پاکستانیوں کی شہری حس

منیر حسن

munir hassan

دنیا کے ہر حصہ ، ہر برِ اعظم ، ہر ملک کی ایک ثقافت ہوتی ہے اور ہر کسی کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔ سُنے میں آیا ہے کہ یورب کے باشندے قوانین کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ عموماََ ایکٹرونک میڈیا کے مشاہدوں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ وہاں کے پالتو جانوروں کو بھی ملکی قوانین سے مانوس کرایا جاتا ہے جیسا کہ کتّے مالک کی تابعداری کرتے ہوئے قانونی تقاضے سمجھتے ہوئے سڑک پار کرتے ہیں، دیکھا جاسکتا ہے اور کوئی خدا ترس آدمی اس عمل کو دیکھتے ہوئے اپنی سواری کی رفتار کم کرتے ہیں تو وہ پالتو جانور پلٹ کر اپنے لہجے انداز میں شکریہ ادا کرتے ہیں۔اسکے برعکس ہمارے ملک میں آبِ نجومی اندازہ کرتے ہونگے کہ مجال ہے کہ ہم اپنے ملکی قوانین کا احترام کریں۔ اب تو حد یہاں تک ہے کہ بڑی شاہراہوں پر بھی مخالف سمت گاڑی چلانا ہماری سب کی اولین ترجیح بن گئی ہے اور ہر شہری پہلے سڑک سے گزرنا بنیادی و آئینی حقوق سمجھتے ہیں، اس پر ہمیں ذرہ برابر بھی ندامت نہیں ہوتی ہے۔
اگر صفائی ستھرائی کی جانب آئے تو ہم اپنے گھروں میں گندگی نہیں چاہتے مجال ہے کہ ہمارے مہمان خانے میں کوئی تنکا پڑا ہو مگر اپنا کوڑا اپنے پڑوسی کے گھر کے سامنے ڈالنا اولین کام سمجھتے ہیں۔ اگر اس عمل پر پڑوسی اعترازکرے تو ہم اسکے ہاتھ پیڑ توڑنے میں بھی دیر نہیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی صفائی ہوئی بھی تو فراعات یا امیر طبقے کی گلیاں ہیں باقی عوام مبلغ ومگس ہیں۔ کسی بھی بلند عمارت میں جائے یا کسی بھی دفتر میں جائے وہاں پان ونسوار کی غلازت آپ کا ضرور استقبال کریں گی۔ اگر آپ کسی بھی فقہ کی مسجد کے اجتماع جانہ میں جائے تو وہا ں دوسرے فرقے کے خلاف نعرے درج ہیں ، ستم بلائے ستم ان اجتماع خانوں میں غیر اخلاقی ، غیر شرعی اور غیر فطری اعمال کے دعوت نامے بنام دوستی تحریر ہیں۔

dust

اس ضمن میں ایک لطیفہ یاد آگیاکہ میرے چچا کے ایک دوست اسٹیٹ بنک میں ملازم تھے انہوں نے یہ لطیفہ سنایا کہ بعض دفتروں میں کچرا ڈالنے کیلئے ڈبہ رکھا جاتا ہیں اور اُس کے قریب لکھا جاتا ہے کہ ’’مجھے استعمال کریں‘‘ ۔ مجال ہے کہ ہماری روایات میں نہیں ہے کہ ہم اِن ہدایات پر عمل پیرا ہو۔وہاں کوئی غیر ملکی وفد آیا تھا اور انہوں نے اوپر کی منزل جانا تھا اور پیدل جانا تھا۔ جب معمول کے مطابق وہاں کچرا ڈالنے والا ڈبہ رکھا تھا اوراُس کے قریب بھی یہ عبارت درج تھی کہ مجھے استعمال کریں۔ مگر ہمارے کسی مہذب شہری نے اس تحریر کے اوپر اپنے خو ن نمایا پان تھوکا تھا۔ چونکہ لکھائی انگریزی میں تھی اور وفد کا ممبر بھی کوئی خوب انگریز تھا، اتفاقاََ اُسکی نظر اُس تحریرپر پڑی اور چند منٹوں تک دیکھتا رہا اور کافی دیر تک مسکراتا رہا۔ اب آپ خود سوچئے ہم اُس رسول کی اُمت ہیں جنکا پیارا قول ہے کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ تو فیصلہ خود کیجئے نصف ایمان تو کہاں ہمارا ایمان ہی برقرار نہیں۔
1978تک اچھی طرح یاد ہے کہ شہری صفائی کیلئے خاکروب صبح فجر کے وقت آتے تھے اور سورج نکلنے سے پہلے ہی فارغ ہوجاتے تھے۔ آجکل تو اس معیار کی صفائی دیکھنے میں نہیں آتی لیکن آجکل خاکروب اُس وقت آتا ہے جب آپ دفتر جارہے ہو اس میں وہ عین آپ کے سامنے سڑک پر جھاڑو پھیرتا جس کی وجہ سے آپ کو کسی خوشبودار پوڈر لگاکر دفتر جانے کی ضرورت نہیں رہتی ہے خاکروب کا پھیلایا ہوا دھول ہی آپکو اتنا مصر کردیتا ہے کہ آپکا بوس آپ کے واری جانے پر مجبور ہوتا ہے اور آپ پوری انتہا ء کے ساتھ اپنا فرض انجام دینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن میرا دردِ دل ہے جو بیان کردیا۔ ’’کب سکھیں گے قوانین کا احترام ، ہم کب دوبارہ زندہ کریں گے اسلام کی ثناوشانیہ اور کب بحال کریں گے اپنی پاک تہذیب کب تک ہمیں کوئی سکھائے گا چابک اور ڈنڈوں سے ادب اور صفائی کب کرینگیں ہم اپنے ملکی قوانین کی پابندی یہ چیزیں کوئی کسی کے سکھانے کی نہیں‘‘۔ باری اتعالیٰ نے ہر ذی روح کو وہ ہفت کردی ہے کہ صفائی اچھی چیز ہے جانور بھی اپنے اصولوں کی پاسداری ہم انسان سے اچھی کرتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *