یہ ریاست کی کمزوری ہے

najam-wali-khan

جب ان لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ زمین پر فساد برپا مت کرو تو وہ کہتے تھے کہ وہ تواصلاح کرنے والے ہیں، ایسے لوگوں کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے، یہی قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقے میں مت پڑو مگر ہمیں پشاور کی ایک مسجد سے ہر برس رمضان اور شوال کے چاند دیکھنے پر تفرقے اور تقسیم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے جب سے پوپلزئی نامی عالم کا نام سنا ہے ان کی مسجد سے کبھی شعبان کی تیس تاریخ ہوتے ہوئے نہیں دیکھی، وہ ہر شعبان کی انتیس کی رات کو ہی رمضان کی پہلی تاریخ کا اعلان کر دیتے ہیں۔ ماہرین لاکھ چیختے اور سر پٹختے رہیں کہ جناب خیبرپختونخوا میں رمضان یا شوال کا چاند نظر آنے کا امکان ہی نہیں ہے مگران کے پا س ہمیشہ ایسے لوگ دستیاب ہوتے ہیں جنہوں نے چاند دیکھا ہوتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مولانا ان دو سے تین ماہ کے علاوہ نوسے دس ماہ سوئے رہتے ہیں، رمضان اور عید پر قوم کو تقسیم کرنے کے علاوہ وہ کبھی اپنا نام نہاد شرعی فریضہ سرانجام دیتے یا ریاستی سطح پر فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔

مولانا پوپلزئی روئیت کا سہارا لیتے ہیں جو اعلان عین شرعی طریقہ کار ہے، میں نے ایک عالم دین سے پوچھا کہ ہم بہت سارے دوسرے ممالک کی طرح روئیت کے معاملے میں سائنس کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے، ہم بھی پہلے سے قمری کیلنڈر شائع کیوں نہیں کر لیتے، جواب ملا ، اجتہاد بہت اچھی چیز ہے جو ہمیں نئے نئے مسائل سے نبٹنے میں مدد دیتا ہے مگر جہاں واضح احکام موجود ہیں وہاں تقلید ہی اہم ہے، اللہ کے پیارے نبیؐ نے چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنے اور عید کرنے کا حکم دیا ہے، یہاں سائنس سے مدد تو لی جاسکتی ہے مگر اسے دین کی رو سے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ دنیا کے سب سے باخبر اورباعلم شخص کا فیصلہ ہے جس سے روگردانی نہیں ہو سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مولانا پوپلزئی کا طریقہ کار عین شرعی ہے تو پھراس پر اعتراض کیا ہے۔ اس پر اعتراض یہ ہے کہ اسلام حکومت اور ریاست کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور بہت سارے فیصلے حکومتی اور ریاستی سطح پر ہی کئے جا سکتے ہیں اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ جب تک مدینہ کی ریاست قائم نہیں ہوئی تب تک ایسے بہت سارے احکامات نازل ہی نہیں ہوئے ۔ اب یہ مسلمان حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں ہم آہنگی اوررواداری کو قائم رکھے۔ رمضان اور عیدوں کا اسلامی ریاست میں ایک ہی دن قائم کرنا اس کا اہم ترین جزو ہے اور ریاست کی سطح پر روئیت ہلال کمیٹی کا قیام ضروری ہی نہیں بلکہ بہت ضروری ہے تاکہ ہر گلی، محلے اور مسجد ، مدرسے سے الگ الگ اعلانات نہ ہوتے رہیں۔ مولانا پوپلزئی اور ان کے پیروکار جب ریاست کے اختیار کو تسلیم نہیں کرتے تو ایک طرح سے بغاوت اور بدامنی کے مرتکب ہوتے ہیں یوں بھی مختلف مسالک پر مشتمل ایک ملک میں کسی ایک مسلک کی مسجد کے امام کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہر مرتبہ اپنا الگ ہی چاند چڑھائیں۔ میں مولانا پوپلزئی کی سرگرمیوں کو مسلک کی بنیاد پر زیر بحث نہیں لانا چاہتا کہ رمضان اور عید کا مشترکہ تعین اور فیصلہ کسی ایک مسلک کا مسئلہ نہیں ۔ مولانا پوپلزئی کی روئیت کے مقابلے میں ریاست کی قائم کردہ روئیت ہلال کمیٹی کسی ایک گلی، محلے یا مسلک کی بجائے پوری قوم اور امت کی نمائندگی کرتی ہے کہ اس میں تمام مکاتب فکر کے علما کی نمائندگی ہے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ مسلکی اختلافات کے باوجود مفتی منیب الرحمان جیسی بزرگ اور عالم شخصیت کی امانت اور دیانت پرشک نہیں کیا جا سکتا۔ میں گواہی دے سکتا ہوں کہ وہ کسی بھی دباو پر رمضان کے فرض روزے والے دن کو شعبان کے غیر فرض والے دن یا شوال کی یکم تاریخ کو عید کے برپا کرنے کے واضح حکم کی سرتابی کرتے ہوئے اس رو ز روزہ رکھنے کا حکم نہیں دے سکتے۔ہمیں اپنے بزرگوں پر اعتماد کرنا ہو گا چہ جائیکہ ہمارے پاس ان کے ایمان اور اہلیت پر شک کرنے کے واضح ثبوت موجود نہ ہوں۔ میں طلعت حسین کو ایک ا چھا صحافی سمجھتا ہوں مگر مجھے اس وقت ان کی مسکراہٹ پر افسوس ہوا جب ایک سڑک پر کھڑا ہوا صحافی ریاستی روئیت ہلال کمیٹی میں شامل علمائے کرام کی امانت ، دیانت اور کردار کو نوکری اور تنخواہ کی جگت لگاتے ہوئے مشکوک بنا رہا تھا۔

کچھ لوگ مولانا پوپلزئی سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں، وہ سعودی عرب کو مرکز مان کر رمضان اور عیدوں کا تعین بھی ان کے ساتھ ہی کرنے کی رائے دیتے ہیں۔ ان میں ہمارے کچھ ایسے دانشور بھی ہیں جن کا کاروبار ہی مذہبی جذبات کی دکانداری پر چلتا ہے۔ احادیث مبارکہ سے واضح ہے کہ ہر حکمرانی اور علاقے میں الگ الگ روئیت کا حکم ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمانے میں بھی علم تھا کہ سورج اور چاند کی گردش مختلف ہوتی ہے۔ مہینوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے اور نمازیں سورج کے گرد زمین کے سفر کے مطابق پڑھی جاتی ہیں اور اگر مکہ کے وقت، وہاں نظر آنے والے سورج اور چاند کو ہی نمازوں اور روزوں کے لئے مرکزی نکتہ مان لیا جائے تو پھرہمیں عصر کی نماز بھی اسی وقت پڑھنی چاہئے جب مکہ میں عصر کا وقت ہو چاہے اس وقت ہمارے لاہور اور پشاور میں مغرب کا وقت بھی نکل چکا ہو۔ روئیت کا تعلق موسم سے بھی ہے اور یہ بھی عقلی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ اگر مکے میں بارش ہو رہی ہو تو ہم یہاں چھاتہ لے کر باہر نکل آئیں، ہمیں اس حوالے سے اپنا یونٹ بناناہو گااور وہ ایک اسلامی حکومت میں اس کے دائرہ کار میں شامل علاقہ ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم اس کی مزید تفصیل میں جائیں تو ہر صوبے میں الگ الگ روئیت کا اہتمام ہو اوراس کے مطابق فیصلہ ہو مگر ایک ہی ریاست میں الگ الگ فیصلے یقینی طور پر انتظامی بحران پیدا کر دیں گے یوں ہر صوبے میں کمیٹی ضرور قائم کی جائے، وہ روئیت کا اہتمام بھی کرے مگر اس کے بعد فیصلہ پورے ریاستی یونٹ پر لاگو کر دیا جائے، یہی سب سے بہتر ہے۔

مولانا پوپلزئی اورا ن کے پیروکار ہر برس انتشار پیدا کرتے ہیں اور اگر ا ن کے دعوے کو تسلیم کر لیا جائے کہ وہ گذشتہ ایک سو برس سے یہی کام کر رہے ہیں تو پھر ہر شہر میں ایسی مساجد اور مدارس مل جائیں گے جنہیں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کہا جا سکے گا۔مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ پوپلزئی ہوں یا اسلام آباد کی لا ل مسجد والے، وہ کہیں ریاست کی کمزوری اور کہیں ریاستی اداروں کی خفیہ پشت پناہی سے ہی مضبوطی اختیار کرتے ہیں۔اگر پاکستان میں آئین اور قانون کا نظام مستحکم ہے تو پھر ایسے فتنے کچل دئیے جانے چاہئیں۔ مولانا پوپلزئی کے ان اعلانات کو یقینی طور پر انتشار اور فساد کے قوانین کے تحت ہی لینا چاہئے کہ روئیت ہلال کمیٹی کو پاکستان کا قانون تحفظ فراہم کرتا ہے۔ میرے خیال میں پیمرا کو بھی حرکت میں آناچا ہئے اور اس طرح گلی محلوں کی روئیت کمیٹیوں کے اعلانات کو نشر یا شائع کرنے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔ ریاست کو ان فکری مغالطوں کے دور کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے جو اس مرتبہ پھر عروج پر ہیں، کہا جا رہا ہے کہ پہلی تاریخ کا چاند اتنا موٹا کیسے ہو سکتا ہے اور اس کا جواب بھی ماہرین فلکیات کے پاس موجود ہے کہ کون سا چاند موٹااور کون سا پتلا ہو گا، ان معاملات کو تھڑوں کی بحث بنانے کی بجائے اس پردینی اور سائنسی نقطہ نظر کے مطابق واضح حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔ افسوس کا مقام ہے کہ مسلکی بنیادوں پرایسے فتنوں کی حمایت کی جا تی ہے اور اس کی ایک قیمت ہم نے خود کش حملے کرنے والوں کے حق میں فکری مغالطے پیدا کرنے والوں کو راستے دیتے ہوئے چکائی ہے۔ ہمارے ہاں سید منور حسن جیسے سیاسی رہنماوں کی تشریحات نے ابہام پیدا کئے ہیں۔میں نہیں کہوں گا کہ ریاست کے حرکت میں آنے کا وقت یہی ہے کیونکہ میرے خیال میں یہ وقت بہت برس پہلے تھا اور ا س فتنے کو شروع میں ہی دبادیا جانا چاہئے تھا جو اب قابو میں نہیں آ رہا۔ ہم ہر برس ایسے ہی اعلانات سنتے ہیں اور خیبرپختونخوا میں وفاق سے اختلاف رکھنے والی جماعت سیاسی فائدے کے لئے اس کی حمایت کر کے ہر مرتبہ اپنے ہی سینے میں خنجر اتار لیتی ہے، یقینی طور پر پوپلزئی کے کہنے پر سندھ، پنجاب یا بلوچستان میں کسی نے فرض روزے کی نیت نہیں کی مگر خیبرپختونخوا بہرحال تقسیم ہوگیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *