مغربیوں کا اسمَ شریف پاک ہے اورہم مسلمان دہشتگرد !

prof.khalil touqar

پروفیسرڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ”ارتباط” کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میں انھیں ”علامہ اقبال” ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔خلیل طوقار جنوبی ایشیا سٹریٹجک ریسرچ سینٹر GASAM کے عالی شورائے مشاورت کے ممبر بھی ہیں -پیش خدمت ہے آپ کی 'دنیا پاکستان' کے لیے لکھی گئی ایک تازہ تحریر(ادارہ)


آج یعنی ۲۳ مئی ۲۰۱۷ء کو فیکلٹی کی جانب روانہ ہوا تو بس میں بیٹھے بوریت کی وجہ سے ریڈیو سننے لگا۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک انگریزی ریڈیو چینل سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بین یامین نیتن یاہو کی پریس کانفرنس براہ راست نشر ہورہی تھی۔ دونوں قائد اپنے اپنے ملکوں کی امن پسندی اور دنیا میں پھیلنے والی دہشتگردی سے دونوں ملکوں کی یکجہتی اور اتحاد سے نمٹنے کی بڑی اچھی باتیں کررہے تھے اور دونوں دیرنہ محبوب ایک دوسرے کے حق میں اپنی اپنی جانب سے انتہائی پیار و محبت کا اعلان عام کررہے تھے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بین یابین نیتن یاہو میزبان کی حیثیت سے جب تقریر فرمانے لگے تو اُنھوں نے بالکل یہی الفاظ استعمال کئے: ’’Radical Islamic Terrorism‘‘ یعنی ’’انتہا پسند اسلامی دہشتگردی!‘‘
اُن کا کہنا یہ تھا کہ اسرائیل اور امریکہ مل کر یہ انتہاپسند اسلامی دہشتگردی کا قلع قمع کرنے والے تھے۔ یہ الفاظ تو کافی عرصے سے بالخصوص گیارہ ستمبر کے بعد مغربی قائدان، سیاستدان، مغربی علماء و فضلاء اور میڈیا میں بار بار سننے میں اور پڑھنے میں آتے تھے اور اب اِن غیر منطقی اور بے بنیاد لیبل کی ہمیں عادت بھی پڑھی تھی مگر فلیسطین میں سالوں سے ’’ریاستی دہشتگردی‘‘ ڈھاکر فلسطینیوں کی انچ انچ زمین پر قبضہ جمانے والے ، نہتے بچاروں کو بے دردی سے قتل کرنے والے اور اُن کے گھر بار تمام املاک کو مسمار کرنے کو اپنے قومی مفادات سمجھ کر اِس ناجائز تحریک کو شہ دینے والے اسرائیل کے انتہاپسند ترین صہونی لیڈر کے منہ سے اِس لیبل کا سننا کچھ عجیب سا لگا۔
بین یامین نیتن یاہو صاحب کا مختصراً کہنا یہ تھا کہ اسلامی دہشتگرد اسرائیل کے بے چارے بچوں کو قتل کررہے ہیں اور اُن کی زندگیاں اجیران کررہے ہیں اور اب ڈیموکراسی اور انسانی حقوق کے علمبردار ترقی یافتہ مغربی دنیا پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہ کہ وہ اِن اسلامی دہشتگردوں سے روئے زمین کو پاک کریں اور اِس کار خیر میں قیادت کی واحد با صلاحت طاقت عالم انسانیت کا روشن چراغ اور مظلوموں اور بے چاروں کا حامی ایالات متحدہ امریکہ ہے!!!
ہمیشہ کی طرح ایک عجیب اتفاق یہ بھی ہوا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بین یامین نیتن یاہو کی اِس پریس کانفرنس سے دس بارہ گھنٹے پہلے انگلستان کے شہر مانچسٹر میں داعش کے ایک دہشتگرد نے ایک کونسرٹ میں خودکش حملہ کیا اور پچیس تیس بچاروں کو جان سے مارڈالا۔ واقعتا مانچسٹر میں ہلاک ہونے والے لوگ بچارے تھے اوروہ داعش جیسے سیکڑوں بچارے مسلمانوں کو جان سے مارنے والی ایک دہشتگرد تنظیم کی ایک ظالمانہ کارروائی کے نشانے بنے ۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ المناک واقعہ قابل مذمت ہے اور قابل ملامت بھی۔ اِس کا خاتمہ بالخصوص عالم اسلام کے لیے صحیح معنوں میں کار خیر ہوگا۔ مگر اِس قسم کی ایک دہشتگرد تنظیم کی واردات کو مدنظر کرتے ہوئے ایک امن پسند مذہب کو اور اِس مذہب کے پیروکاروں کو یعنی تمام مسلمانوں کو دہشتگرد ٹھہرانا کس قدر بے انصافی، بے بنیادی اور الزام تراشی کے برابر ہے اور اِن واردات کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں مسلمان ہلاک ہوئے ہیں، اپنے وطن، گھر بار اور یار سے بچھڑ گئے ہیں یعنی اصل نقصان بذات خود مسلمانوں کو ہورہا ہے اب اس کو تمام مغربیوں کو سمجھنابھی چاہئے۔ مگر صد افسوس کا مقام ہے کہ مغرب والے اِس کو سمجھنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔
کیونکہ .... یہ صورتحال شاید اُن کے مفادات کے لیے راس آتی ہے!
کیونکہ .....وہ صدیوں سے ترقی یافتہ، منصف، رحم دل، انسانیت پسند، عدل و انصاف کے حامی اور انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور دنیا کے پس ماندہ، جاہل اور نیم وحشی مخلوقات بالخصوص مسلمانوں کو علم کی روشنی، انسانیت کی خوشبو اور عدل و انصاف کے بلند اقدار پہنچارہے ہیں۔
کیونکہ .... اُن کا اسمِ شریف بہ ہر صورت پاک ہے!
کیونکہ ...ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
.بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
سن ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ء ہے۔ اِس سے تقریباً پانچ سو سال قبل امریکہ پہنچنے والے سفید فام یورپی نو آباد کاروں نے پہلے ہی دنوں سے سرخ فام امریکن بومیوں کا قتل عام شروع کیا اور ایک اندازے کے مطابق اب اُس دن کو امریکہ والے تھینک گونگ ڈے کے نام سے مناتے ہیں اور امریکہ کے بومیوں کے قتل عام کے دن کو نصیب کرنے کی وجہ سے خدا کی درگاہ میں شکرانہ ادا کرتے ہیں۔ اُن کے لیے یہ خوش آیند روز سے لے کر بیسویں صدی کی اولین دہائیوں تک امریکہ اور کینڈا میں قریب قریب دس کڑوڑ سرخ فام بومیوں کو قتل کیا گیا ہے، ان کو غلام بناکر بیچا گیا،اُن کی پانچ دس سال کی بچیوں تک کی عزت دری کی گئی ہے اور اُن کے لمبے بالوں کو ویگ بنانے کے لیے اُن کا شکار کیا گیا ہے اور اُن کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے اور اُن کے بچے اپنے خاندانوں سے بزور شمشیر الگ کئے گئے ہیں اور حکومت کے اسکولوں میں زبردستی ترقی یافتہ عیسائی بننے پر مجبور گئے ہیں اور اُن کی نسلی تطہیر کی گئی ہے۔ آج بھی ایالات متحدہ امریکہ میں امریکی سرخ فام بومیوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کرکے اُن کی مقدس زمین سے پیٹرولیم پائپ لائن گذارنے کی خاطر اُن کے ماحول زیست کو مسمار کیا جاتا ہے۔
مگر دنیا کو علم و ہنر کی ضیاء سے روشن کرنے والے مغربی ممالک کے رحم دل اور با ادب مغربیوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!...اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
ویسے . اُن کا تو اسم شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
ہردل عزیز عظیم سلطنت برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بابری بادشاہ (مغل بادشاہ) کے اجازت نامہ سے کاروبار کرنے کے لیے قدم رکھا تھا آنکھ جھپکتے ہی اُس کی مالک کمپنی بہادر بن گئی۔ کمپنی بہادر نے اپنی انسان دوستی اور رحم دلی دکھاکر بہت سے جنگوں میں یا بغاوتوں میں بالخصوص ۱۸۷۵ء کی جنگ آزادی کے دوران اور بعد میں اپنی انتقامی کارروائیوں میں دہلی سے لکھنؤ تک شہر شہر ، قصبہ قصبہ، مرد و زن، بوڑھے جوان اور بچے کی تفریق کئے بغیر لاکھوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ یہ تو الگ بات ہے۔ لیکن اِس مشفق اور رعیا پرور کمپنی بہادر نے اور یونین جیک کا پرچم ہندوستان کے آسمان میں لہرانا شروع ہونے کے بعد برٹش حکام نے ۱۷۶۹۔۱۷۷۰ء، ۱۸۷۶۔۱۸۷۹ء اور ۱۸۹۶۔۱۹۰۰ء کی قحط سالی کے دوران ہندوستانی کسانوں کی گندم کی فصلوں پرجو کہ ویسے بھی قحط کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر رہ چکی تھیں، اُن پر بزور شمشیر قبضہ کرکے ڈھائی کڑوڑ سے زائد بے چاروں کو فاقہ کشی کے عالم میں مرنے کے لیے چھوڑ دئیے۔
مگر پس ماندہ ملکوں کی رعایا کو اپنے ظالم بادشاہوں کے ظم و ستم سے بچاکر اُن کی خود ارادیت کو مسخ کرنے والے یورپ کی اِس فدوی قوم کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
وہ تو ملکہ اعظم کی پیاری اولاد ہیں! اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
مغربی ممالک کو اپنی ترقی اور پیش رفت کی غرض سے مفت ملازموں کی اشدّ ضرورت تھی تو اُنھوں نے غلاموں کی خرید و فروخت کے صدیوں سے جاری نظام کو زور دیا۔ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک کے عرصے میں ساڑھے تین کڑوڑ غلام امریکہ یا یورپ کے سفر کے دوران یا بعد کے مظالم میں شکار اجل ہوگئے۔ اِن میں اکثر و بیشتر افریقہ کے حبشی تھے اور اِن کے علاوہ کتنے افریقائی بومی غلام کے طور پر بک گئے اور اپنے مشفق مغربی آقاؤں کے کھیتوں میں اپنی اپنی زندگیاں بسر کیں وہ اللہ جانے!
مگر وحشی حبشیوں کو غلام بناکر اُن کو ترقی اور علم و فضل سے روشناس کرانے والے اُن کے مغربی آقاؤں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!...اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
. وہ سفید فام یورپین ہیں، اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
امریکہ کی سول وار کے بعد جنوبی امریکہ میں سیاہ فام امریکیوں کو یعنی آزادی حاصل کرنے والے غلاموں کو اُن کے درجے سمجھانے اور اُن کی اپنے آقاؤں کی آنکھوں سے آنکھیں ملانے کی جرأت سے باز رکھنے کے لیے ۱۸۶۶ء میں جنوبی امریکہ میں Ku Klux Klanنامی سفید امریکیوں کی ایک انتہائی نسل پرست تنظیم قائم ہوئی۔ ۱۹۲۰ء میں اِس نسل پرست تنظیم کے چالیس لاکھ ممبر تھے اور اِس تنظیم کے ممبروں نے اُس تاریخ سے آج تک سیاہ فام امریکیوں کو زندہ نذر آتش کرنے سے لے کر اُن کے گھر اور دکانیں جلانے تک ہر قسم کی خوفناک سرگرمیوں میں مصروف رہے اور اِن جرموں کے مرتکب ہونے والے اِس تنظیم کے کارکنوں کو اکثر و بیشتر پکڑنا ممکن نہیں ہوا اور وہ جو پکڑے گئے تو انصاف اور برابری کے محافظ سفید فام امریکن ججوں نے اُن کو بسا اوقات رہا کردیا۔ آج بھی امریکہ میں امن و سکون کے نگہبان سفید فام امریکن پولیس سپاہی وقتاً فوقتاً مجرم سیاہ فام امریکیوں کو ناپید اسلحے ہاتھ میں پکڑکر دھمکیاں دینے کی وجہ سے جان سے مارتے ہیں تو اُن کو بھی کوئی سزا نہیں ملتی۔
مگربہت ہی خطرناک اُن کالی مخلوقات کو حق شناسی کا سبق سکھانے والے سفید فام پولیس والوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!...اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
. اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں۔
ویتنام کی جنگ میں پہلے فرانسیسی فوج اور پھر امریکی فوج نے ویتنامی باغیوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر طرح کا خوفناک اسلحہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اِن ترقی یافتہ دو ملکوں کے آزادی تقسیم والی فوجوں نے زردفام ویتنامی دہشتگردوں کو ویتنام ہی کی سرزمین سے صاف کرنے کی دن رات جانفشانی سے کوششیں کیں اور فرانس اور امریکہ جیسے آزادی خواہ اور انسانیت کے نگہبان ملکوں کے تحت حکومت اور فرانسیسی اور امریکیوں کے جنگی طیاروں کی بم باری کے نیچے آزادی کی فضاء میں جلے ہوئے انسانوں سے اُٹھنے والی مہک میں آرام کا سانس لینے کا ماحول پیدا کرنے کی خاطر ۱۹۷۵ء تک ویتنام میں مقیم رہے۔
مگر ویتنام کی سرزمین کو ویتنامی دہشتگردوں سے صاف کرکے ویتنامیوں کو اپنے جنگی طیاروں کی بم باری کے نیچے جینے کا موقع فراہم کرنے والے اِن امریکی فوجیوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!...اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
. وہ تو سپر پاور امریکہ کے اچھے بچے ہیں۔ اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
۱۹۵۰۔۱۹۵۳ء کے درمیان کوریا امریکہ اور اُس کے اتحادیوں اور کمیونسٹ چین کے اقتدار عالم کی لڑائی کا شکار بن گیا۔ زردفام کوریائی اِدھر بھی مارے گئے اُدھر بھی مارے گئے اور اُن کا ملک دو ٹکروں میں بٹ کر شمالی اورجنوبی ہونے کی دشمنی کی لپٹ میں آگیا۔ اِس جنگ میں تیس لاکھ زرد فام کوریائی ایک دوسرے سے آزادی حاصل کرنے کے لیے موت کے گھاٹ بخوشی اُتار لیے۔ جہاں امریکہ کا اثر رسوخ تھا اور ہے وہ تو آزادی، حقوق انسانی اور مغربیت کا چمکدار گھر بنا۔ شمالی تو ویسے بھی وحشی تھے وحشی ہی رہے۔
مگر اپنے اقتدار کے دائرے کو پھیلانے کے لیے کوریا کو دوحصوں میں تقسیم کرنے والے مہذّب امریکیوں کو اور دنیا کے تہذیبی گہوارہ چین کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
. اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے!
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
۱۸۳۰ء میں بزعم خود عالم انسانیت کی بہترین اور مہذّب ترین قوم فرانسیسیوں نے الجزائر پر قبضہ کیا ۔ الجزائری عربوں نے تو اُس وقت سے لے کر اپنے مہربان مالکوں سے اپنا ملک آزاد کرنے کی غرض سے جد و جہد شروع کی۔ یہ جنگ ۱۹۴۵ء سے زور پکڑگئی اور ۱۹۶۳ء تک ڈیڑھ ملین جزائری قتل کئے گئے۔ اُن کی خواتین کی عزت دری ہوئی اور الجزائر کے صحراؤں میں الجزائری آزادی خواہوں کو باندھ کر اُس علاقے میں جوہری تجربات کئے گئے تاکہ علم پسند فرانسیسیوں کو یہ معلوم ہو کہ جوہری ہتھیاروں کے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ مقصد تو تھا انسانوں کی خدمت، سیکڑوں الجزائری اِن تجربات میں ایک اچھے مقصد کے لیے خدمت جو انجام دے رہے تھے۔
مگر دنیا کے اِس مہذّب ترین اور علم دوستی میں کمال رکھنے والی اِس قوم کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
اَنہی انسان دوست فرانسیسیوں نے افریقہ میں اپنے نوآبادیاتی ملک روانڈا کوبہت سے کالے وحشیوں سے صاف کرنے کے بعد اُس ملک کو خالی کردیا۔ مگر اِس ملک کی خوش قسمتی یہ تھی کہ فرانسیسی اپنی تمام طاقت کے ساتھ اِس ناسمجھ قوم کی بہبودی کی خاطر پس پردہ موجود تھے اور اپنے مفادات کے مطابق اِس ملک میں وقتاً فوقتاً فرانسیسی تماشائیوں کی خاطر مرغے کی لڑائی لڑواتے تھے۔ اِس طرح کی ایک لڑائی ۱۹۹۴ء میں لڑوائی گئی اور ہوتو قوم کے جنگجو توتسی قوم کی نسل کشی کرنے لگے اور اِس کم آباد اور چھوٹے سے ملک میں آٹھ لاکھ کی افراد مارے گئے اور اُن کے گھربار نذر آتش کئے گئے۔ اقوام متحدہ کی متعلقہ رپورٹ میں یہ بیان تھا کہ فرانسیسی فوجیوں نے ہوٹی جنگجوؤں کو عسکری تعلیم دی، اُن کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کیا اور وقتاً فوقتاً اُن کی فوجی مشقوں کی نظم و نسق بھی سنبھال لی۔
مگر اِن انسان دوست فرانسیسیوں کو کون کیا کہے؟نعوذ باللہ!....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
زار کے روسیوں نے ترقی سے دور در بدر قفقازی قبیلوں پر حملہ کرکے اُن کے ملک پر قبضہ جمایا۔ بالخصوص چرکیس اور داغستانی قوم اِن پیش رفتہ مہذّب قوم کو بہت ہی زیادہ تنگ کررہی تھیں تو زار کے کمانڈروں نے یہ فیصلہ کیا کہ کیوں اِن غیر ترقی یافتہ چرکیسوں کو اپنی زمینوں سے نکال کر اُن زمینوں پر ترقی یافتہ روشن فکر روسیوں کی آباد کاری نہ کی جائے۔ اِس طرح سے ۱۸۶۴ء سے اُن کے علاقے میں ایک قیامت برپا ہوئی اور چند ہی سالوں میں پندرہ لاکھ چرکیسی مرد زن، بچے بوڑھے تلواروں کی زد میں آگئے اور شہید ہوئے اور اُس سے کہیں زیادہ لاکھوں کی تعداد میں چرکیس مملکت عثمانی کے مختلف حصوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ راقم الحروف کی والدہ کے نانا ابو اور اُن کے قبیلہ کے مرد بھی روسیوں کی مہربانی کی زد میں آکر شہید ہونے والے اِن نیم وحشی چرکیسوں میں شامل تھے۔
مگر اِن ترقی یافتہ روسیوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ.....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
سویت یونین کے طاقت ور ترین لیڈر سٹالن نے تیس چالیس کروڑ روسی باشندوں کو کیمپوں میں یا براہ راست سڑکوں میں اجتماعی سزائے موت سناکر آن جہانی کردیا ۔ ستر لاکھ یوکرینی باشندے جو فاقہ میں مرنے پر چھوڑ دئیے گئے اُن کی بھی تعداد اِس میں شامل ہے۔ اور پھر اِن روشن خیال روسیوں نے پس ماندہ افغانوں کو ترقی دینے کے لیے۱۹۷۹ء میں اِس ملک پر بھی حملہ کیااور ۱۹۹۲ء تک جاری جنگ میں پندرہ لاکھ افغانی اللہ کو پیارا ہوگئے۔ یہ پس ماندہ افغانی اِس حد تک ضدی تھے کہ روسیوں کی روشن خیالی کا اُن پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ وہ جاتے ہوئے خاک سے یکساں ملک پیچھے چھوڑکر گئے تھے۔
مگر اِن روشن خیال روسیوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ!....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
اور پھر آزادی پسند اور بہادر مغربی اتحاد والوں نے اپنے ظالم اور غاصب لیڈروں کے پنجے سے مظلوم آبادیوں کو بچانے کے لیے عراق، لیبیا اور پھر شام میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور کبھی عورتوں کی اور کبھی جوان لڑکوں کی عزت دری کرکے ہزاروں کو تشدد کے مرحلے سے گزار کر اِن ملکوں سے نکلنے ہی والے تھے کہ اچانک اسلامی انتہا پسند دہشتگرد اِن ملکوں میں معصوموں پر قاتلانہ حملہ شروع کرنے لگے۔ اور ظاہر ہے امریکہ جوکہ دنیا کے طول عرض کے محافظ ہیں سے یہ صورتحال کس طرح گوارہ ہو؟ اُس نے فوراً شروع کیا اِن دہشتگردوں پر بم باری! بموں کے نیچے عام باشندہ بھی ہیں، بچے اور خواتین بھی ہیں! اِس کی تو کوئی اہمیت نہیں۔ بس اِن بچاروں کو دہشتگردوں سے بچانا ہے بیج بیج میں چالیس پچاس خاتون یا بچے بھی مرگئے تو اِس میں کیا برائی ہے؟
جرمن ارباب اقتدار اپنی امپائر قائم کرنے کے لیے اور نوآبادیاتی نظام سے حاصل شدہ دولت سے اپنا حصہ بڑھانے کی غرض سے پہلی اور دوسری جنگ عظیموں کا ہر اول دستہ ثابت ہوئے۔ اور اِن وحشتناک ترین جنگوں میں تیس چالیس کروڑ انسان موت کی زد میں آگئے اور یورپ برباد ہوا۔ ہیٹلر نے تو ساٹھ ستر لاکھ یہودیوں کی باقاعدہ نسل کشی بھی کروائی۔ لیکن آج کل جرمنی کے خوف خدا سے دل لبریز شدہ لیڈر دوسرے ملکوں کے اکثر و بیشتر ناکردہ گناہوں کو گردانتے رہتے ہیں اور انسانی حقوق کی پامالی پر اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور بار بار اسلامی دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اپنا کردار بیان کیا کرتے ہیں۔
اب شام اور عراق میں امریکہ، جرمنی اور روس دوسرے دہشتگردوں کومروانے کے لیے اپنے متفق دہشتگردوں کو جدید ترین اور ہولناک ترین ہتھیاروں سے لیس کرتے ہیں۔ اور یہ دہشتگرد اپنے آقاؤں کے دئیے ہوئے تحفوں کو استعمال کرکے ترکی میں داخل ہوکر ترکی کے باشندوں پر قاتلانہ حملہ کرتے ہیں۔ ترکی اُن کی سخت مذمت کرکے اور احتجاج کرتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ بس ہم اِن دہشتگردوں کو کچھ مہلت کے لیے دوسرے دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ جنگ ختم ہوگی تب اُن سے ہم قطع تعلق کریں گے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ نہ وہ دہشتگرد ختم ہوتے ہیں، نہ یہ جنگیں ختم ہوتی ہیں۔ آج تک عراق سے لے کر شام تک تیس لاکھ کے لگ بھگ بچارے ہلاک ہوئے شہر کے شہر، قصبہ کے قصبہ منہدم ہوچکے ہیں۔
مگر آزادی کے محافظ اِن مغربی طاقتوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ....اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
اُن کا تو اسمِ شریف پاک ہے۔
بس ہم مسلمان دہشتگرد ہیں!
رہی بات اسرائیل کی۔ ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء میں بالفور کے علان کے بعد فلسطینیوں پر بلاؤں کا پہاڑ ٹوٹ گیا۔ دیریاسین کے قتل عام سے لے کر، جس کو اسرائیل کے پرانے وزیر اعظم مناخیم بیگن اپنی ریاست کا سنگ بنیاد ٹھہرا کر اِس قتل عام کا نام بلند کرتا ہے، آج تک صہونیوں نے فلسطین کے عرب باشندوں کی نسلی تطہیر کے لیے ہر طرح کا ناجائز ہربہ استعمال کیا ہے اور آج بھی کرتے بھی ہیں۔ ہرآئے دن ایک نہ ایک نہتے فلیسطینی جوان کو دنیا کے میڈیا کے سامنے بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے اور فلسطینی خطے پر ہر روز کوئی نہ کوئی نوآبادکاری کا معجزہ سامنے لاتے ہیں۔ اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین بتئن یاہو فرماتے ہیں کہ امریکہ کو یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ترقی یافتہ اور مہذّب مغربی دنیا کو ’’انتہاپسند اسلامی دہشتگردی‘‘ سے بچائے اور مغربی باشندوں کو صلح و امن میں سانس لینے کا ماحول پیدا کرے!
اب مغرب بالخصوص امریکہ کے اِس دل عزیز اور شرارتی اسرائیلی بچوں کو کون کیا کہے؟ نعوذ باللہ...اُن پر الزام لگانے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
اُن کا تو اِسم شریف پاک کیا بلکہ پاک ترین ہے!
بس ہم مسلمان ہی دہشتگرد ہیں۔
ویسے بھی مغربیوں کی رائے کے مطابق اور اُن کے ہم نوا کچھ مغرب زدہ افراد جو اسلام نفرتی میں اوج کمال تک پہنچے ہوئے ہیں اور لگتا ہے کہ اُن کے اُن کو اپنے والدین کی جانب سے غلطی سے اسلامی نام دیا گیا ہے، کے مطابق جب کہ دنیا میں ترقی اور علم و دانش کے دشمن مسلمان دہشتگرد ہیں اور ایک انتہا پسند مذہب اسلام ہے تو پھر کسی اور دہشتگرد کی تلاش میں سرگردان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟بزعم خود مغربیوں کے جہاں بھی دیکھیں دہشتگرد ہیں کیونکہ جہاں بھی دیکھیں مسلمان موجود ہیں!!!
اب قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ طنزیہ انداز میں میں نے جوبھی لکھا ہے شروع سے آخر تک پھر پڑھیں اور مختلف اخباروں یا تحقیقی مقالوں کا مطالعہ کریں۔ اُن کو کہیں بھی یہ لیبل نظر نہیں آئے گا کہ عیسائیوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا یا الجزائر میں عیسائیوں نے لوگوں کی نسل کشی کی، اور ہم یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے۔ کیونکہ اِن قبضوں اور قتل عاموں یا نسل کشی کی واردات سے قتل عام کرنے والوں کے مذہب کا اِن واردات کے مرتکبوں سے کیا تعلق ہے؟ اگر نسل کشی کی ہے تو جرمن قوم نے کی، اگر نسلی تطہیر کی تو امریکہ میں امریکیوں نے کی اور اپنے مفادات کے لیے کی۔ عیسائیت تو نہیں کی ناں؟ جس طرح مسلمان سلاطین نے مختلف ادوار میں اپنے مفادات ہی کے لیے کبھی کبھار خود اپنے لوگوں کو بھی موت کے گھاٹ اتروادئیے تھے۔ اب دیکھئے شام میں مغربی طاقتوں کی طرح بشر اسعد بھی اپنے عام شہریوں کو قتل نہیں کرواتا ہے۔ فرقہ جو بھی ہو وہ بھی مسلمان ہے اُس کے شہری بھی مسلمان ہیں۔ یعنی ظلم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بس ظلم کرنے والے لالچی اور اقتدار پرست لیڈر ہوتے ہیں جن کا مذہب جو بھی ہو اِس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔
لیکن اِس اظہر من الشمس حقیقت کی موجودگی کے باوجود مغربی دنیا میں یہ غلط اور بالکل ناجائز تصور مغربی شہریوں کے دل و دماغ میں عام کرنے کی یہ باارادہ و با اصرار کوشش جاری ہے کہ اسلام ایک انتہا پسند مذہب ہے اور تمام مسلمان دہشتگرد ہیں! ورنہ اسرائیل کے وزیر اعظم بین یامین نتین یاہو کا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہمراہی میں کی ہوئی پریس کانفرنس میں اصرار سے بار بار یہ فرمانا کہ دنیا کو انتہاپسند اسلامی دہشتگردی سے بچانے کا کیا مطلب ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *