حسین نواز نےجے آئی ٹی ممبران پراعتراض کیوں کیا؟

حسنات ملک

نواز شریف کے بڑے بیٹے نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ انہیں جے آئی ٹی کے دو ممبران کی کمیٹی میں شمولیت پر تحفظات ہیں ۔ 5 صفحات پر مشتمل درخواست میں حسین نواز کا کہنا تھا کہ انہیں دو جے آئی ٹی ممبران کی طرف سے تعصب برتے جانے کا خطرہ ہے اور یہ ممبران سیاسی طور پر ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں۔ درخواست میں اپنے دعوے کو ثابت کرنے کےلیے کچھ اہم واقعات بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ بلال رسول جو جے آئی ٹی کے ممبر ہیں اور ایس ای سی پی کی نمائندگی کر رہے ہیں کے بارے میں حسین نواز کا موقف ہے کہ وہ میاں محمد اظہر کے حقیقی بھانجے ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کے حمایتی ہیں۔ رسول منتخب حکومت کے خلاف اکثر بیانات دیتے ہیں اور پی ٹی آئی کے حامی نظر آتے ہیں۔ حسین نے رسول کے فیس بک پیج پر چیٹ کے کچھ نکات بھی درخواست میں شامل کیے۔

Prime Minister Nawaz Sharif's son Hussain Nawaz. EXPRESS NEWS SCREENGRAB

جب بلال رسول کمیٹی کے ممبر بنے تو ان کی بیوی نے سوشل میڈیا سے سارا مواد ہٹا دیا۔ مواد ہٹانے کا عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے یہ سب پی ٹی آئی کے ساتھ محبت اور دلچسپی کو چھپانے کے لیے کیا ہے۔ ایس بی پی کے نمائندے احمر عزیز نیب کے بھی ممبر رہ چکے ہیں جس نے حدیبیہ پیپر ملز کے کیس میں مشرف حکومت میں نواز شریف کے خلاف تحقیقات کی تھیں۔ درخواست میں حسین نے لکھا کہ عزیز سٹیٹ بینک میں آنے سے قبل البرکہ بینک کے سی ایف او تھے جو التوفیک کمپنی کی ملکیت تھا اور اس کا 1994 میں حدیبیہ پیپر ملز کے ساتھ ایک تنازعہ بھی رہ چکا ہے۔ اس لیے عزیز کو غیر جانبدار فرد نہیں قرار دیا جاسکتا۔ عزیز کے خلاف جانبدار ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے حسین نواز نے موقف اختیار کیا کہ مئی 16 کو انہوں نے وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع سے تحقیقات کے دوران تعصب کا مظاہرہ کیا۔ حسین نواز نے اپیکس کورٹ سے اپیل کی کہ ان دونوں جے آئی ٹی ممبران کے بارے میں ان کی جانبداری کو مد نظر رکھتے ہوئے درست فیصلہ کیا جائے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *