کرپشن کا کپتان۔۔۔۔'مران خان'

ارباز یوسف زئی

im

کیا شاندار منطق ہے ۔۔۔بیوی کو طلاق دیتا ہے اور وہ اسے بنی گالہ کا فارم ہاؤس گفٹ کر دیتی ہے۔یہ آف شور کمپنیوں کو لوٹ مار کا پیسہ قرار دیتا ہے اور خود اس کی آف شور کمپنی نکلتی ہے تو گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتا ہے کہ ساری کمپنیاں ایسی نہیں ہوتیں۔یہ پیپلز پارٹی کو لٹیری جماعت ا قرار دیتا ہے اور فردوس عاشق اعوان کی پارٹی میں شرکت پر خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔یہ کبھی جاوید ہاشمی کو اپنا سرمایہ قرار دیتا ہے اور کبھی اسے ذلت کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔یہ شوکت خانم کا پیسہ باہر بھیجتا ہے تو بتانا بھی گوارہ نہیں کرتا کہ پیسہ کس ذرائع سے باہر گیا اور کس ذرائع سے واپس آیا اور نقصان کتنا ہوا؟ یہ شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بھی نہیں رکھنا پسند کرتا لیکن اسے ہی سینے سے بھی لگاتاہے‘ یہ ٹیکس چھپاتا ہے اوردوسروں کی تلاشی لینے پر مصر ہے۔ یہ اپنے والد گرامی کا ذکر تک نہیں کرتا اور دوسروں کے خاندان پر انگلیاں اٹھاتاہے‘ یہ اپنے دس سال تک کا حساب نہیں دے پاتا اور مخالفین کی تین نسلوں کا حساب چاہتا ہے‘ یہ چوہدری پرویز الٰہی کو چور کہتا ہے اور اسی کو مرد مجاہد بھی کہتا ہے۔یہ اپنے کتوں کو بھی ٹائیگر کہتا ہے اور اپنے ورکروں کو بھی۔فیصلہ حق میں نہ آئے تو یہ عدالتوں کو گالیاں دیتاہے‘ اس سے غیر ملکی فنڈنگ کا حساب مانگو تو غرانے لگتاہے۔اس کی کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں لیکن اس کے ٹھاٹھ باٹھ شاہانہ ہیں۔ یہ اور اس کی پارٹی کے پالتو ورکرز اُس وزیر اعظم پر انگلیاں اٹھاتے ہیں جس نے عالمی دباؤ تسلیم نہ کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کرائے‘ جس نے ملکی معیشت میں روح پھونک دی ہے‘ دنیا بھر کے ادارے اس کے اقدامات کی تعریف کر رہے ہیں۔ اصل میں ’مران خان‘ کو بھی پتا ہے کہ اگر نواز شریف رہ گیا تو اگلے الیکشن میں دوگنے ووٹ لے جائے گا۔اس کے ورکرز کے نزدیک نیوٹرل کالم نگار وہ ہوتاہے جو صرف ’مران خان‘ کے حق میں لکھے۔۔۔اور جو اس کے خلاف لکھے وہ درباری ہے‘بکاؤ ہے‘ گالیوں کا حق دار ہے۔۔۔سو آئیے ۔۔۔اس بلاگ کے بعد گالیاں سنئے‘ یہ جو لوگ گالیاں لکھیں گے یہ نیا پاکستان بنانے کے دعویدار ہوں گے۔۔۔یعنی ایک ایسا پاکستان جہاں مخالفین کی ماں بہن ایک کردی جائے گی۔ایک پالتو نے لکھا کہ ’مران خان ‘ چونکہ کبھی کسی منصب پر فائز نہیں رہا لہذا اس کا حساب ضروری نہیں۔ واہ۔۔۔یعنی اس ملک کے لاکھوں جرائم پیشہ لوگوں کو محض اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے کہ وہ کسی منصب پر فائز نہیں؟ اور بائی دا وے خیبرپختونخواہ کی حکومت کون چلا رہا ہے؟ کرکٹ کا ہیرو کس کو کہتے ہو؟ خیبرپختونخواہ میں آکر دیکھو۔۔۔لیڈی ریڈنگ سرکاری ہسپتال ہے جہاں ایمرجنسی کی پرچی 200 روپے میں بن رہی ہے۔۔۔ہر ہسپتال میں ڈاکٹروں کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت دے دی گئی ہے اور وہ لوگوں کو جی بھر کے لوٹ رہے ہیں۔۔۔خیبرپختونخواہ میں بجلی کیوں نہیں پیدا کی گئی؟ دعوے تو بڑے کیے تھے ’مران خان ‘ نے۔۔۔کہاں گئے چھوٹے چھوٹے ڈیم‘ کہاں گئی بجلی‘ سرکاری سکولوں کے بارے میں کہتے ہو کہ وہاں لوگ پرائیویٹ سکولوں سے بچے اٹھا کر سرکاری سکولوں میں داخل کرو ا رہے ہیں‘ شرم کرو۔۔۔اور آکر دیکھو کہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری سکولوں میں کیا ہورہا ہے‘پچھلے سال 2500 سے زائد بچے سرکاری سکول چھوڑ کر پرائیویٹ سکولوں میں چلے گئے۔۔۔پولیس کی بھی سن لو۔۔۔ایف آئی آر آن لائن درج ہوتی ہے لیکن حرام ہے جو کبھی پتا چلے کہ اس کا کیا بنا؟ بس دھڑا دھڑ ایف آئی آریں درج ہورہی ہیں‘ نہ کوئی چالان پیش ہوتاہے نہ تحقیقات ہوتی ہیں۔لوگ تھانوں میں جاتے ہیں تو پتا چلتاہے کہ پولیس کو تو پتا ہی نہیں کہ اس شخص نے آن لائن کوئی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ٹرانسپورٹ کا سسٹم برباد ہوچکا لیکن تمہاری اولاد یں لندن میں پرورش پارہی ہیں۔ اب تو بچے بڑے ہوگئے ہیں‘ اب تو انہیں اپنے پاس لے آؤ‘ خیبرپختونخواہ کے سکولوں کالجوں میں پڑھاؤ۔۔۔اور نہیں تو اُس بیچاری ٹیریان کو ہی باپ کی شفقت دے دو۔۔۔کب تک اپنے جرم اور گناہ کو ذاتی فعل کا نام دیتے رہو گے؟اس ملک کی نوجوان نسل کو تم نے برباد کرکے رکھ دیا ہے‘ لیکن شکر ہے کہ اکثریت تمہارے عزائم سمجھ گئی ہے‘ الیکشن تمہارا یوم حساب ہوگا۔ میں خیبرپختونخواہ کے عوام کو تم سے بہتر جانتا ہوں‘ لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر تمہیں کوس رہے ہیں‘ کبھی پشاور سے باہر بھی نکل کر دیکھو۔’مران خان‘ یہ قوم تم سے پورا پورا حساب لے گی ‘ ایمپائر کی انگلی سے لے کر اُن گالیوں تک جو تم نے ہر اُس انسان کو دلوائیں جو محض تمہارے سیاسی نظریات سے میل نہیں کھاتا تھا۔سوشل میڈیا پر 4 لاکھ جعلی اکاؤنٹس بنا لینے سے کوئی وزیر اعظم نہیں بن جاتا۔۔۔ضمنی انتخابات سے ہی تمہاری بربادی کا سفر شروع ہوچکا ہے۔۔۔اور اب یہ نہیں رکنے والا۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *