بے دانت کا شیر

عرفان حسینIrfan Hussain

 

نواز شریف نے اپنی پارٹی کے لیے شیر کا انتخابی نشان غالباً اس لیے چناتھا کیونکہ یہ جانور فقیدالمثال طاقت اور پھرتی کے لیے مشہور ہے ، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کے جلسوں میں اچھالا جانے والا والا کھلونا شیربھی ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم سے زیادہ تاب و تواں کا حامل دکھائی دیتا ہے ۔ بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کے دوسال کے اندر اندر نواز شریف نے ثابت کردیا کہ وہ بے دانت کے شیر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جملہ ذرا سخت دکھائی دے، اور پھر میں بھی مذاق کے موڈ میں ہرگز نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی آئینی مدت کا نصف پورا کیا چاہتے ہیں لیکن نااہلی کے نتیجے میں کبھی ایک بحران اُنہیں گھیر لیتا ہے تو کبھی دوسرا۔ چونکہ وزیرِ اعظم نے نظام کو ترقی دینے کی بجائے تمام امور اپنے ہاتھ میں ہی رکھے ہوئے ہیں، اس لیے یہ تمام بحران اور مسائل ان کے ہی پیدا کردہ ہیں، اور ان تمام معاملات میں سب سے افسوس ناک بات یہی ہے۔
پٹرول کے موجودہ بحران کی مثال سامنے رکھیں.... ہمارے ہاں کبھی نہ ختم ہونے والے زیرِ گردشی قرضے عرصۂ دراز سے سراٹھا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس سے مفر ممکن نہیں، اس کے باوجود،پٹرول کی قلت پر اہم وزرا، جیسا کہ اسحاق ڈار اور شاہد خاقان عباسی کی طرف سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانا زیب نہیں دیتا۔ حقیقت سے سبھی باخبر ہیں، عوام بھی۔ جس دوران نواز شریف بحران کی اصل وجہ سمجھنے کی کوشش میں ہیں، دوسرے شریف بڑے آرام سے محوِ پرواز ہیں۔ حال ہی میں جنرل راحیل شریف امریکہ اور برطانیہ کے اہم دوروں سے واپس آئے ہیں۔ اُنھوں نے ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح اہم رہنماؤں اورافسران سے ملاقاتیں کی ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف بھی سعودی عرب کے دورے پر گئے ، لیکن ان کا جانا ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص اپنے دفتر سے اٹھ کر اپنے باس کے روبرو پیش ہوجائے۔ عمران خان وزیرِ اعظم کے پاؤں میں ایک کانٹے کے مترادف ہیں کیونکہ وہ 2018 کے عام انتخابات، بلکہ اُس سے کہیں پہلے بھی، حکومت کے لیے لوہے کا چناثابت ہورہے ہیں۔
اگرچہ نوازشریف پر ایک طرف سے عسکری اداروں اور دوسری طر ف سے عمران خان کا دباؤ ہے ، لیکن یہ ان کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے وہ بے دست و پا دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی طرزِ حکومت کسی فرم کے مینجر جیسی ہے۔ اُنھوں نے اپنے اردگرد اپنے اہلِ خانہ، قریبی دوستوں اور چند ایک قابلِ اعتماد سرکاری افسران کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔ ان کی پارٹی کا کوئی شخص اس قریبی دائرے میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ اس دائرے کی وجہ سے اسلام آباد میں ایک جمود کی سی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔ حکومت کے نام پر اس اعلیٰ حلقے کے افراد وزیرِ ا عظم کے گرد بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ معمولی سے معمولی فیصلہ بھی وزیرِ اعظم کی منشا سے ہوتا ہے۔اس طرح گڈ گورننس کاوعدہ زندہ درگور ہوچکا ۔ سچی بات یہ ہے کہ نواز شریف حکومت کرتے ہوئے ملک چلانے کی بجائے احتجاجی تحریک چلاتے ہوئے کہیں بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ جب لاکھوں افراد نے اُنہیں انتخابات میں ووٹ دیے تو اُن کا خیال تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کو منتخب کررہے ہیں جو بہت اچھا مینجر ہے اور اس کے پاس ایک بہت بڑے کاروباری اور صنعتی ادارے کو چلانے کا تجربہ ہے، تاہم، جیسا کہ ایاز امیر ہمیں ایک حالیہ کالم میں یاد دلاتے ہیں کہ مالیاتی اداروں تک بلاروٹوک رسائی اور سرکاری افسران کی حمایت کی وجہ سے نواز شریف دولت کمانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی بزنس کامیابی کسی غیر معمولی ذہانت کا نتیجہ نہ تھی۔
اس وقت حکمرانوں کی باڈی لینگوئج اور چہرے کے تاثرات سب کچھ کہہ رہے ہیں۔ زیادہ تر تصاویر میں وزیرِ ا عظم پریشان اورضبط شدہ صدمے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔آرمی چیف کے ساتھ ایک فوٹو میں، نواز شریف کی آنکھوں سے منتشر خیالی اور دل گرفتگی ہویدا جبکہ آرمی چیف بہت پراعتماد اور خوشگوار موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کسی سکول کے طالب علم کوگوشمالی کے ہیڈ ماسٹر کے سامنے پیش کیا گیا ہو۔ اگرچہ نواز شریف کو سیاسی سبق جنرلوں نے ہی دیا تھا لیکن وہ پاکستانی اقتدار کے ایوانوں کی ایک طے شدہ حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں۔ جب اُنھوں نے ایسے امور میں پیش رفت کا ارداہ کیا جو فوج کے لیے ناپسندیدہ تھے تو اُنھوں نے اپنے گرد دفاعی حصار قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور جنرل راحیل شریف کو آن بورڈ لے لیا۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش قابلِ ستائش سہی لیکن اس ضمن میں جی ایچ کیو کی مزاحمت کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ اس کے بعد ایک سابق آرمی چیف پر غداری کامقدمہ قائم کرنا بھی وردی پوشوں کی جبین کو شکن آلود کرنے کا موجب بنا۔ پرویز مشرف کو سزا دلانے کے لیے احمقانہ حد تک کی جانے والی سیاسی سرمایہ کاری کرتے ہوئے نواز شریف فوج کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کر بیٹھے۔ اس کے بعد طالبان کے خلاف دوٹوک جنگ کرنے میں ان کی طرف سے پس پیش اور روایتی تذبذب سے کام لینا بھی دانائی کا تقاضا نہ تھا۔ جیو ٹی وی اور آئی ایس آئی کے درمیان ہونے والی ناروا محاذآرائی میں جیو کا ساتھ دے کر وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار بیٹھے۔
ان تمام معروضات کے باوجود ا ن کی زبوں حالی کی اصل وجہ فوج کے ساتھ تناؤ نہیں بلکہ ان میں قائدانہ صلاحیتوں کاشدید فقدان ہے۔ اگر وہ اپنے انتخابی وعدوں میں سے نصف کو بھی پورا کرلیتے تو آج اُن کے سامنے وہ مشکلات نہ ہوتیں جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔چار انتخابی حلقے کھولنے کی عمران خان کی درخواست کونظر انداز کرنے کے نتیجے میں اُنہیں نہ صرف بہت زیادہ احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ انہیں کمزور پاکر ان کے سیاسی مخالفین کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اب اُن کو پنجاب پر اپنی سیاسی گرفت قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ چند سال پہلے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کبھی پنجاب میں عمران خان خم ٹھونک کر ان کے مقابلے پر اتر آئیں گے۔ یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ پنجاب پر گرفت پاکستانی سیاست میں فیصلہ کن عامل کا درجہ رکھتی ہے۔
اس وقت جب کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے استعفیٰ دے دیا ہے، یا وہ احتجاجاً اسمبلی میں نہیں جارہے ہیں، پارلیمنٹ میں نواز شریف کے سامنے کوئی اپوزیشن نہیں ۔جہاں تک پی پی پی اور ایم کیوایم کا تعلق ہے تووہ وفاقی حکومت کے سامنے مزاحمت کے موڈ میں نہیں۔ اقتدار کے پہلے چھے ماہ تک نوازحکومت پر میڈیا نے بھی تنقید نہیں کی کیونکہ اُس عرصے کو ہنی مون پیریڈ قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت جبکہ فوج خارجہ پالیسی کو کنٹرول کررہی ہے، جنرل راحیل شریف کیوں چاہیں گے کہ وہ ملک کی سیاسی اور مالیاتی دلدل میں قدم رکھیں۔ یہ کانٹے سیاسی حکومت کے پاؤں چھلنی کرنے کے لیے ہی ہیں۔ اور پھر جس شخص کی راہ میں گل پاشی کی جارہی ہو، یاجسے پھولوں کے گلدستے پیش کیے جارہے ہوں، وہ کانٹوں پر پاؤں کیوں رکھے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *