پھر سے محبت

سید سعد علی

syed saad ali

محبت کسی کو نہ ہونا ایک نہ سمجھ آنے والا عمل ہے،زندگی کے کسی ناکسی موڑ پر انسان کو کوئی نا کوئی شخص ضرورپسند آتاہے۔ محبوب کو چاہنا مگر بدلے میں چاہت کی امید نہ رکھنا ہی اصل محبت کی نشانی ہے۔محبت وہ جذبہ ہے جو کسی عام کو خاص بنادیتا ہے۔
بقول حبیب جالب:
" پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اس کی ہے"
انسان اپنے ہم مزاج شخص کی تلاش میں دن رات ایک کر دیتا ہے،پھر جب وہ من پسند مل جاتا ہے تو وہ اظہارِمحبت کردیتا ہے اس بات سے درکنار کے جواب مثبت یا منفی ہوگا ،بدلے کی چاہت سے درکنار محبت کے بدلے محبت ہی کی جاتی ہے۔محبت صرف ایک بار ہوں یہ ضروری تو نہیں ،کبھی زندگی کے موڑ پر اگر کوئی شخص پسند آجائے تو اس سے اظہارِمحبت کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہے۔خوب سے خوب تر کی تلاش تو ہمیشہ ہی جاری رہتی ہے۔
"سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے
دوسرا عشق ہوا پہلے کے دوران مجھے"
محبت کسی طلب سے آزاد ہوتی ہے ،محبت میں کچھ طلب نہیں کیا جاتا ہے ۔محبوب کی خوشی میں خوش رہنا اور اسکی خوشی کے لیے دعا کرنا ہی محبوب کی پہچان ہوتی ہے۔محبت کبھی ختم نہیں ہوتی ہے،بس خاموش ہوجاتی ہے۔محبت میں صلے کی تمنانہیں رہ جاتی ہے ،محبوب یاد کر ے یا نہ کرے ،مڑ کر دیکھے نہ دیکھے محبت دے نہ دے ،شدتِ محبت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
ہم انسان بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں جس شخص کو ہم نہیں پا سکتے ہیں اس ہی کے خواب دیکھنے لگ جاتے ہیں،قدرت کی مرضی کے سامنے اپنی مرضی چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر تب ہوش میں آتے ہے جب ناکامی کی لہریں ساحل پر لاپھینکی ہے۔ جس انسان سے محبت ہوا ور وہی انسان اس کے نصیب میں بھی لکھاہوں ایسا بہت کم ہی ہوا کرتا ہے۔
بقول شاعر:
"خود کو سمجھاوں کہ دنیا کی خبر گیری کروں
ا س محبت میں کوئی ایک مصیبت ہے مجھے"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *