جمالیات

وہ ارب پتی خاندان جن کی شاہانہ زندگی سے متاثر ہو کر مشہور ٹی وی شو ’سکسیشن‘ بنایا گیا

Share

حالیہ برسوں کی سب سے مشہور ٹی وی سیریز میں سے ایک ’سکسیشن‘ یعنی جانشینی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچی۔ چار سیزن تک، ناظرین نے لوگن رائے کے بچوں کو ان کی جائیداد کی وراثت کے لیے لڑتے ہوئے دیکھا جو ان کے والد نے کئی دہائیوں کی محنت سے بنائی تھی۔

اس سیریز کے تخلیق کار کچھ اس طرح اس کہانی میں سازشوں، دھوکہ دہی اور ڈارک کامیڈی کا جال بُننے میں کامیاب رہے کہ انھوں نے اپنے پہلے تین سیزنز کے دوران سیریز کو 13 ایمی ایوارڈز دلوائے اور امکان ہے کہ 2023 میں بھی یہ سیریز تمام ایوارڈز کا صفایا کر سکتی ہے۔

سکسیشن کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کا حقیقت سے قریب ہونا ہے کیونکہ اس کے کچھ پلاٹ حقیقی زندگی کی کہانیوں پر مبنی ہیں۔

معروف ٹی وی شو ’سکسیشن‘ کے تخلیق کار جیسی آرمسٹرانگ نے اس بات کو کبھی نہیں چھپایا کہ ان کی کہانی میں لوگن رائے اور دیگر کردار ایسے ہی اصل ارب پتی میڈیا خاندانوں سے متاثرہ ہیں۔

سیریز کے لیے ایک پروموشنل انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’سکسیشن کے لیے ہم نے کافی تحقیق کی تھی۔ ہم بہت سارے مشہور میڈیا خاندانوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر جیسا کہ تمام تخلیقی لوگوں کی طرح، آپ اپنی زندگی میں آنے والے یا موجود مختلف قسم کے رشتوں سے بھی تحریک لیتے ہیں تاکہ ایک ہٹ ٹیلی ویژن سیریز بنا سکیں۔‘

بی بی سی نے کچھ ایسے ارب پتی خاندانوں کا جائزہ لیا جو ’سکسیشن‘ کے لیے تحریک کا باعث بنے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنلاچلان اور جیمز مرڈوک کے درمیان ان کے والد روپرٹ کی جائیداد پر تنازع رہا

مرڈوک خاندان

جب سے پہلی سیریز جاری ہوئی بہت سے لوگوں نے رائے خاندان اور فاکس نیوز کے ارب پتی مالک روپرٹ مرڈوک کے درمیان مماثلت دیکھی۔

92 سال کی عمر میں مرڈوک نے اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش میں برسوں گزار دیے کہ ان کے دو بیٹوں، جیمز یا لاچلان میں سے کون ان کا جانشین ہو گا۔

یہ ایک بڑی نیوز کمپنی ہے جس کی شاخیں آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ میں ہیں۔ وہ معروف اقتصادی روزنامہ وال سٹریٹ جرنل، انگریزی ٹیبلوائڈ دی سن اور پبلشنگ کمپنی ہارپر کولنز جیسے مختلف برانڈز کے مالک ہیں۔

اور جانشینی کی یہ جنگ اتنی عام ہو چکی ہے کہ بااثر میڈیا ہاؤس جیسے نیویارک ٹائمز یا دی نیو یارک میگزین نے دونوں بھائیوں اور ان کے والد کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بارے میں رپورٹس شائع کی ہیں۔

کاروباری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ 2016 میں فوکس کے اپنے فلمی سٹوڈیوز ڈزنی کو ملٹی ملین ڈالر کی فروخت کو جیمز مرڈوک نے اپنے بھائی لاچلان کی مرضی کے خلاف پروموٹ کیا تھا، جو کاروبار کے اس حصے کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

دوسری جانب جیمز فاکس نیوز پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران لیے گئے ادارتی موقف پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

ان کا اختلاف ایسا تھا کہ 2020 میں انھوں نے نیوز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے استعفیٰ دے دیا، ساتھ ہی انھوں نے یہ واضح طور پر کہا کہ ’میرا استعفی کمپنی کے نیوز میڈیا کی جانب سے شائع کردہ کچھ ادارتی مواد کے ساتھ ساتھ کچھ سٹریٹجک فیصلوں سے اختلاف کی وجہ سے ہے۔‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنڈزنی کو ٹوئنٹی فرسٹ سینچری کی فروخت 2019 میں 70 ارب ڈالر سے زیادہ میں مکمل ہوئی

دی ہرٹس خاندان

سیریز کے تخلیق کاروں کے لیے ایک اور واضح تحریک ہرسٹ فیملی تھی، جس کی فوربز میگزین کے مطابق 2021 میں 21,000 ملین امریکی ڈالر کی مالیت تھی۔

وہ سان فرانسسکو کرونیکلز، ایسکوائر میگزین، ای ایس پی این اور اے پلس ای جیسے ٹی وی نیٹ ورک کے مالک ہیں۔

ہرسٹ خاندان کے کاروبار کا آغاز 1887 میں ہوا، جب ولیم رینڈولف ہرسٹ کو اپنے والد سے سان فرانسسکو ڈیلی ایگزامینر ملا اور ہرسٹ کارپوریشن برانڈ کے تحت دیگر اشاعتوں کی خریداری کے ذریعے انھیں 20 ملین سے زیادہ قارئین کے ساتھ ایک بڑی ملکیت میں تبدیل کیا۔

1920 اور 1930 کی دہائیوں کے دوران، ہرسٹ کارپوریشن دنیا کا سب سے بڑا میڈیا گروپ بن گیا، جس نے اس وقت کے سیاستدانوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے کے لیے اپنی ڈائریوں کا استعمال کیا۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناین ہرسٹ ولیم ریڈولف ہرسٹ کی اولاد ہیں، جو اپنے دور کے سب سے اہم میڈیا مالک تھے

مرسرز خاندان

بے پناہ عیش و عشرت اور ’جانشینی‘ کی دنیا میں، رائے اکیلے نہیں ہیں۔ سیریز کے تخلیق کاروں نے امریکہ کے مشہور خاندانوں کے مزید حوالہ جات شامل کرنے کے لیے ثانوی کرداروں کا فائدہ اٹھایا۔

مثال کے طور پر مرسر خاندان نے سیریز کے خاندانوں میں سے ایک کو متاثر کیا جو آن لائن میڈیا کی بڑھتی ہوئی دنیا میں سب سے زیادہ بااثر ہے۔

رابرٹ مرسر ایک ارب پتی ہیں جنھوں نے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی قسمت بنائی۔ انھوں نے حالیہ برسوں میں خود کو ریپبلکن پارٹی کی مالی اعانت کے لیے وقف کر دیا ہے (انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم کے لیے 25 ملین ڈالر سے زیادہ کا عطیہ دیا تھا)۔

مزید یہ کہ رابرٹ اور ان کی بیٹی ربیکا کی بریٹ بارٹ میں براہ راست سرمایہ کاری ہے، جو کہ امریکہ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے دائیں بازو کے نیوز پورٹلز میں سے ایک ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمرسرز نے دائیں بازو کی سائٹ بریٹ بارٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی مہم کی مالی مدد کی ہے

سلزبرگرز خاندان

سیریز کے تخلیق کاروں نے صرف قدامت پسند خاندانوں کا حوالہ نہیں دیا۔ 2019 میں وینٹی فیئر میگزین نے دیکھا کیا کہ کس طرح وہ خاندان جو نیویارک ٹائمز کے اخبار، کا مالک ہے، ’سکسیشن‘ میں رائے کے حریفوں میں سے ایک کے لیے تحریک رہا ہے۔

اخبار نے اپنے سفر کا آغاز 1878 میں ایڈولف اوچس سے کیا اور آج پانچ نسلوں بعد بھی یہ اسی خاندان کے ہاتھ میں ہے۔

سلزبرگرز کو 2016 میں اخبار کے ایڈیٹر اِن چیف کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

جیسا کہ سیریز میں دکھایا گیا ہے، حالیہ برسوں میں نیویارک ٹائمز کی بہت توسیع ہوئی ہے۔ 2022 میں کمپنی نے اطلاع دی ہے کہ اس کے صارفین کی تعداد 10 ملین تک پہنچ گئی ہے۔

سلز
،تصویر کا کیپشنسلزبرگرز کو 2016 میں اخبار کے ایڈیٹر انچیف کے عہدے پر ترقی دی گئی

اور ٹی وی سیریز کی طرح، ٹائمز اپنے ادارتی مواد کی وجہ سے تنقید کی زد میں آیا ہے، جسے کچھ تجزیہ کاروں نے اخبار میں اے جی سلزبرگر کے کردار سے جوڑا ہے۔

اخبار کے ادارتی سیکشن کے ایڈیٹر جیمز بینیٹ نے ایک کالم کی اشاعت پر نیوز روم میں ایک سکینڈل سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس دوران ایک سینیٹر نے مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے فوجی مداخلت کا مطالبہ کیا تھا، جب پولیس افسر کے ہاتھوں افریقی نژاد امریکی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد مظاہرے ہوئے تھے۔