رمضان اور تاریخ اسلام ( حصہ دوم )

naeem-baloch1

6؍ رمضان
۱۔ مسند احمد میں حضرت واثلہ بن الاسقع سے روایت ہے کہ ۶ رمضان کو حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی۔(معارف القرآن، مفتی محمد شفیع، ۱؍۴۴۸)
7۔ ۶ رمضان ۶۳ بمطابق ۱۲ جون۷۱۲ء کو محمد بن قاسم نے دریائے سندھ پر ہندوستانی لشکر کے ساتھ ہونے والے معرکے میں کامیابی حاصل کی اور سندھ کے علاقے کو فتح کر لیا۔ مسلمانوں نے یہ فتح ولید بن عبد الملک کے آخری دور میں حاصل کی ۔یاد رہے کہ یہ کامیابی دو ناکام کوششوں کے بعد حاصل ہوئی۔
۷؍ رمضان
1۔ ایک روایت کے مطابق ہجرت سے تین سال پہلے سات رمضان المبارک کو پیغمبر اسلام کے چچا حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی۔
2۔ جامع ازہر کا افتتاح :۷ رمضان ۳۶۱ ہجری بمطابق ۹۷۱ ء کے قاہرہ میں جامع ازہر کا افتتاح ہوا ۔ اس دن مسلمانوں اس میں پہلی بار نماز ادا کی، اس طرح سے جامع ازہر بیک وقت ایک مسجد اور ایک یونیورسٹی کی حیثیت سے معرض وجود میں آیا۔
9؍ رمضان
9 رمضان المبارک سنہ 853 ہجری کو ممتاز ماہر فلکیات الغ بیگ کو قتل کردیا گیا۔وہ سولہ سال کی عمر میں تیمور کے جانشین مقرر ہوئے۔تیمور کے برخلاف الغ بیگ کو ملک کی سرحدوں میں توسیع میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ زیادہ تر تحقیق و مطالعہ میں مشغول رہتے تھے۔انہوں نے ایک مدرسہ قائم کیا جس میں دیگر موضوعات کے علاوہ علم نجوم خاص طور پر پڑھایا جاتا تھا۔الغ بیگ کی دیگر کاوشوں میں سنہ 828 ہجری میں سمرقند میں قائم کی گئی ایک تین منزلہ رصد گاہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ شمسی نظام کے کچھ سیاروں کے بارے میں الغ بیگ کی تحقیقات کے نتائج آج کی تحقیقات سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔
۱۰؍ رمضان
1۔ فتح مکہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۰ رمضان المبارک ۸ ہجری کو مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے۔(الرحیق المختوم ، ص ۶۲۳)
2۔ 10 رمضان سنہ 10 بعثت کو رسول اکرم (ص) کی شریک حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے مکّہ میں وفات پائی۔ آپ قریش کی دولت مند اور نامور خاتون تھیں اور بعثت سے 15 سال قبل رسول اکرم کی زوجیت میں آئیں۔حضرت خدیجہ پہلی فرد تھیں جو رسول اکرم ﷺپر ایمان لائیں اور ایمان لانے کے بعد پوری قوت کے ساتھ دین اسلام کی ترویج میں لگ گئیں۔آپ نے اپنی تمام دولت و ثروت دین الٰہی کی ترویج و اشاعت کے لئے رسول اکرم کے حوالے کردی اور ہمیشہ آپ کی مونس و مددگار رہیں۔آپ کی تمام اولاد جو کہ شعور کی عمر کوپہنچی، سیدہ خدیجہؓ ہی کے بطن سے تھی۔
11 رمضان
1۔ 11 رمضان 95 ہجری کو مشہور تابعی سعید بن جبیر کا انتقال ہوا۔ انھوں نے ابو سعید خدری، موسیٰ بن اشعری اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ سے علم حاصل کیا اور عبد اللہ بن عباس سے قرآن اور اس کی تفسیرکا علم اور فقہ کا علم سیکھا۔ جب آپ کوفہ میں مقیم تھے تو فتویٰ کے معاملے میں آپ کوسب علما پر فوقیت حیثیت حاصل تھی۔
2۔ 11 رمضان 624 ہجری بمطابق کو منگول سردار تموجن المعروف چنگیز خان مر گیا۔ اس کی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تھی۔ ایک حادثے کے بعد اس کی تاخت کا رخ مسلم سلطنت کی طرف ہو گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1258میں بغداد چنگیز خاں کے پوتے ہلاکو خاں نے فتح کر کے تباہ برباد کر دیا ۔ اس غارت گری میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان ہلاک ہو گئے اور شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
12 رمضان
1۔ 12 رمضان المبارک ۱یک ہجری کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا۔اس کی وجہ یہ تھی ہجرت کر کے آنے والے مسلمان بے سروسامان تھے۔ ان کو سہارا دینے کے لیے حضور ﷺ نے یہ اقدام کیا۔انصار نے بھی پوری آمادگی کے ساتھ مہاجرین کی مدد کی۔ آپ نے اس اخوت یعنی بھائی چارے کے اس رشتے کے ذریعے سے اسلام میں اخوت و برابری کی بنیاد رکھی۔ دنیا میں رہنے والوں کو ایک خاندان اور ایک کنبے کے افراد قرار دیا۔ اس طرح نسل پرستی، مادی اور قبائلی امتیاز، رنگ و فام کی بنیاد پر جھوٹی فضیلتوں کو اسلام کے باطل قرار دے ڈالا۔
2۔ مسند احمد میں حضرت واثلہ بن الاسقع سے روایت ہے کہ12 رمضان المبارک کو زبور نازل ہوئی۔(معارف القرآن، مفتی محمد شفیع، 1؍448)
3۔ 12 رمضان المبارک597 ہجری کو مشہور مؤرخ اور محدث امام ابو الفرج بن الجوزی کی وفات ہوئی۔آپ بغداد میں پیدا ہوئے اور ستر سے زیادہ اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ تحصیل علم کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور اسی دوران میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی۔ ان کی تصانیف کی تعداد ڈھائی سو سے اوپر ہے، جن میں’تاریخ الملک والامم‘ ، ’الیاقوتہ‘ اور ’المنطق المفہوم‘ مشہور ہیں۔
13 رمضان
1۔ مسند احمد میں حضرت واثلہ بن الاسقع سے روایت ہے کہ انجیل 13 رمضان المبارک کو نازل ہوئی۔ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع، 1؍448)
2۔ خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فلسطین کو فتح کر لیا گیا تو 13 رمضان المبارک15 ہجری کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فلسطین پہنچے اور شہر قدس (یروشلم) کی چابیاں آپ کو دی گئیں۔ اسلامی فوج نے جب بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو حکمران نے یہ شرط رکھی کہ کہ اگر خلیفہ المسلمین حضرت عمر خود تشریف لائیں تو شہر لڑے بغیر اسلامی فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یوں مشورے کے بعد اس شرط کومان لیا گیا اور یروشلم کسی جنگ کے بغیر فتح ہو گیا۔یہ شرط اس لیے رکھی گئی تھی کہ بائیبل میں حضرت عمرؓ کے بارے میں یہ پیش گوئی موجود تھی کہ بیت المقدس ان کے ہاتھوں فتح ہو گا۔
14۔ رمضان
1۔ 14 رمضان المبارک 670 ہجری کو امام نووی نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’ریاض الصالحین‘‘ مکمل کی۔ یہ کتاب صحیحین، سنن اربعہ و مسانید اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کردہ احادیث پر مشتمل ہے۔ ہر باب کے ذیل میں موضوع سے متعلق آیات و احادیث یکجا کی گئی ہیں۔ ہر دور میں عام مسلمانوں کے لیے اس کتاب کی افادیت مسلمہ رہی ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ احادیث مبارکہ کی تخریج بھی ساتھ ساتھ کی گئی ہے اور ضرورت پر حدیث کے ماخذ سے رجوع کرنا ممکن ہے۔
15رمضان
1۔ 15 رمضان المبارک 3 ہجری کو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسن کی ولادت ہوئی۔آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زیر سایہ زندگی گزاری اور 40 ہجری میں حضرت علیؓ کی شہادت کے بعدخلافت کی ذمہ داری سنبھالی۔ امام حسنؓ کا امت پر ایک عظیم احسان یہ ہے کہ انھوں نے حضرت امیر معاویہؓ کی طرف سے صلح کی پیش کش منظور فرمائی اوراپنی مرضی کی شرائط پر خلافت کی ذمہ داری حضرت امیر معاویہؓ کے سپرد کر دی اور یوں امت مسلمہ دوبارہ متحدہو گئی ۔ امام حسنؓ کے بارے میں حضور ﷺ کی ایک روایت بھی ہے کہ میرا یہ نواساامت کو متحد کرنے کا باعث ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *