ایک خطرناک اتحاد

عر بوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل مسلمانوں کے خلاف بیانات اور الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب میں تاریخی استقبال کیا وہ کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی۔ حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ ریاض میں موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا نظریہ نہیں بدلا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ریڈیکل اسلامک ٹیررازم کا ذکر تک نہیں کیا جو وہ الیکشن کے دوران اکثر استعمال کیا کرتے تھے۔ جس چیز نے سعودی اور عربی بادشاہوں کو بہت خوش کیا وہ ٹرمپ کا ایران مخالف رویہ تھا جس کے تحت انہوں نے ایران کو دہشت گردی اور شدت پسندی کا مرکز قرار دیا۔

جو عرب کچھ عرصہ قبل اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہے تھے وہ اب ایسے محسوس کرنے لگے جیسے انہیں ایک بہت اہم اتحادی مل گیا ہو جس کا انہیں کافی عرصہ سے انتظار تھا۔ پہلے جو دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اتحاد قائم کیا تھا وہ اب ایران مخالف اتحاد بن گیا جس نے تقسیم کے عمل کو مزید وسعت دی۔ ایران کو دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر امریکی صدر نے مسلم ممالک کے درمیان فرقہ واریت کی جنگ کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے اور دہشت گردی کے اصل ممبع کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔

اس کا ذمہ دار خود ایران بھی ہے کیونکہ وہ عراق اور شام کی جنگ میں پراکسی وار فرقہ واریت کی بنیاد پر جاری رکھے ہوئے ہے۔ عراق اور شام جنگ میں ایران پوری طرح اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس ملک کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینا بہت خطرناک ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ عراق میں ایران اور امریکہ کی فوجیں ملکر دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں جب کہ سعودی عرب اور دوسرے اسلامی ممالک سنی شدت پسند گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایران کو کنارے لگانے کی یہ اپروچ مڈل ایسٹ میں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے اور ا سکے پاکستان پر بھی گہرے اثرات واقع ہو سکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ حسن روحانی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد بھی ہو رہا ہے۔ ایرانی عوام نے حسن روحانی کو صدر چنا ہے جو ایک اعتدال پسند سیاست دان ہیں اور انہوں نے امریکہ اور دوسرے ایٹمی ممالک کے ساتھ ایک نیو کلئیرمعاہدہ بھی کر رکھا ہے۔

سعودی عرب اور گلف ممالک اس معاہدے کے سخت خلاف تھے اور تہران کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کر رہے تھے۔اوبامہ کی صدارت کے آخری سال میں ایران نیو کلیر ڈیل کی وجہ سے امریکہ اور سعودی عرب کے بیچ تعلقات میں دراڑ پڑ گئی تھی۔ سعودی امریکہ اور ایران کے بیچ بڑھتے تعلقات کو دیکھ کر بہت پریشان نظر آ رہے تھے۔

لیکن الیکشن کے بعد ٹرمپ کی جیت اور ان کے ایران مخالف نظریات نے حالات کو ایک بار پھر یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ بلند و بانگ دعووں کے باوجود ایران کے ساتھ نیو کلیر معاہدہ کو ختم نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے علاوہ پانچ دوسرے ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ البتہ ٹرمپ کی اس سوچ کی وجہ سے جب انہوں نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ سعودی حکومت نے امریکہ سے اسلحہ کی خریداری اور کئی بلین ڈالر انویسٹ منٹ کے معاہدے بھی کیے۔

ان تجارتی معاہدوں سے ٹرمپ کو یقینا بہت خوشی محسوس ہوئی ہو گی کیونکہ یہ بہت سی جابز کا راستہ کھولنے میں اہم ثابت ہو ں گے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ امریکہ ایک بار پھر سعودیہ سینٹر مڈل ایسٹ پالیسی پر کاربند ہو رہا ہے۔البتہ مڈل ایسٹ سول اور داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی یہ پالیسی مشرق وسطی میں امن کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اس سے یقینا سعودی عرب یمن کے خلاف فوجی لحاظ سے زیادہ سختی دکھائے گا ۔ اس سے شاید علاقے میں ایران کے خلاف پراکسی وار کا بھی آغاز دیکھنے کو ملے۔ کچھ علامات ایسی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اسرائیل بھی عرب ایجنڈے کی حمایت کے لیے راضی ہے اور اس اتحاد کو خفیہ مدد فراہم کرے گا۔ سب سے زیادہ پریشانی والی بات یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے تنازعات سے القاعدہ اور داعش کے ہاتھ مضبو ط ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال نے سعودی عرب کی رہنمائی میں اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔ اس اتحاد کو عرب نیٹو کا نام بھی دیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر ایران مخالف ایجنڈا کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ سمٹ میں سعودی شاہ کی تقریر کے بعد اس اتحاد کے بارے میں تمام شکو ک و شبہات واضح ہو جانے چاہیے تھے جس میں شاہ نے ایران کو واضح طور پر اصل دشمن قرار دیا۔ ایک بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم سعودی ایجنڈا سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔

وزیر اعظم کا ٹرمپ سے اکیلے میں ملاقات نہ کر پانا اور انہیں سمٹ میں تقریر کا موقع نہ ملنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اصل سوا ل یہ ہے کہ کیا یہ تقسیم پر مبنی اتحاد ہماری نیشنل سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے مفاد میں ہے یانہیں۔ فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

یہ تو پہلے ہی معلوم تھا کہ یمن جنگ کے دوران سعودی شہزادوں کی طرف سے اس اتحاد کے قیام کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔اس کے مقاصد واضح ہونے سے قبل اس میں شمولیت کا عندیہ دینا پاکستان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس سے بھی بڑی غلطی جنرل راحیل کو اس اسلامی فوج کی کمان سنبھالنے کی اجازت دینا تھی۔ اپنے سابقہ آرمی چیف کو اس اتحادی فوج کا سربراہ بنا کر ہم یہ بہانہ نہیں بنا سکتے کہ ہم اس اتحاد کے ایکٹو پارٹنر نہیں ہیں۔ حکومت نے یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی قرارداد کی واضح مخالفت کرتے ہوئے کیا تھا جس میں مڈل ایسٹ کی اندرونی جنگ میں ملوث ہونے سے بچنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے کہ ہم ریاض سمٹ میں ایران مخالف نظریہ پر اپنی پوزیشن واضح نہ کر سکے۔اب ہم اپنے آپ کو سعودی عرب کو ناراض کیے بغیر سنی ممالک اتحاد سے آسانی سے نہیں نکال سکتے۔ لیکن ایسے اتحاد میں شمولیت جو ہمیں اندورنی خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے ہمارے لیے بہت خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ امید کی جا رہی تھی کہ مسلم اکثریت والے ممالک کا اتحاد فرقہ واریت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرے گا اور مڈل ایسٹ کی خانہ جنگی کے خاتمہ کی نوید ثابت ہو گا لیکن عرب اسلامک امریکن سمٹ نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور عدم استحکام کو مزید بڑھانے کا سامان کر دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *