بقائمی ہوش و حواس لکھا ہوا کالم

ata ul haq qasmi

میں دوپہر کو سونے کا عادی نہیں ہوں لیکن آج جمعہ کی نماز کے دوران میں نے نیند کا غلبہ محسوس کیا، کوئی اور ہوتا تو سمجھتا کہ شاید شیطان میری نماز خراب کرنے کی کوشش کررہا تھا لیکن یہ تو کوئی نیک روح تھی جس نے نماز کے دوران آنے والے شیطانی خیالات کی روک تھام کے لئے ان کے سامنے نیند کا بند باندھ دیا، ورنہ نماز کی نیت کرتے اور ہاتھ سینے پر باندھتے ہی ذہن میں ایک بزم خیال سی سج جاتی ہے، جن باتوں کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں گیا ہوتا، نماز کے دوران دھیان ان کی طرف بھی چلا جاتا ہے، میں اس صورت حال سے سخت پریشان رہتا ہوں چنانچہ ایک روز میں ایک بزرگ کے پاس گیا اور انہیں اس افسوسناک صورتحال سے آگاہ کیا اور پوچھا مجھے کیا کرنا چاہئے، انہوں نے آنکھیں بند کیں اور بہت دھیمی آواز میں بولے ’’مجھے کیا پتہ کیا کرنا چاہئے‘‘میرا اپنا یہی حال ہے۔میں علامہ حسین میر کاشمیری کا یہ واقعہ شاید پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ علامہ صاحب کی سر سید ٹائپ داڑھی تھی، بہت بذلہ سنج تھے بلکہ ظریفانہ شاعری بھی کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہیں پتہ چلا کہ حضرت رائے پوری ماڈل ٹائون لاہور میں صوفی اسلم مرحوم کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں، موصوف ان کے بہت عقیدت مند تھے۔ چنانچہ ماڈل ٹائون ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، نماز کا وقت ہوا تو جن مولانا کو امامت کے لئے کہا گیا انہیں ہدایت کی کہ نماز مختصر رکھیں کیونکر حضرت بہت ضعیف اور نحیف ہیں ان کے لئے طویل قیام و سجود ممکن نہیں۔ نماز ختم ہوئی تو علامہ حسین میر کاشمیری امام صاحب کے پاس گئے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بہت عقیدت مندانہ لہجے میں کہا ’’حضرت نماز میں حضوری کی جو کیفیت آج محسوس ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی ’’امام صاحب نے انکسار سے کام لیتے ہوئے کہا ’’علامہ صاحب! میں تو بہت گنہگار انسان ہوں، آپ کو یہ حضوری کی کیفیت میری امامت میں کیونکہ محسوس ہوئی؟‘‘ علامہ صاحب بولے ’’حضرت میں ابھی نماز کی نیت کر رہا تھا کہ آپ رکوع میں تھے،، میں رکوع کی سوچ رہا تھا کہ اس دوران آپ سجدے میں جا چکے تھے، میں آپ کا پیچھا کرتا کرتا سجدے تک پہنچا تو آپ قیام کر چکے تھے، ساری نماز کے دوران یہی صورت حال رہی چنانچہ اس بھاگ دوڑ میں شیطان کی طرف تو دھیان جا ہی نہیں سکا، سبحان اللہ، آج آپ کی امامت میں زندگی میں پہلی دفعہ حضوری کی کیفیت محسوس ہوئی، بیچارے امام صاحب مسکرا کر یا دانت کچکچا کر خاموش رہے۔
اب اگر علامہ حسین میر کاشمیری کا تذکرہ چھڑ ہی گیا ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ موصوف ظریفانہ گفتگو اور شاعری کے علاوہ عملی مذاق بھی کرتے تھے، چونکہ خود بھی عالم تھے، لہٰذا اس دور کے صف اول کے علماء کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے۔ایک دفعہ موصوف نے ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر دس بیس علماء کو کھانے پر مدعو کیا، ان کی بہت آئو بھگت کی، ان سے کافی دیر تک سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، پھر کہا اب میں آپ کے لئے کھانا لگائوں، چنانچہ دسترخوان بچھایا۔ کھانے کی پلیٹیں سجائیں، پانی کے جگ رکھے اور کہا بس کھانا آیا ہی چاہتا ہے اور اس کے بعد گھر کو باہر سے تالہ لگا کر لاہور آگئے۔ اس کے بعد کیا ہوا یا کیا کیا ہوا ہوگا، راوی اس بارے میں خاموش ہے۔
خیر بات دوپہر کی نیند کے حوالے سے شروع ہوئی تھی اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ بہت سے لوگ دوپہر کی نیند کو دین کے ارکان میں سے ایک رکن کی طرح سمجھتے ہیں بلکہ سارا مشرق وسطیٰ دوپہر کو سویا ہوتا ہے، ایک ستم ظریف کا تو خیال ہے کہ یہ خطہ تو بہت عرصے سے جاگا ہی نہیں، بہرحال ہمارے ہاں بھی سونے والوں کی تعداد کم نہیں ہے، میں ڈیڑھ سال سے اسلام آباد میں مقیم ہوں، وہاں یہ صورت حال نہیں ہے، میرے بہت سے بیوروکریٹ دوست ہیں، ان کے دفاتر میں جانے کا موقع ملتا رہتا ہے، چنانچہ میں دن کے جن اوقات میں بھی گیا ہوں، انہیں صرف جاگتے نہیں بلکہ پوری طرح الرٹ پایا۔ ان میںسے اکثر کی انگریزی بہت خوبصورت ہے اور وہ نوٹنگ ڈرافٹنگ کے ماہر ہیں، وہ میرے ساتھ گپ شپ بھی کررہے ہوتے ہیں اور اپنے قلم کے جوہر بھی دکھا رہے ہوتے ہیں، سمریوں پر ’’ہاں‘‘ میں لکھ رہے ہوتے ہیں اور ’’نہ‘‘ میں لکھ رہے ہوتے ہیں۔ شاید عام لوگوں کو علم نہ ہو کہ ملک کا نظام حکمران نہیں، اکثر اوقات ان کی سمریاں چلارہی ہوتی ہیں۔ اسلام آباد میں رہائش تو میں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے اختیار کی ہے لیکن اس شہر بے مثال میں آنا جانا چالیس پچاس سال سے لگا ہوا ہے۔ میں نے اپنے دوست سے ایک دفعہ اپنی بیوروکریسی کے چند بڑوں کے بارے میں توصیفی کلمات کہے کہ یار یہ لوگ جن ہیں، دفتر میں ایک پل آنکھ نہیں جھپکتے، اس کے باوجود ان کی شاندار ورکنگ سے ایسے لگتا ہے جیسے انہوں نے شربت فولاد پیا ہو، مجال ہے کوئی ان کی غلطی پکڑ سکے، میرے دوست نے میری بات سنی اور پھر مسکراتے ہوئے بولا ’’اے میرے سادہ لوح دوست کوئی ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتا نظر نہیں آرہا۔ ہر کام التوا میں پڑاہوا ہے، تمہار ے خیال میں یہ نظام جاگتی حالت میں چلایا جارہا ہے؟ میں نے جواب دیا ’’ہاں‘’‘ بولا ’’ذرا اپنی بات کی وضاحت کرو‘‘ اس کے بعد کہا مجھے پتہ نہیں، میرے ساتھ کیا ہوا دوست راوی ہے کہ تم نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کیونکہ تم بیٹھے بیٹھے سو گئے تھے۔ مجھےنہیں پتہ یہ کیسے ہوا کیونکہ میں تو دن کو سوتا ہی نہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *