چاند کا تنازعہ اور سائنس

بلال کریم مغل

bilal karim mughal

جیسا کہ پاکستان میں رمضان کا آغاز ہونے کو ہے اور لوگوں نے اپنے فریج سحر اور افطار کے سامان سے بھر لیے ہیں اور عید کی بھی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، جو سوال سب سے زیادہ توجہ کا حامل ہے یہ ہے: یار یہ چاند کب ہے؟

ہماری میڈیا کی غلط رپورٹنگ اور پاکستانیوں کی عجیب و غریب نظریات میں یقین رکھنے کی عادت کی وجہ سے ہم اکثر روئیت ہلال کمیٹی کو چاند وقت پر نہ دیکھ سکنے پر مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس تنازعہ کو مزید بھڑکانے کا کام پشاور کی مسجد قاسم علی خان کرتی ہے۔ جہاں ہر سال پورے ملک کے مقابلے میں ایک دن قبل رمضان کا آغاز کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس تنازعہ کا الزام روئت ہلال کمیٹی کو دیتے ہیں اور کچھ قاسم علی خان مسجد کو لیکن تمام عوام معاملے کی اصل نوعیت کو نظر اندا ز کر دیتے ہیں۔ اگر چاند کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو ہم یہ سمجھ سکیں گے کہ ماڈرن سائنسی طریقہ کار سے اس مسئلہ کو مستقل طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔

چاند کا سال چاند کے زمین کے گرد گردش کرنے کے عمل سے طے ہوتا ہے۔ اسے اسلامی ہجری کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے۔ دو پورے چاند کے بیچ ساڑے 29 دنوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ جب چاند سورج اور زمین کے بلکل بیچ میں آ جائے تو اسے کنجنکشن کا نام دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ نیا چاند پیدا ہو چکا ہے۔ جب چاند سورج اور زمین کے بیچ آتا ہے تو یہ سورج کی روشنی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور اس طرح پورا چاند کالا ہو جاتا ہے اور نظر آنا مشکل ہوتا ہے۔ کنجنکشن کے بعد کے وقت کو چاند کی عمر قرار دیا جاتا ہے۔

Astronomy can accurately establish the time of birth of the new moon with the accuracy of seconds, and its likelihood of being visible. —Reuters/file

کن جنکشن کے بعد چاند اپنے مدار میں چکر لگانے لگتا ہے اور اس کا سائز بڑھتا نظر آتا ہے۔ مختلف مہینوں میں یہ عمل مختلف طرح سے واقع ہوتاہے اور چاند کی سپیڈ میں بھی فرق واقع ہوتا رہتا ہے۔ جب زاویہ زیرو ڈگری سے بڑھ جاتا ہے تو پورا چاند بننا شروع ہو جاتا ہے۔ سید خالد شوکت کے مطابق جو چاند دیکھنے کے ماہر ہیں، چاند دیکھنے جانے کےلیے زاویہ کم سے کم ساڑھے 10 ڈگری ہونا چاہیے۔ اس حد تک پہنچنے کے لیے چاند کو 17 سے 24 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے چاند دیکھنے کےلیے اس کی عمر سے زیادہ زاویہ کی اہمیت ہوتی ہے۔

اصل تنازعہ کیا ہے؟

کچھ اسلامی علما کا ماننا ہے کہ ماہ کے آغاز کا فیصلہ واضح طور پر چاند دیکھے جانے کے بعد کیا جانا مذہبی فریضہ ہے۔ کچھ علما کہتے ہیں کہ سائنسی حساب کتاب سے بھی نئے ماہ کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور چاند دیکھنا لازمی نہیں ہے۔ میں ان میں سے کسی بھی دعوے کی مخالفت یا حمایت کیے بغیر یہ کہنا چاہوں گا کہ جہاں تک چاند دیکھنے کا تعلق ہے، ہم سائنس سے بہت مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم حساب کتاب اور جدید طریقہ کار کے ذریعے چاند کی شکل سے اس کے دیکھے جانے کے امکانات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آج کے سائنسی دور میں یہ ممکن ہے کہ چاند کو صحیح وقت پر دیکھا اور اس کی نہ دیکھے گئے اوقات کے دوران عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آفیشل اور غیر سرکاری نمائندے چاند دیکھنے کا دعوی کرنے والوں سے شہادت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کام کے لیے یہ تصاویر استعمال کی جاتی ہیں۔ دعوی کرنے والوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کس وقت چاند دیکھا، یہ کتنا اوپر تھا، سورج سے کتنا قریب تھا، کس طرف اس کا رخ تھا، اور سورج چاند کی کس جانب تھا۔ صرف یہی سوال پوچھنے سے ہی جھوٹے دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اس مسترد کیے جانے کے عمل کو غلط فیصلہ قرار دے دیا جاتا ہے باوجود اس کے کہ اس سے ایک انسان کی گواہی دینے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔ بہت سے مشہور اور عصری علما اس طریقہ سے متفق ہیں۔

اس طرح روئت ہلال کمیٹی شہادتوں کی پڑتال کرتی ہے لیکن مسجد قاسم علی خان اس طریقہ کار کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور دعوی کرنے والے شخص کو ایماندار سمجھتے ہوئے اس کی تصدیق کر کے روزے کا اعلان کر دیتی ہے۔روئت ہلال کمیٹی کو ایک عرصہ سے غلط فہمیوں اور تنقید کا سامنا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کمیٹی بہت سائنسی نوعیت کے فیصلے کرتی ہے اور بہت کم کسی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ ان کا فیصلہ زیادہ تر سائنس کے مطابق ہی ہوتا ہے لیکن قاسم علی خان مسجد سے جاری کیا گیا فیصلہ بہت عجیب اور سائنس کے حساب کے بر عکس ہوتا ہے۔ سائنس کی مدد لیے بغیر چاند دیکھنے کے دعوے کی سچائی کو پرکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اس وجہ سے قاسم علی خان مسجد کے اعلان کے پیچھے شکوک و شبہات موجود ہوتے ہیں۔ 2011 میں قاسم مسجد سے اعلان کیا گیا کہ چاند نظر آ گیا ہے اور یکم اگست کو پہلا روزہ ہو گا لیکن پشاور اور گرد و نواح کے علاقوں سے اس دن چاند دیکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔ دوسری طرف روئت ہلال کمیٹی نے ایک دم درست فیصلہ کیا تھا۔

موٹا چاند نظر آنے کی وجوہات

پاکستانیوں کی ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر نیا چاند موٹا ہو تو یہ پہلے دن کا چاند نہیں ہو گا اور پچھلے دن اسے دیکھے جانے میں غلطی کی گئی ہے۔یہ غلط ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ نئے ماہ کا پہلا دن نہ ہو لیکن چاند کا منظر تو پہلا ہی رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر چاند 17 گھنٹے سے چھوٹا ہو تو یہ نظر نہیں آئے گا۔ تکنیکی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ چاند موجود ہے لیکن اوقات کے مختلف ہونے کی وجہ سے زمین سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ اگلے دن اسی وقت تک چاند 41 گھنٹے کا ہو چکا ہوتا ہے اس لیے وہ معمول سے زیادہ بڑا نظر آتا ہے۔

روئت حلال کمیٹی کو چاند نہ دیکھ پانے پر تنقید کا نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ فطرت کو چاند نہ دیکھنے جانے کا الزام دیں۔

آج کے دور میں فلکیات کے علم کے مطابق چاند کی پیدائش اور اس کے نظر آنے کے وقت کا بلکل درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس میں کیا حرج ہے کہ اس سائنسی طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے چاند دیکھنے کے دعووں کو سچا اور جھوٹا قرار دینے سے گریز کریں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *