فروٹ کا بائیکاٹ کیوں؟

 madeeha-riaz
اس نے جب اپنی والدہ ماجدہ کو فیس بک اور وٹس ایپ پر پیش کی جانے والی  ان ترکیبوں کے بارے میں بتایا-کہ   رمضان میں  فروٹ سستا کروانے لئے اس قسم  مشورے سے نوازا جا رہا ہے کہ رمضان فروٹ کا بائیکاٹ کر دیا جائے  تو  یہ خود بخود سستا ہو جائے گا-اس کی ماں نے جیسے یہ فروٹ سستا کروانے والی ترکیب سنی تو ہتھے سے ہی  اکھڑ  گئی -نا مجھے ایک بات تو بتا بھلا ہم کیوں کریں فروٹ خریدنے سے بائیکاٹ -آگ لگے ان پیسوں کو جس کا فروٹ نہ خرید سکیں -فروٹ خریدنے کا بائیکاٹ وہ کریں جن کے پاس پیسے نہ ہوں -ارے ہم کیوں کریں بائیکاٹ جھلی نہ ہو تو-اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس -ویسے توحمیدہ بیگم چوبیس گھنٹے مہنگائی کا رونا روتیں رہتی- لیکن اخراجات کی طرف سے ہاتھ ہلکا نہ رکھتیں -اور خاص کر تہواروں پر تو بالکل بھی نہیں -یہی تہوار تو ہیں جس میں  حمیدہ بیگم کو شریکے برادری کو جلانے کا موقع ملتا  -اور ایسے مواقع تو حمیدہ بیگم کبھی نہ گنوائے- بات ہورہی ہے رمضان میں فروٹ کی قیمتوں کو قابو رکھنے کی -  رمضان میں ہی تو حمیدہ بیگم کے دل میں ٹھنڈپڑتی جب وہ محلے والوں کے شرمندہ چہرے دیکھتیں  -
Image result for fruit shop
رمضان  کا با برکت مہینہ تو جیسے حمیدہ بیگم کے لئے  ایکسپو سینٹر بن چکا تھا -جہاں وہ اپنے امیر ہونے کی دھاک محلے شریکے برادری پر بٹھاتی- اور یہ نمائش عید کے چوتھے روز جا کر ختم ہوتی -رمضان کریم  کے آنےکے دو ماہ قبل ہیسے حمیدہ بیگم کے بازاروں کے چکر لگنا شروع ہوجاتے -افطار میں مختلف انواع و اقسام کے کھانے بنتے اور محلے میں بانٹے جاتے اللہ کی خوشنودی کی غرض سے نہیں بلکہ دکھاوے کے لئے 'اپنی انا کی تسکین کے لئے -حمیدہ بیگم کے اہل و عیال کی   خوش خوراکی اندازہ تو اس بات سے لگائیے اگر خوراک میں تھوڑا سا بھی  اضافہ ہو جائے تو گھر کے افراد ہسپتال کے بیڈ پر ملتے -حمیدہ بیگم کے حالات پہلے واجبی سے تھے مگر جیسے  ہی لڑکے جوان ہوئے تو اپنے باپ
کے بازو بن گئے -اللہ کے کرم سے حمیدہ بیگم کے گھرانے میں خوشحالی آتی گئی -جیسے جیسے گھر کے حالت بہتر ہوتے گئے ویسے ویسے ہی حمیدہ بیگم  کی گردن میں اکڑ کا اضافہ ہوتا چلا گیا - عید شب براءت پر  دیگیں چڑھائی جاتیں اور پورے محلے کی دعوت کی جاتی -دیگیں چڑھانے کے بعدتو حمیدہ بیگم کے گھرانے کے افراد کی گردنوں میں ایک سریہ سا فٹ ہو جاتا -محلے والے  کھانےکی تعریف تو رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے اپنی کمائی پر غرور کرتے اور تعریفوں کو اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے -میرے عزیز ہموطنوں اگر مہنگائی کا توڑ کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے دماغسے حمیدہ بیگم والی سوچ کو ترک کرنا ہو گا -اور پھرمتحد ہو کر  مہنگائی کے اس جن پرقابو پانا ہے -اور رہی بات فروٹ خریدنے کا بائیکاٹ کرنے کی تو یہ کا کسی غریب  نے نہیں کرنا یہ کام ہمیںکرنا ہے جو فروٹ خریدنے کی سکت رکھتے ہیں -غریب فروٹ خریدنے کی تو استطاعت نہیں رکھتا تو وہ بھلا کیا بائیکاٹ کرے گا -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *