سعودی عرب کو درپیش مسائل

 Qatar-and-Saudi-Arabiaڈیوڈ اِگنیٹیس

شاہ عبداللہ کی موت اس وقت واقع ہوئی ہے جب سعودی عرب اور و ہ سنی دنیا، جس کی وہ قیادت کر رہا ہے، ایران اور اس کے شیعہ حامیوں کی طاقت کے سبب اس قدر پریشان ہے کہ پہلے کبھی نہ تھے۔ ایران کے حامی چار اہم عرب دارالحکومتوں، دمشق، بغداد، بیروت اور صنعاء پر قابض ہیں۔سعودی ایرانی قوت کے خلاف غضبناک ہو رہے ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے خفیہ کارروائیوں کو مالی امداد فراہم کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔سلطنت میں موجود متعدد لوگ شیعہ طاقت میں اضافے کا الزام امریکہ پر عائد کرتے ہیں لیکن انہیں خود احتسابی کی عادت کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر سنیوں ،اور بالخصوص سعودی قیادت کی ناکامی ہے ۔
شاہ عبداللہ ایک کم سخن شہنشاہ تھے۔ ان میں اپنے پیش رو شاہ فہد جیسی سیماب صفتی مفقود تھی، لیکن سلطنت کے اندر ان کی عزت بہت زیادہ تھی۔ انہیں متعدد سعودی خواتین اس معاشرے میں اپنا خفیہ ہیرو سمجھتی تھیں جو خواتین کے حقوق کو نہایت سختی سے دبا ئے ہوئے ہے۔ انہیں ایک ایسے پاکباز اور متقی شخص کے طور پر بھی محترم سمجھا جاتا تھاجو اپنے متعدد پیش روؤں سے بڑھ کر اسلام کے مثالی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے۔انہوں نے سعودی عرب کی اصلاح تو نہ کی مگر وہ وہاں استحکام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
عربوں کے ٹویٹر اور فیس بک پلیٹ فارمز کو فالو کرنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعتدال پسند سعودیوں کیلئے بھیانک خواب یہ ہے کہ داعش کے انتہاء پسند، نوجوان سعودیوں کی معقول تعداد کو متاثر کر رہے ہیں۔نوجوان سعودی ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے والے سرگرم ترین صارفین میں شامل ہیں، جو سلطنت کی سیاست میں سماجی شرکت کی شدید خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ملک میں بادشاہت کی تبدیلی کے بعد اگر اس جو ش کو دبانے کی کوشش کی گئی تو یہ بے حد خطرناک ہو سکتا ہے۔
امریکی حکمرانوں کیلئے سعودی رہنماؤں کی اگلی نسل کا استعارہ یا مثال شہزادہ محمد بن نائف ، وزیر داخلہ کی سے ہے، جو نہ صرف ایک باصلاحیت نوجوان ہیں بلکہ جدید بھی ہیں۔ لیکن سعودی عرب کی بظاہرباطل ، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ مغرب نواز سلطنت، قدامت پرست مسلمان مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک معاہدے پر اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سعودی رہنما جو اب داعش کی انتہاء پسند قوت سے خوفزدہ ہیں، شاید وہی سودے بازی دوہرانے کی لالچ کریں۔۔۔ اور مسلمان بنیادپرستوں کی غالب قوت کے بل بوتے پر حکومت چلائیں، یعنی امریکی اور مغربی دوستوں کی بجائے بہت ممکن ہے کہ اب ان کا دوستی کا ہاتھ بنیاد پرست مسلمان قوتوں کی طرف بڑھ جائے۔
متعدد مغربی تجزیہ نگار یقین رکھتے ہیں کہ اب مسلمانوں کے قدامت پرست ہونے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔ لیکن حالیہ عشروں نے ثابت کیا ہے کہ اب مغرب کی سعودی شاہی خاندان کو لمحوں میں متاثر کرنے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے اور اب انہیں ایسا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ شاہ عبداللہ کی وفات کے ساتھ ہی، سعودی عرب کے شہزادے سعود کے گھرانے کی بقاء کے متعلق سوچنے لگے ہوں گے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن ان کے فیصلوں سے تشکیل پائے گا۔ لیکن سعودی عرب میں، زیادہ تر جگہوں کی طرح، سیاست پر مقامی رنگ غالب رہتا ہے اور بین الاقوامی مسائل پر کم توجہ دی جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *