شعیہ اور سنی مختلف اوقات میں روزہ کیوں رکھتے اور کھولتے ہیں ؟ انتہائی شاندار تحریر

th
مفتی امجد عباس
اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں روزے کے افطار کے وقت میں اختلاف پایا جاتا ہے، عام طور پر اہلِ تشیع حضرات، اہلِ سنت کے افطار کے دَس منٹ بعد روزہ
کھولتے ہیں، جبکہ اِس بات پر دونوں گروہ متفق ہیں کہ نمازِ مغرب کا وقت ہی افطار کا وقت ہے۔
اِس حوالے سے قرآن مجید کی طرف رجوع کریں تو روزے کے متعلق ارشاد ہے
ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ
پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔
اِس آیت اور احادیث کی رو سے فریقین کا اتفاق ہے کہ افطار کا وقت، غروبِ آفتاب ہے۔
اختلاف غروبِ آفتاب کے تعین میں ہے۔ آیا صرف سورج کی ٹکیہ کے چھپ جانے کو غروب مانا جائے یا سورج کے چھپ جانے کے بعد، مشرق سے اٹھنے والی سرخی کے ختم ہونے کو وقتِ غروب سمجھا جائے گا؟
اہلِ سنت کے مطابق سورج کی ٹکیہ کا مغرب میں چھپ جانا ہی وقتِ غروب ہے، وہی وقت نمازِ مغرب کی ادائیگی اور افطار کا ہے۔
جبکہ اہلِ تشیع کے ہاں مفتیٰ بہ اور مشہور نظریہ ہے کہ سورج چھپ جانے کے بعد مشرق کی طرف موجود سرخی جب ختم ہوجائے وہ وقتِ غروب ہے، اہلِ تشیع اسے "غروبِ شرعی" جانتے ہیں، اِسی وقت روزہ کھولتے ہیں۔
اہلِ تشیع کے ہاں دو طرح کی روایات پائی جاتی ہیں، بعض روایات میں صرف سورج کے چھپنے کو وقتِ مغرب قرار دیا گیا ہے، ایسی روایات کی رُو سے اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا روزے کا وقت ایک قرار پائے گا۔
بعض دیگر روایات میں تصریح ہے کہ محض سورج کا چھپ جانا کافی نہیں بلکہ مشرقی سرخی کا ختم ہونا بھی لازم ہے۔ تقریباً 20 کے لگ بھگ روایات میں وقتِ مغرب و افطار صرف سورج کے چھپنے کو قرار دیا گیا ہے جبکہ 10 کے لگ بھگ روایات میں مشرقی سرخی کے خاتمے کی بھی شرط ہے۔
ایک صحیح حدیث ملاحظہ ہو عن عبداللّه بن سنان عن أبى عبداللّه عليه‌السلام : « سمعته يقول : وقت المغرب إذا غربت الشمس فغاب قرصها » کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا مغرب کا وقت وہی ہے جب سورج چھپ کر غروب ہوجاتا ہے۔
(وسائل الشيعة : باب ١٦ من ابواب المواقيت ، حديث ١٦)
 جبکہ ایک روایت جو امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے وہ یہ ہے عن بريد بن معاوية عن أبي جعفر عليه‌السلام : « إذا غابت الحمرة من هذا الجانب ، يعنى من المشرق فقد غابت الشمس من شرق الأرض وغربها »
 کہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب مشرق کی جانب سے سرخی ختم ہوجائے، تب حقیقت میں سورج غروب ہو جاتا ہے۔
(وسائل الشيعة : باب ١٦ من ابواب المواقيت ، حديث ١١)
دونوں طرح کی روایات شیخ محمد بن حسن الطوسی رحمہ اللہ کی کتاب "تہذیب الاحکام" میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
روایات کے اختلاف کی وجہ سے شیعہ فقہاء میں بھی وقتِ غروب کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے، زیادہ تر شیعہ علماء سورج کے چھپنے کو وقتِ مغرب قرار دینے والی روایات کو مطلق جبکہ مشرقی سرخی کے خاتمے کی روایات کو مقید قرار دیکر اُنہیں مقدم جانتے ہیں، جبکہ بعض نے سند کی صحت کے پیش نظر ٹکیہ کے چھپنے کو ہی وقتِ غروب قرار دینے والی کو ترجیح دی ہے۔
مشہور شیعہ فقیہ محقق حلی اپنی کتاب "شرائع الاسلام" میں لکھتے ہیں و (یعلم) الغروب : باستتار القرص، و قیل : بذھاب الحمرۃ من المشرق، وھو الاظہر
 کہ وقتِ غروب سورج کا چھپ جانا ہے، لیکن کہا گیا ہے کہ مشرقی سرخی کا غائب ہونا وقتِ غروب ہے، اور یہ قول اظہر ہے۔
ماضی قریب کے معروف شیعی محقق آیت اللہ خوئی رحمہ اللہ نے سورج کے چھپ جانے کو ہی مغرب کا وقت قرار دیا، اگرچہ وہ اِس سلسلے میں فتویٰ میں احتیاط کے قائل تھے۔
عصرِ حاضر کے شیعہ مجتہد آیت اللہ سید علی السیستانی لکھتے ہیں : احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک مشرق کی جانب کی وہ سرخی جو سورج غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے انسان کے سر پر سے نہ گزر جائے وہ مغرب کی نماز نہ پڑھے۔ (توضیح المسائل، مسئلہ 743)
معاصر شیعہ مجتہد سید سعید الحکیم سورج کی ٹکیہ کے چھپنے کو ہی نمازِ مغرب اور افطار کا وقت قرار دیتے ہیں۔
شیعہ قدماء میں سے علامہ ابنِ جنید،علامہ ابن ابی عقیل عمانی، علامہ شیخ طوسی، سید مرتضیٰ علم الھُدیٰ، محقق اردبیلی، شیخ بہائی جیسے علماء قائل تھے کہ مغرب کا وقت سورج کا چھپ جانا ہی ہے، جبکہ زیادہ تر فقہاء نے صریح یا احتیاط کے طور پر سورج کے چھپنے کے علاوہ مشرقی سرخی کے ختم ہونے کی بھی شرط لگائی ہے، یُوں سورج کی ٹکیہ کے چھپنے کے کچھ دیر بعد "افطار" اور نمازِ مغرب کا وقت شروع ہوگا۔ اِسی کے پیش نظر، اہلِ تشیع روزہ ذرا دیر بعد کھولتے ہیں۔
جہاں تک روزہ کھولنے میں تاخیر کی بات ہے تو بعض صحابہ کرام بھی نمازِ مغرب پڑھ کر روزہ افطار کیا کرتے تھے۔
(ملخص از : فقہ الآل، صفحہ 114 و تہذیب الاحکام)
جہاں تک میں سمجھا ہوں تو نمازِ مغرب اور افطار کا وقت، سورج کا چُھپ جانا ہی ہے، جن روایات میں مشرقی سُرخی کے ختم ہونے کی بات کی گئی ہے، وہ احتیاط پر مبنی ہیں کہ سورج کے ڈوبنے کا یقین حاصل ہوجائے۔ عصرِ حاضر میں سائنس کی مدد سے سورج کے ڈوبنے کا علم ہو جاتا ہے ایسے میں احتیاط  بہرکیف بہتر ہے، جہاں دن بھر بندہ صبر کر لیتا ہے وہیں مزید چند منٹ صبر کر لینا ہرگز غلط نہیں۔
یاد رہے کہ سحری کے وقت میں اہلِ تشیع اور اہلِ سنت میں کوئی اختلاف نہیں، اہلِ تشیع "احتیاط" کرتے ہوئے، چند منٹ پہلے کھانا، پینا بند کر لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *