میں خواجہ سرا ہوں

ریفی خان

Image result for Rifee Khan

میں ریفی خان ہوں۔ سندھ میں خواجہ سراوں کے حقوق کی علمبردار ہوں۔ بچپن میں گھر سے بھاگنے کے بعد میں نے زندگی کی بہت سی تلخیاں دیکھی ہیں۔ لوگوں نے مجھے نصیحت کی کہ ڈانس اور بھیک مانگنے کی بجائے کوئی سکِل سیکھ لوں ۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں ڈبل ایم ڈگری ہولڈر ہوں۔ میں لاڑکانہ کی ایک تعلیم یافتہ فیملی سے تعلق رکھتی تھی لیکن تعلیم یافتہ ہونا میرے والدین اور بہن بھائیوں کو مجھے گھر سے اور اپنے آپ سے دور کرنے سے نہ روک سکا۔ جلد ہی میرے گھر والوں کو احساس ہوگیا کہ میں ان میں سے ہی ہوں اور وہ مجھ سے اس طرح تعلق نہیں توڑ سکتے۔

میں گھر سے بھاگ کر محلے کے ایک گرو کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ گرو میرے والد سے ملا اور بتایا کہ وہ مجھ پر جتنی سختی کرتا ہے میں اتنی ہی زیادہ مزاحمت کرتی ہوں۔ میرے والدین میرے حالت کو سمجھ گئے اور مجھے تھوڑی زیادہ قبولیت ملی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں جو چاہوں بن سکتی ہوں۔ مجھے کہا گیا کہ میں تعلیم حاصل کروں تا کہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں کی مدد کر سکوں۔ لیکن سب سے اہم چیز یہ تھی کہ مجھے میرے والدین کی سپورٹ حاصل تھی جس کی وجہ سے میں خیر پور کی شاہ عبد الطیف یونیورسٹی سے اکنامکس اور سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اپنی مرضی کی زندگی جینے کی خواہش میری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ تعلیم سے میرے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ میری بہنیں پروفیسر ہیں اور میرے بھائیوں کے اپنے کاروبار ہیں۔ کچھ بھائی سرکاری نوکری بھی کرتے ہیں۔ میری عمر 40 سال سے زیادہ ہے اور میرے پاس یونیورسٹی ایجوکیشن بھی ہے لیکن میں پھر بھی بہت مشکلات میں ہوں۔ یہ چیز بہت تکلیف دہ ہے۔

اس دوران مجھے ایک اچھا گرو اور کراچی کی خواجہ سرا کمیونٹی مل گئی۔ میرے گرو کا کہنا تھا کہ نوکری ڈھونڈنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ صحیح سوچ رہے تھے۔ لیکن میری دوستوں کا خیال تھا کہ چونکہ میں تعلیم یافتہ ہوں اس لیے میری حالت ان سے کہیں بہتر ہے۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ میں ان کی طرح سڑکوں پر بھیک مانگتی پھروں۔ مجھے ایک ٹیکس ریکوری آفیسر کی جاب مل گئی۔ کچھ عرصہ بعد 2014 میں مجھے کراچی ٹرانس کمیونٹی سینٹر چلانے کا حکم دیا گیا ۔ یہ سینٹر سندھ حکومت نے سوشل ویلفئیر منسٹر روبینہ قائم خانی کی لیڈر شپ کے تحت قائم کیا تھا۔

ہر کوئی مجھے سرکاری ادارے میں کام کرتے دیکھ کر بہت خوش تھا لیکن کچھ عرصہ بعد میں ایک بار پھر سڑکوں پر آ چکی تھی۔ مجھے ماہانہ 1500 روپے دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن کچھ عرصہ بعد وہ رقم بھی آنا بند ہو گئی۔پچھلے ایک سال سے مجھے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔ میں نے سینٹر کو جاری رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن اس کے لیے کافی فنڈز موجود نہیں تھے ۔ اب میں اس سینٹر نہیں جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے کراچی کے سرکاری دفاتر میں کام کے لیے خواجہ سراوں کے لیے 2 فیصد کوٹہ مختص کیا لیکن آج تک 2 خواجہ سراوں کو بھی نوکری نہیں مل پائی ہے۔ مردوں اور خواتین کےلیے نوکریوں کے اشتہار آتے ہیں لیکن ان میں خواجہ سراوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ رجسٹرڈ شہری بھی نہیں ہیں۔ شناختی کارڈ بنوانا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ نادرا جانے سے بھی کتراتے ہیں کیونکہ نادرا اہلکار خواجہ سراوں سے بہت بد تمیزی سے پیش آتے اور گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں۔

میں اس کی جو ممکن ہو مدد کرتی ہوں۔ میں اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ نادرا جا تی ہوں۔ میں نے حکومت کے ساتھ مل کر نادرا کے دفتر میں خواجہ سراوں کے لیے علیحدہ خانہ کھولے جانے کے اقدام کو ممکن بنایا۔ خدا کا شکر ہے کہ کچھ نادرا دفاتر میں اب خواجہ سراوں کے لیے علیحدہ ونڈو قائم کر لی گئی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ خواجہ سرا صرف سیکس ورکرز ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر ہم سیکس ورک کرنے لگیں تو ہماری حالت موجودہ حالت سے کہیں زیادہ بہتر ہو۔

courtesy: https://www.dawn.com/news/1336527/i-am-rifee-khan-a-transwoman-in-pakistan

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *