا ، ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *