کیا حالت جنابت میں روزہ رکھنا جائز ہے ؟

images (1)

سحری کھانا مستحب ہے اور احادیث میں اس کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے،حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”سحری کھایاکرو، کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“(متفق علیہ)

٭… سحری کھانے کا وقت صبح صادق طلوع ہونے تک ہے۔صبح صادق طلوع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔

٭… بعض لوگ رات کو ہی سحری کھا کر سو جاتے ہیں ،ایسا کرنا پسندیدہ نہیں ہے ،اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے سحری دیر سے کھانے کو خیر کا باعث قرار دیا ہے ۔

٭… آج کل اخبارات اور مساجد میں صبح صادق طلوع ہونے کا ٹائم ٹیبل موجود ہوتا ہے، اُس کے حساب سے سحری کھانا بند کردینا چاہیے۔

٭… اذان اور سائرن بجنے کے شروع ہونے تک کھاتے پیتے رہنا آج کل کے جدید دور میں مناسب بھی نہیں ہے، اس لیے کہ ہر گھر میں گھڑی موجود ہے اور صبح صادق کے طلوع ہونے کا علم بھی ہے۔

٭… بعض لوگ تو اذان ختم ہونے تک کھاتے رہتے ہیں، جو سراسر غلط ہے، اس لیے کہ اذان کی ابتدا صبح صادق کے طلوع ہونے پر ہوتی ہے، جب کہ سحری کا وقت صبح صادق کے طلوع ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔

٭… حالت ِجنابت میں سحری کھا لینا اور روزہ رکھ لینا جائز ہے‘لیکن جتنی جلدی ممکن ہو انسان کو پاکی حاصل کرلینی چاہیے، اس لیے کہ زیادہ دیر ناپاک رہنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے:۔

بشکریہ : http://www.farooqia.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *