’’جیمز بانڈ‘‘ کی موت

hussain-javed-afroz

23 مئی 2017 کو جب یہ خبر سنی کہ ہالی ووڈ کے شہرہ آفاق کردار جیمز بانڈ کا رول نبھانے والے اداکار’’ راجر مور ‘‘اب ہم میں نہیں رہے تو یقین نہیں آیا۔کیا جیمز بانڈ بھی مر سکتا ہے ؟یہ درست ہے کہ بانڈ فلموں میں ایک ایسے ولن کو جو دنیا پر غلبے کا خواب دیکھتا ہے ، کو ٹھکانے لگانے میں جیمز بانڈ متعدد بار موت کے منہ میں جاتا ہے لیکن آخر میں موت کو جل دے کر بانڈ گرل کے ہمراہ فاتحانہ انداز میں رونما ء بھی ہو جایا کرتا ہے ۔لیکن اب ایسا نہیں ہوا ۔ایک سکیچ آرٹسٹ کے طور پر زندگی کا آغاز کرنے والے راجر مور نے متوسط خاندان میں آنکھ کھولی ۔اس کا بچپن محرومیوں اور بیماری سے جنگ کرتے گزرا ۔جنگ عظیم کے سخت سالوں کے بعد اس نے رائل ڈرامیٹک اکیڈمی میں داخلہ لیا۔1953 میں امریکہ آمد پر اس نے ٹی وی پر لائیو کام بھی کیا ۔ راجر مور فطرتاٰ نہایت مہذب ، شرمیلا اورلاجواب حس مزاح کا مالک تھا ۔ اسے ہر وقت اپنے لباس کی فکر رہتی تھی کہ میں کیسا لگ رہا ہوں ۔یہی وجہ ہے کہ اسے اپنے دور کے خوش لباس اداکاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے ۔ اپنے ابتدائی دنوں میں بطور ماڈل بھی راجر مور کامیاب رہا ۔

Image result

راجر مور کو بطور اداکار اصل شہرت ٹیلی وژن سے چلنے والی جاسوسی سیریز The Saint سے ملی ۔سائمن ٹیمپلر کے کردار نے اسے ہردلعزیز اداکار بنا دیا۔دوران اداکاری اپنی بھنؤں کا متاثر کن استعمال راجر مور کا خاصہ رہا۔راجر کہا کرتا تھا کہ اگر آپ میں صلاحیت ہے تو اس کا اظہار ضرور کرنا چاہیے۔Saint 1962تا1969 تک چلتا رہا اور اس سے راجر مور کو ایک پہچان ملی ۔ اس کے بعد راجر کو معروف اداکار ٹونی کرٹس کے ساتھ ایک اور ٹی وی سیریز The Persuaders میں جلوہ گر ہونے کا موقع ملا۔1971سے1972 تک چوبیس اقساط پر مشتمل یہ جاسوسی ،مزاح اور سپورٹس کاروں سے مزین سے بھرپور ٹی وی سیریز اپنے دور کی نہایت ہی مقبول سیریز ثابت ہوئی ۔راجر مور نے جہاں اس میں ایک باقار برطانوی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے نواب لارڈ بریٹ سنکلیر کے کردار کو کمال دلکشی سے نبھایا تو دوسری جانب ٹونی کرٹس نے ایک لاابالی امریکن ڈ ینی وائلڈ کے کردار میں شائقین کے دل موہ لئے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ The persuaders کی ایک قسط میں راجر مور نے بیک وقت چار کردار بھی نبھائے ۔اس سیریز کے بعد اب بطور فلم اداکار راجر مور کو ایک بڑا بریک ملا جب جیمز بانڈ سیریز کے ڈاریکٹر سالٹز مین اور بروکولی نے راجر مور سے رابطہ کیا اور اسے بطور بانڈ کاسٹ کرنے کے حوالے سے اپنے ارادوں سے آگاہ کیا ۔یہ پیشکش راجر کے لئے خاصی حیران کن لیکن مواقعوں سے بھرپور تھی ۔راجر نے حامی بھر لی ۔یوں 1973 میں ویسٹ انڈیز کے حسین سا حل جمیکا میں راجر کی پہلی بانڈ فلم Live and let die کی عکس بندی شروع ہوئی ۔یاد رہے یہی وہ مقام تھا جہاں جیمز بانڈ کے تخلیق کار آئن فلیمنگ نے اپنے ٹائپ رائٹر پر جیمز بانڈ کو تخلیق کیا۔بطور بانڈ راجر مور کی عمر 45 سال تھی ۔

Image result

اس فلم کی شروعات سے قبل ڈاریکٹر کے اصرار پر راجر مور کو اپنے لمبے بالوں اور بڑھتے وزن کی قربانی دینا پڑی ۔بقول راجر یہ خاصا مشکل تھا لیکن میں نے ڈاریکٹر کی ہدایات پر عمل کیا ۔فلم خاصی کامیاب رہی اور شائقین جو جیمز بانڈ کے کردار میں شین کونری کے ایکشن اور خواتین سے فلرٹ کے عادی ہوچکے تھے اور کونری کی بے مثال فٹنس بھی بانڈ کے ایکشن کو چار چاند لگایا کرتی تھی۔ اب ان کو ایک بہترین حسن مزاح سے بھرپور جیمز بانڈ راجر مور کی صورت میں ملا جو ہر بانڈ فلم میں بانڈ گرل سے ایسے رومانس کرتا کہ گویا وہ اس سے شادی تک رچا لے گا ۔راجر مور کو بطور بانڈ قبول کر لیا گیا ۔ مور کے رومانس سے لے کر ایکشن سیکونس میں بھی ایک نزاکت اور نفاست کا گمان ہوتا تھا ۔بقول راجر مور’’ مجھے ہتھیار اٹھانے اور دھینگا مشتی کے مناظر سے بہت کوفت ہوتی تھی ۔ذاتی زندگی میں بھی میں باکسنگ یا جسمانی تشدد کا قائل نہیں ہوں،کسی کو مارنا لطف کا سبب نہیں لیکن فخر کے لئے اچھے طریقے سے مارنا درست ہے ‘‘۔ اگرچہ راجر کی اگلی فلم The man with the golden gun باکس آفس پر اتنی کامیاب نہیں رہی ۔جس میں معروف فلم کرسٹوفر لی نے راجر کے مقابل ولن کا رول نبھایا۔یہ ڈاریکٹر حضرات کیلئے بہت صدمے کا سبب تھا ۔شائد عوام اب بھی کونری کی واپسی چاہتے تھے جس کی بطور جیمز بانڈ چھاپ بہت ہی گہری تھی ۔

Image result

یہ راجر مور کیلئے بہت نازک وقت تھا۔ان کا ایکٹنگ کیرئر داؤ پر لگ چکا تھا۔لیکن ڈاریکٹر بروکولی کو راجر پر بھروسہ تھا یوں اب 1977 میں ایک اور بانڈ فلم Spy who loved me رہلیز ہوئی۔راجر کو اس بات کا مکمل احساس تھا کہ اسے کونری کی جگہ لینا ہے۔ لیکن اس کے لئے وہ کونری کی بالکل بھی نقالی نہیں کرے گا۔ یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ کونری ،ڈاریکٹر سالٹزمین اور بروکولی کے ساتھ بطور بانڈ ایک تاریخ رقم کرچکا تھا لیکن معاوضے کے مسئلے پر اور سٹار ڈم کی چکا چوند نے کونری میں انا پرستی کو جنم دیا ۔یوں وہ جیمز بانڈ کو فراموش کرگیا۔ لیکن گولڈن گن کی ناکامی کے بعد the spy who loved me نے راجر کو سپر سٹار بنا دیا۔اب بانڈ کونری کے سائے سے نجات پا چکا تھا۔فلم کی عکس بندی مصر،بھاماس اور اٹلی میں کی گئی ۔فلم میں بانڈ گرل بابرا بیک اور راجر مور کی کیمسٹری لاجواب رہی ۔اور یہ بانڈ سیریز کی کامیاب ترین فلموں میں جگہ بنا گئی۔اب راجر مور پر ہر طرف سے پیسوں اور شہرت کی بوچھاڑ ہوگئی۔جیمز بانڈ ،شین کونری کے اثر سے نکل چکا تھا۔فلم میں ولن جاز کی جیمز بانڈ کے ساتھ فائٹ سیکونس بھی بہت پسند کئے گئے۔جبکہ فلم کے ابتدائی سین میں گلیشیر پر سکیٹنگ کرتے ہوئے راجر مور کی ایک طویل چھلانگ نے تو گویا فلم بینوں کے جوش کو گرما دیا۔فلم کی پسندیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پرنس چارلس نے بھی فلم کے پریمئر میں خصوصی شرکت کی۔

Related image

اس کے بعد octopussy ،ٖFor your eyes only اور Moon raker, ،A view to a kill شامل ہیں۔ 1983 میں فلم octopussy میں کبیر بیدی نے ولن کا کردار ادا کیا ۔لیکن دوران شوٹنگ بھارت میں چائلڈ لیبر کے ایشونے راجر مور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اور اس نے بچوں کے لئے کام شروع کرنے کا ارداہ کیا۔اس کے سامنے اپنے بچپن کی تلخ یادیں بھی تھیں۔اب وہ انسانی اور فلاحی بنیادوں پر بے سہارا بچوں کیلئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔جلد اسے یو نیسف کا خصوصی سفیر مقرر کیا گیا ۔راجر نے دنیا بھر میں بے گھر اور بیمار بچوں کے بہتری کے لئے کام کیا اور ان کو زندگی میں لانے کیلئے قابل قدر انجام دیا۔وہ بچوں کے ساتھ پریڈ کرتا ان کے ساتھ مذاق کرتا اور ان کو کھلونے دیتا۔اسی دور میں کونری نے never say never again میں بطور جیمز بانڈ دو سرے ڈاریکٹر کے ساتھ کام کیا ۔یہ اب دو مختلف جیمز بانڈ کے درمیان مقابلہ تھا۔ایک طرف بروکولی کی زیرقیادت راجر مور octopussyمیں جلوہ گر ہوا تو دوسری جانب کونری نے طویل عرصے بعد بطور بانڈ انٹری دی۔لیکن یہ مقامبلہ راجر مور کے نام رہا،بڑھتی عمر کے سبب کونری کی فلم غیر متاثر کن رہی جبکہ راجر مور کو فلم بینوں سے خاصی پذیرائی ملی۔بطور بانڈ12سال تک راجر مور نے 7 بانڈ فلموں میں اپنے جوہر دکھائے۔اب وہ 58 برس کا ہوچکا تھا ۔لہذا اس نے خود ہی اس شہرہ آفاق سیریز سے دست برداری ظاہر کی۔

Related image

جہاں راجر مور نے کونری کا بطور بانڈ سحر توڑا وہیں اس نے سرد جنگ کے بدلتے تناظر میں جیمز بانڈ کو ایک مختلف انداز سے بھی پیش کیا ۔ راجر مور نے بانڈ فلموں میں مگر مچھوں سے لڑائی ، راجھستان کے جنگلوں میں شیروں سے ٹاکرا ،سمندر سے کار کے ذریعے ساحلوں پر نمودار ہونا ،خلاء میں برطانیہ کے وقار کے لئے لڑنا اور ایسے کون کون سے معرکے نہیں تھے جو بطور جیمز بانڈ اس نے انجام نہیں دئیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اداکار ایک بار جیمز بانڈ بن جائے وہ پھر اس شناخت سے نکل نہیں پاتا۔راجر مور نے کئی جنگی موضوعات پر مبنی فلموں میں بھی کام کیا ۔فلمSherlock Holmes in New York میں شرلاک ہومز کا کردار بھی نبھایا۔لیکن اس کی فلموں میں اولین اور آخری پہچان جیمزبانڈ ہی رہا ۔ 1997 میں spice world بھی بطور ولن راجر نے کردار نبھایا ۔اس کے بعدسے چار دہائیوں پر مشتمل فلمی کیرئر کو راجر مور نے خیر آباد کہا اور اپنی توجہ بچوں کیلئے کام کرنے پر مرکوز رکھی۔2003میں اسے ملکہ برطانیہ کی جانب سے knighthood کا خطاب بھی دیا گیا ۔2017 میں 89 برس کی عمر میں کینسر کے ہاتھوں انگلش وجاہت کا باوقار شاہکار ’’راجر مور‘‘ موت کی وادی میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا۔ سابق جیمز بانڈ پئرس براسنین کے مطابق’’ دنیا راجر کی حس مزاح یاد رکھے گی ۔راجر میری زندگی کا اہم حصہ رہے ان کا کا بطور بانڈ اپنا ہی ایک کرشمہ تھا‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *