عمران میانداد کی جوڑی اور یونس مصباح کی جوڑی

شان آغا

Image result for shan agha

جاوید میانداد بھاگ کر عمران خان کے پاس گئے اور انہیں گلے لگا لیا۔ صرف میانداد ہی عمران خان کے ساتھ ایسا کر سکتے تھے۔ میر ے والد نے یادیں تازہ کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ یہ گلے ملنے کا منظر بہت شاندار اور تاریخی تھا۔ اس کی وجہ صرف ولڈکپ کی فتح ہی نہیں تھی بلکہ یہ بھی تھی کہ میانداد کے علاوہ کسی کھلاڑی نے عمران خان کو گلے لگانے کی ہمت نہیں کی تھی۔ ان کا ہاتھ کھیچنا تو بہت دور کی بات ہے۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا۔ پاکستانی کھلاڑی جشن منا رہے تھے، سجدے میں گر رہے تھے، خوشی کے آنسو ان کی آنکھوں سے چھلک رہے تھے اور ان سب کا عکس ان دو بڑے کھلاڑیوں کے گلے ملنے کے منظر میں عیاں تھا۔


80 کی دہائی میں پاکستانی عوام اس جوڑی کے مداح بن چکے تھے۔ ان دو بڑے کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور ملک کی ٹیم کو اعتماد اور فتح کا نمونہ بنا دیا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے ولڈ کپ جیت کر کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا اور انہیں پوری قوم کی طرف سے عزت اور پیار ملا۔ البتہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے باوجود بہت کم لوگ یہ دیکھ پاتے تھے کہ پاکستانی ٹیم ترقی کی راہ پر ہے۔ اچھے وقتوں کے ساتھ ساتھ مشکل حالات کا بھی ٹیم کو برابر سامنا رہا۔ عمران خان کے ساتھیوں میں سے 9 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے کپتان منتخب کروایا گیا۔
جاوید میانداد، وسیم اکرم، سلیم ملک، وقار یونس، رمیض راجا، عامر سہیل، سعید انور، معین خان اور انضمام الحق کو کپتانی کی سعادت سے نوازا گیا۔ بہت سے کھلاڑیوں کو ایک سے زیادہ بار کپتان منتخب کیا گیا۔ پاکستان کرکٹ وقت کے ساتھ ساتھ کرپشن اور سیاست کا شکار ہو گئی۔ اگلی دو دہائیوں میں بہت سے عدالتی کیسز، تاحیات پابندی، ڈرگ کے استعمال پر پابندی، میچ فکسنگ، سپاٹ فکسنگ، ایک دوسرے کے پیٹھ پیچھے سے حملہ آور ہونے، انٹرنیشنل ٹیم پر دہشت گردی کے حملے ، کوچ کی موت اور قومی کپتان اور دو کھلاڑیوں پر جیل کی سزا کے نفاذ کے واقعات سامنے آئے۔

youmis2010 میں 35 سالہ مصباح الحق کو ٹیم کا کپتان بنایا گیا جو اپنی شخصیت میں عمران خان کے بلکل بر عکس تھے۔ ان کی کپتانی میں پہلی سیریز جنوبی افریقہ کے خلاف تھی۔ پہلا میچ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا جہاں مصباح الحق نے پاکستان کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ چوتھی اننگز میں ساوتھ افریقہ نے پاکستان کو 451 رنز کا ہدف دیا جو پہلی اننگز میں 248 پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ ابھی چار سیشن باقی تھے اس لیے پاکستانی ٹیم مشکل میں دکھائی دیتی تھی۔ تب مصباح اور یونس اکھٹے کریز پر آئے اور اگلے سات سال کے لیے پاکستان کے سامنے ایک ٹیمپلیٹ کی صورت میں ایک اہم مثال قائم کی۔ انہوں نے یہ میچ ہارنے سے انکار کیا۔ مصباح نے 225 منٹ اور یونس خان نے 344 منٹ تک بیٹنگ کی۔ دونوں کھلاڑی کھیل ختم ہونے تک ناٹ آوٹ رہے۔
یونس جو اس میچ میں مین آف دی میچ قرار پائے کی اس وقت ڈیڑھ سال بعد ٹیم میں واپسی ہوئی تھی ۔ ٹیم سے باہر رہنے کی وجہ ان پر انتظامیہ کی طرف سے پابندی پر اختلافات تھے۔ بالآخر یونس کو ایسا کپتان مل گیا تھا جنہوں نے انہیں وہ آزادی دی جس کا وہ مطالبہ کر رہے تھے اور جواب میں یونس نے مصباح کو عزت اور احترام دیا۔ مصباح اور یونس کی جوڑی نے مل کر 3213 رنز بنائے جس کی ایوریج 68.36 تھی ۔ پاکستان کی تاریخ کی یہ سب سے بہترین جوڑی قرار پائی۔ 15 بار ان کھلاڑیوں نے سینچری پارٹنرشپ قائم کی اور اس طرح وہ سب سے زیادہ سینچری پارٹنر شپ بنانے والی جوڑیوں میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔
راہل ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر اس لسٹ میں درجہ اول پر موجود ہیں جنہوں نے 20 بار سینچری پارٹنر شپ بنائی ہے۔ لیکن اگر یونس اور مصباح پہلے اکٹھے ہوتے تو شاید 40 بار سینچری پارٹنر شپ بنا سکتے تھے۔ 2017 میں روسو ڈومینیکا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا آخری میچ کھیلا گیا ۔ سیریز برابر تھی اور تاریخ رقم ہونے کو تھی۔ اسی میچ پر اس چیز کا انحصار تھا کہ میچ کے بعد پاکستان کے عوام مصباح کو کیسے یاد رکھیں گے۔ دوسرے دن کھیل کےک اختتام پر پاکستان نے 96 اوورز میں 209 رنز بنا رکھے تھے اور تین کھلاڑی آوٹ تھے۔
ایک دوست نے مجھے موبائل پر پیغام بھیجا اور لکھا: کیا ہم یہ میچ جیتنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں ؟51 بالز پر صرف ایک رنز! پاکستان کا رن ریٹ 2.17 تھا اور مصباح کا سٹرائیک ریٹ 1.96 تھا۔ میں نے اس میسیج کا جواب نہیں دیا۔ میرے پا س کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ جہاں ایک گھنٹے میں صرف 2 رنز بنتے ہوں تو اس سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ پانچویں دن ویسٹ انڈیز کے 76 پر پانچ کھلاڑی آوٹ تھے اور پچ بہت خراب تھی۔ عامر بولنگ کر رہے تھے اور انہیں ایک وائڈ سلپ، گلی اور کور پوائنٹ پر فیلڈر میسر تھا ۔ انہوں نے زیادہ فیلڈر رنز روکنے کےلیے لگا رکھے تھے لیکن کیچنگ پوزیشن پر نہیں لگائے گئے۔
اگر کوئی اس معاملے کی مزاحیہ صورت حال کو نہیں سمجھ پائے تو یہ ایک بہت بڑا لطیفہ بن جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد رمیض راجا نے کہا کہ ایسی فیلڈنگ اس وقت لگائی جاتی ہے جب سکور 300/3 ہو اور میچ کا دوسرا دن ہو۔ تب مجھے اور پیغامات ملنے شروع ہوئے کہ آخر مصباح اٹیک کیوں نہیں کرنا چاہتے۔ ایک بار پھر میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے پہلے بھی کبھی جواب نہیں دیا لیکن مصباح کے ٹیسٹ میچز کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ فیلڈرز کا آگے یا پیچھے جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ روسٹن چیز اور ویسٹ انڈیز کے ٹیل انڈرز نے بہت سخت مزاحمت کی اور میچ دندان شکن صورت حال میں چلا گیا۔
مجھے ایک اور پیغام ملا۔ کیا اب بھی ہم جیت سکتے ہیں یا چیز ہمارے لیے جمی ایڈمز بن جائے گا؟ 17 سال پرانا واقعہ ذہن میں تازہ ہونے لگا جب پاکستانی کھلاڑیوں نے بہت سے چانسز ضائع کیے اور امپائر کے فیصلے بھی پاکستان کے خلاف گئے۔ آخری دو اوور بچے تھے جب ایک بار پھر میسج موصول ہوا: مصباح اور یونس کی نیت صاف ہے۔ کوئی معجزہ ضرور واقع ہو گا۔ لاکھوں پاکستانی دعائیں مانگ رہے تھے لیکن یہ دعا ملک کی جیت کےلیے نہیں تھی بلکہ دو بڑے بیٹسمینوں کے لیے دعا گو تھی جنہوں نے اس قدر لمبے عرصے تک پاکستان کی خدمت کی تھی۔
بیٹ کے گرد 10 کھلاڑی موجود تھے اور یاسر شاہ نے آخری کھلاڑی کو آوٹ کر کے میچ کا خاتمہ کر دیا۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ مصباح نے تمام کھلاڑیوں کو باری باری گلے لگا کر مبارک باد دی۔ اب مصباح یونس کو گلے لگانے جا رہے تھے۔ اتنے سال کا ساتھ ختم ہو رہا تھا جس میں بہت سے اتار چڑھاو دیکھنے کو ملے تھے۔ یہ جپھی باقی کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی تھی۔ اس واقعہ نے مجھے 1992 میں ایم سی جی گراونڈ میں عمران اور جاوید میانداد کے گلے لگنے کے واقعہ کی یاد تازہ کر دی۔ اس سٹائل میں آج سے قبل کوئی پاکستانی کھلاڑی ریٹائر نہیں ہو پایا۔
دونوں جوڑیوں کے ادوار مختلف تھے اس لیے ان دونوں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔جہاں عمران اور میاں داد نے ٹیم کو ایک نئی روح اور تحفظ فراہم کیا وہاں مصباح اور یونس نے ٹیم کو مزاحمت اور عزم کا راستہ دکھایا۔ جاوید میاں داد اور عمران جہاں بہت بڑے اور سخت جنگجو تھے وہاں مصباح اور یونس امن اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ مخالف ٹیم کو ہرانے کا جذبہ رکھتے تھے۔ مصباح نے عمران خان کے جیتے ہوئے ٹیسٹ کے دو گنا ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کی جب کہ یونس خان نے عمران خان اور جاوید میانداد کی سینچریوں کے مجموعہ سے بھی زیادہ سینچریاں سکور کیں۔
کل ملا کر مصباح اور یونس نے اکٹھے 50 میچز میں فتح حاصل کی ہے جن میں سے 26 دوسرے ممالک میں کھیلے گئے۔ ان میں سے 15 ایشیا سے باہر کے ممالک میں کھیلے گئے۔ 500 ایوریج والے گھوڑے اپنی مرضی سے تیز بھاگ سکتے ہیں لیکن اصل معاملہ رن ریٹ کا ہے ۔ جو لوگ اس چیز کی قدر پہچان سکیں وہی اس کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں ۔ اگر کسی کو ان انجنوں کی صلاحیت اور طاقت پر شک ہے تو اسے بتاتا چلوں کہ مصباح پاکستان کے سب سے زیادہ چھکے لگانے والے کھلاڑی کا اعزاز رکھتے ہیں اور انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 81 چھکے لگا رکھے ہیں۔ دوسرے نمبر پر یونس خان ہیں جنہوں نے 70 چھکے لگائے ہیں۔ باقی کوئی کھلاڑی 60 کا ہندسہ بھی عبور نہیں کر پایا۔
آپ اس عزت اور احترام کو کیسے ماپ سکتے ہیں جو مصباح اور یونس کی جوڑی نے انگریزوں کی زمین پر حاصل کیا؟ آپ اس وقار اور عزت کو کیسے ماپ سکتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کرکٹ کے لیے دنیا بھر سے سمیٹی؟ انہوں نے ثابت کیا کہ کچھ کرپٹ اور بکھرے ہوئے کھلاڑی بھی ٹیم کو ایک یا دو میچ جتوا سکتے ہیں لیکن دنیا کی نمبر 1 ٹیم بننے کےلیے ٹیم کا متحد ہونا ضروری ہے۔ جب ایمان، اتحاد اور تنظیم کو محنت سے جوڑ لیا جائے تو اس کا اپنا جادوئی اثر ہوتا ہے۔
ہم آپ کی دیانت کو کیسے ماپ سکتے ہیں؟ خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ خاصیت قوم میں نا پید ہوتی جا رہی ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی یونس اور مصباح کی جوڑی کی جگہ لے سکے؟ میرے پاس ا س سوال کا جواب ہے۔
کوئی جوڑی مصباح یونس کی جوڑی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *